فارسی کا مقولہ ہے: ”عَدُوّ شرے برانگیزد کہ خیرِ ما دراں باشد”، یعنی دشمن اپنے منصوبے کے مطابق شر بپا کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے اس سے خیر برآمد فرمالیتا ہے۔ سیرتِ نبوی میں اس کی ایک نمایاں مثال یہ ہے: ”صلح حدیبیہ کے موقع پر مشرکینِ مکہ نے ایک شرط یہ رکھی کہ معاہدۂ حدیبیہ کے بعد مدینۂ منورہ سے جو شخص منحرف ہوکر مکۂ مکرمہ آئے گا، اسے مکۂ مکرمہ میں پناہ دے دی جائے گی، جبراً واپس نہیں کیا جائے گا، اس کے برعکس اگر کوئی مکۂ مکرمہ سے اسلام قبول کر کے مدینۂ منورہ جائے گا، تو اُسے مدینے میں پناہ نہیں دی جائے گی، بلکہ جبراً واپس بھیج دیا جائے گا”۔
ابھی معاہدہ ضبطِ تحریر میں لایا جانا تھا کہ کفار ِ مکہ کے سفارتی نمائندے سہیل بن عمرو کا فرزند ابوجندل، جو مسلمان ہو چکا تھا اور اُسے زنجیروں میں جکڑ دیا گیا تھا، زنجیروں کو گھسیٹتا ہوا حدیبیہ پہنچ گیا۔ مسلمان انھیں دیکھ کر بے انتہا خوش ہوئے اور بڑے تپاک سے ان کو خوش آمدید کہا۔ اس کا باپ سہیل ابھی وہیں تھا، اس نے اپنے بیٹے کو دیکھا تو غصے سے بے قابو ہوگیا، ایک خاردار ٹہنی پکڑی اور اس کے منہ پر پیہم ضربیں لگانا شروع کر دیں، اسے گریبان سے پکڑ کر گھسیٹنے لگا اور کہنے لگا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! یہ پہلا آدمی ہے جس کی واپسی کا میں آپ سے مطالبہ کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی معاہدہ لکھا جا رہا ہے، اس پر دستخط بھی نہیں ہوئے، معاہد ہ اس وقت واجب العمل ہوتا ہے جب فریقین اس پر دستخط کردیں، اس نے کہا: اگر آپ میرے لڑکے کو واپس نہیں کریں گے تو میں معاہدے سے دستبردار ہو جائوں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سہیل! تو اسے میرے لیے معاف کر دے اور ہمارے پاس رہنے دے، لیکن اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس فرمائش کو ردّ کردیا۔ ابوجندل نے دیکھا کہ مجھے پھر ظالم باپ کی تحویل میں دے دیا جائے گا اور وہ مجھ پر پہلے سے بھی زیادہ مشق ستم کرے گا تو اس نے فریاد کرنا شروع کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجندل کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا: ”ابوجندل! صبر کرو اور اللہ سے اجر کی امید رکھو، یقینا اللہ تعالیٰ تمہارے اور تمہارے کمزور ساتھیوں کے لیے نجات کی صورت مقدر فرمائے گا، ہم نے قریش کے ساتھ صلح اور ان کے ساتھ عہد وپیمان کیا ہے، اب ہم عہد شکنی نہیں کر سکتے”۔
ایک اور نوجوان جو دعوت حق قبول کرنے کی پاداش میں عرصہ دراز سے اپنے خاندان کے جور وستم کا تختۂ مشق بناہوا تھا، کسی طرح اپنی زنجیروں کو کاٹ کر ان کے عقوبت خانہ سے نکل جانے میں کامیاب ہوگیا، یہاں آئے ہوئے تین دن گزرے ہوں گے کہ اس کے دو رشتہ دار اس کو ڈھونڈتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور کہا: ہمارا ایک عزیز ابوبصیر بھاگ کر آپ کے پاس پہنچ گیا ہے، معاہدے کے مطابق اسے ہمارے حوالے کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبصیر کو بلایا اور ان دو آدمیوں کے حوالے کردیا اور فرمایا: تم ان دونوں کے ساتھ چلے جائو، انھوں نے عرض کی: یارسول اللہ! آپ مجھے کافروں کے پاس بھیج رہے ہیں، ایسا نہ ہو کہ وہ مجھے آزمائش میں مبتلا کر کے ایمان سے محروم کردیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت ملائمت سے فرمایا: ”ابوبصیر! تم جانتے ہو ہم نے اس قوم کے ساتھ معاہدہ کیا ہے اور ہمارا دین ہمیں عہد شکنی کی اجازت نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اور تمہاری طرح دوسرے مسلمانوں کے لیے بھی نجات کی کوئی صورت مقدر فرما دے گا”۔ انھوں نے پھرعرض کی: یارسول اللہ! آپ مجھے مشرکین کے حوالے کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبصیر! چلے جائو، اللہ تعالیٰ بہت جلد تمہاری نجات اور رہائی مقدر فرمائے گا”۔
مسلمانوں کے لیے یہ دونوں مناظر انتہائی کرب واذیت کا باعث تھے، لیکن انھیں سینے پر پتھر رکھ کر اس صدمے کو برداشت کرنا پڑا۔ ابوبصیر راستے میں ایک تدبیر کے ذریعے ان میں سے ایک کو قتل کر کے مدینۂ منورہ آگئے اور دوسرا خود پناہ لینے کے لیے حضورکے پاس پہنچ گیا، آپ نے اسے پناہ دے دی، لیکن ابوبصیر کو واپس جانے کا حکم دیا، وہ سیف البحر یا عیص کے مقام پر قیام پذیر ہوئے، دوسری طرف جب سہیل نے سنا کہ ابوبصیر نے ہمارے ایک آدمی کو قتل کردیا ہے تو اسے بڑا رنج ہوا، وہ غصے سے کہنے لگا: ہم نے اس لیے تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ معاہدہ نہیں کیا تھا، قریش نے سنا تو کہا: انھوں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے، ہمارے آدمی کو تمہارے آدمیوں کے حوالے کر دیا، راستے میں اگر اس نے تمہارے ایک آدمی کو قتل کر دیا تو اس کی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہوتی۔
