امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کا عملاً محاصرہ کر دیا ہے اور امریکی بحری جہازوں کے قریب آنے والے ایرانی بحریہ کے کسی بھی جہاز کو تباہ کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور اب بھی مذاکرات کی میز پر واپس آ سکتا ہے۔
دوسری جانب صہیونی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل صدر ٹرمپ کے بحری محاصرے کے فیصلے کی مکمل حمایت کرے گا۔ تاہم نیٹو اتحادیوں نے اس اقدام سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس منصوبے میں شامل نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف جنگ کے خاتمے کے بعد ہی کردار ادا کریں گے اور محاصرے کا حصہ بن کر تنازع میں فریق نہیں بننا چاہتے۔
ادھر چین نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی عالمی مفادات کے خلاف ہوگی اور تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے، ساتھ ہی بحران کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔
اس کے جواب میں ایرانی فوج اور بحریہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبی گزرگاہ کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز سے بھرپور طاقت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ ایرانی حکام نے امریکی پابندیوں کو قزاقی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کو خطرہ لاحق ہوا تو خلیج کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔

