ایران کو 20 سال تک یورینیم افزودگی روکنا ہوگی، امریکا

اکسیوس ویب سائٹ نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 20 سال تک یورینیم کی افزودگی روک دے۔ عرب میڈیا کے مطابق یہ مطالبہ رواں ہفتے کے آغاز میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی وفد نے اس امریکی مطالبے کے جواب میں کم مدت کی تجویز پیش کی اور ذرائع کے مطابق ایران نے تقریباً ایک دہائی (10 سال) کے لیے افزودگی روکنے کی پیشکش کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام خاص طور پر یورینیم کی افزودگی روکنے اور موجودہ ذخائر سے دستبردار ہونے کا معاملہ کسی بھی معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران دوبارہ مذاکرات کب ہو رہے ہیں، تاریخ سامنے آگئی
امریکا نے ایران سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے تمام زیادہ افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرے، تاہم ایران نے اس کے بجائے افزودگی کی سطح کم کرنے کے لیے نگرانی کے عمل پر رضامندی ظاہر کی۔ اسی تناظر میں ایک امریکی عہدیدار نے ”اکسیوس ”کو بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے کے دروازے اب بھی کھلے ہیں اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں میں کچھ پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یورینیم کی افزودگی اور موجودہ ذخائر کا مستقبل اب بھی معاہدے کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔
ایک علاقائی ذرائع اور امریکی عہدیدار کے مطابق پاکستان، مصر اور ترکیہ کے ثالثین دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اختلافات کم کیے جا سکیں اور 21 اپریل کو جنگ بندی کے خاتمے سے قبل کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ اندازوں کے مطابق تمام فریق اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدہ ممکن ہے اور ثالثین کو امید ہے کہ اختلافات کم ہونے سے جلد ایک نئی مذاکراتی نشست منعقد ہو سکتی ہے۔ ایک علاقائی ذرائع نے کہا کہ مذاکرات مکمل طور پر ناکام نہیں ہوئے بلکہ فریقین اس وقت سودے بازی کے مرحلے میں ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ اگر ایران مزید لچک دکھائے اور اسلام آباد میں پیش کی گئی تجویز کو بہترین دستیاب پیشکش کے طور پر قبول کرے تو معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔
مزید پڑھیں: 18اپریل تک تمام غیر ملکیوں کو مکہ مکرمہ چھوڑنے کا حکم
دوسری طرف پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ مذاکرات ناکام نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے ایک سفارتی راستہ فراہم کیا ہے، جسے اعتماد اور سیاسی عزم کے ذریعے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات میں سب سے اہم اختلافات ایران کے جوہری پروگرام پر سامنے آئے، جہاں امریکا نے یورینیم کی افزودگی روکنے اور زیادہ افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ ایران کی جانب سے جوہری رعایتوں کے بدلے منجمد مالی اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ بھی ایک اہم نکتہ اختلاف رہا۔