بعض دوسرے مسلمان بھی جو اپنے رشتہ داروں کے ظلم وستم سے تنگ تھے، ابوبصیر کے پاس سیف البحر کے مقام پر پہنچنے لگے، ابوجندل بھی ستّر افراد کے ساتھ وہاں پہنچ گئے، اس طرح تقریباً تین سو کی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے، حضرت ابوجندل ان کی امامت کرتے تھے، اگر کوئی تجارتی قافلہ وہاں سے گزرتا تو لوگ اسے لوٹ لیتے، اگر کوئی مقابلہ کرتا تو اسے موت کے گھاٹ اتار دیتے، ان کی روز مرہ کی کارروائیوں سے اہل مکہ کے اوسان خطا ہوگئے، آخر مجبور ہوکر انھوں نے ابوسفیان کوکہا کہ وہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کریں کہ آپ اپنے آدمیوں کو اپنے پاس بلالیں، ہم کوئی اعتراض نہیں کریں گے۔ اِس کے بعد ہمارا جو آدمی آپ کے پاس آئے، اُسے اپنے پاس رکھ لیں، ہم صلح نامے کی اِس شرط کو منسوخ کرتے ہیں۔ ابوسفیان اپنے وفد کے ساتھ حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوا، بڑی منت سماجت اور عجز ونیاز سے درخواست پیش کی کہ اس شرط کو منسوخ کردیں اور ابوبصیر اور ابوجندل کو واپس بلالیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی درخواست کو شرفِ قبولیت بخشا اور اپنے دونوں مجاہدوں ابوجندل اور ابوبصیر کی طرف نوازش نامہ لکھا کہ وہ اپنے مسلمان ساتھیوں کو ہمراہ لے کر مدینہ پہنچ جائیں اور باقی لوگوں کو اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جانے کی ہدایت کر دیں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا گرامی نامہ ابوبصیر اور ابوجندل کے پاس پہنچا تو اس وقت ابوبصیر حالتِ نزع میں تھے، انھوں نے اپنے آقا کا عاطفت نامہ ہاتھ میں لے کر پڑھنا شروع کیا کہ روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی، ابوجندل نے تجہیز وتکفین کے بعد نماز جنازہ پڑھائی۔ سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ ان کے مزار پرانوار کے پاس مسجد تعمیر کی گئی تاکہ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے جب اس مسجد میں اپنے پروردگار کو سجدہ کرنے سے فارغ ہوں تو انہیں ایک سچے عاشقِ رسول کے مزارِ مبارک کی زیارت ہو جائے، (ضیاء النبی، تلخیص، ج: 4، ص: 153-164)۔
الغرض معاہدۂ حدیبیہ کی یہ شرط جو قریشِ مکہ نے مسلمانوں کے خلاف شامل کی تھی، اللہ کی تقدیر سے وہ خود اُن کے خلاف پڑ گئی اور مسلمانوں کے لیے اس میں سے خیر کی صورت برآمد ہوئی اور آخرکار قریش کو خود اس شرط کو منسوخ کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کرنی پڑی، جسے آپ نے منظور فرما لیا۔
حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں دیکھیں تو اسرائیل اور امریکا نے بزعمِ خویش ایران پر اُسے نیست ونابود کرنے اور نشانِ عبرت بنانے کے لیے ظالمانہ اور سفاکانہ حملہ کیا، اُن کا زُعمِ باطل یہ تھا کہ ایران پہلے ہی ہلّے میں گھٹنے ٹیک دے گا اور شکست تسلیم کرلے گا لیکن ان کی یہ خوش فہمی ہوا ہوگئی اور ایران نے مثالی استقامت کا مظاہرہ کیا اور یہ اَفسوں (Myth ) ہی ٹوٹ گیا کہ اسرائیل اور امریکا کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا، چیلنج کرنا یا اُن کا چیلنج قبول کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ اس کی مثال یوں ہے: ایک بستی کا ڈان تھا، اس کا بے پناہ رعب تھا، جس کو چاہتا نشانِ عبرت بنا لیتا، آخر ایک زخم خوردہ کمزور شخص نے اسے تھپڑ مار دیا اور پھر وہ ڈان اس بستی میں رہنے کے قابل نہ رہا۔ آج کچھ یہی صورتحال نتن یاہو اور ٹرمپ کی ہے کہ ٹرمپ روز بیان بدلتا ہے، پچھلے دعوے بھول جاتا ہے اور نئے دعوے کرتا ہے، مگر خود امریکا میں اس کے خلاف احتجاجی جلوس نکل رہے ہیں، نیٹو کے اتحادی اس سے براء ت کا اعلان کر رہے ہیں، ایران کے لیے فتح کا یہی تصور کافی ہے۔ تاریخ فیصلہ کرے گی کہ آیا ایران کے پاس ان عظیم نقصانات سے بچنے کے لیے کوئی متبادلہ راستہ ممکن تھا۔

