ایران امریکا 40 روزہ جنگ کا اصل فاتح روس ؟

رپورٹ:ابوصوفیہ چترالی
امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف چھیڑی جانے والی حالیہ جنگ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی خطے کی غیرمعمولی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے جغرافیائی توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان پہلے سے موجود دراڑوں کو بھی مزید نمایاں کردیا ہے۔
برطانوی اخبار ٹائمز اور امریکی جریدے نیوزویک کے تازہ اور ابتدائی تجزیاتی مباحث اِس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس بحران کا ایک غیرمتوقع مگر نمایاں فائدہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو پہنچ گیا ہے، جو براہِ راست اس جنگ کا حصہ نہ ہونے کے باوجود سیاسی، اقتصادی اور تزویراتی فوائد سمیٹے ہیں۔ اگرچہ دونوں متحارب فریق فتح کے شا دیانے بجا رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ روس اصل فاتح بن کر ابھرا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گیس و تیل کی قیمتیں کب کم ہوں گی، ماہرین نے بتا دیا
جنگ کے ابتدائی دنوں میں عالمی مبصرین کا خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران پر کارروائی روس کے لیے ایک سفارتی اور جیوپولیٹیکل دھچکا ثابت ہوگی۔ توقع یہ تھی کہ ایران جو روس کا ایک اہم علاقائی اتحادی ہے کمزور ہوگا اور یوں ماسکو کا مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ بھی محدود ہوجائے گا۔ حتی کہ بعض تجزیہ کاروں نے اسے روسی خارجہ پالیسی کی ایک اور بڑی ناکامی بھی قرار دیا، خاص طور پر اس تناظر میں کہ روس پہلے ہی شام میں بشارالاسد کے زوال اور دیگر علاقائی تبدیلیوں کے باعث دباو میں تھا۔ تاہم نیوزویک نے اپنے ابتدائی تجزیے میں ایک بالکل مختلف زاویہ پیش کیا تھا اور یہی بات درست ثابت ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز ہی میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ امریکا کی ایران میں مداخلت دراصل غیراِرادی طور پر روس کے لیے اسٹرٹیجک مواقع پیدا کرسکتی ہے۔ اس تجزیے نے اس وقت زیادہ توجہ حاصل نہیں کی لیکن بعد کے واقعات نے اس کے کئی نکات کو درست ثابت کردیا۔
ٹائمز کے مطابق جنگ کے دوران ایران میں ریجیم کا تبدیل نہ ہونا اور شدید حملوں کے باوجود اس کا سیاسی ڈھانچہ برقرار رہنا روس کے لیے ایک اہم سفارتی موقع بن گیا۔ ماسکو نے فوری طور پر اس صورتحال کو اس انداز میں پیش کیا کہ گویا ایران نے امریکا کے خلاف سیاسی مزاحمت میں برتری حاصل کی ہے، چاہے زمینی حقائق کچھ بھی ہوں۔ روس نے اس بیانیے کو اپنے مغرب مخالف موقف کے ساتھ جوڑ کر یہ تاثر مضبوط کیا کہ عالمی سیاست میں طاقت ہی اصل فیصلہ کن عنصر ہے۔ اس طرح ایران کا جزوی طور پر برقرار رہنا روس کے لیے ایک علامتی جیت بن گیا، جسے وہ اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابی کے طور پر پیش کررہا ہے۔ نیوزویک نے جنگ کے آغاز میں ہی اپنے تجزیے میں یہ نکتہ پیش کیا تھا کہ امریکا کی ایران کے خلاف کارروائی دراصل پیوٹن کے لیے ایک غیرمتوقع تحفہ ثابت ہوسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ روس بظاہر اس تنازع میں شامل نہیں لیکن اس کے اثرات متعدد محاذوں پر ماسکو کے حق میں جا سکتے ہیں۔ یہ رپورٹ پانچ بڑے اسٹرٹیجک فوائد کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اس جنگ کے نتیجے میں روس کو حاصل ہو سکتے ہیں اور بعد کے واقعات نے ان نکات کو خاصی حد تک تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران میں تباہ ہونے والے امریکی طیارے کے پائلٹ کو بچانے کی کہانی
نیوزویک کے مطابق اس جنگ کا سب سے اہم اثر یہ ہے کہ عالمی سطح پر طاقت کے استعمال کو ایک بار پھر قابلِ قبول سیاسی ہتھیار کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔ امریکا کی جانب سے ایران پر حملے کو خطرے کے خاتمے کے جواز کے تحت پیش کیا گیا، جسے روس اپنے حق میں دلیل کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ماسکو کا موقف یہ ہے کہ اگر امریکا اپنے مفادات کے لیے طاقت استعمال کرسکتا ہے تو روس کو بھی یوکرین کے معاملے میں اسی منطق کے تحت دیکھا جانا چاہیے۔ اس طرح بین الاقوامی قانون کی روایتی حیثیت مزید کمزور ہوتی نظر آرہی ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ واشنگٹن کی توجہ مشرقِ وسطیٰ پر مرکوز ہونا یوکرین جنگ کے تناظر میں روس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا۔ امریکا کی سفارتی، عسکری اور سیاسی توانائیاں جب ایک سے زیادہ محاذوں پر تقسیم ہوئیں تو یوکرین کی جنگ عالمی ایجنڈے میں نسبتاً پیچھے چلی گئی۔ اس کا فائدہ روس کو یہ ہوا کہ اسے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے اضافی وقت مل گیا، جو جنگی حکمت عملی میں نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔

برطانوی اخبار کے مطابق امریکا ایران جنگ کا غیرمتوقع فائدہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو پہنچا ہے

تیسرا فائدہ: تیل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت سامنے آیا۔ جنگ کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہوا۔ آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی نے خام تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا جو روس کے لیے معاشی طور پر ایک بڑا فائدہ ہے۔ نیوزویک نے ابتدائی طور پر ہی لکھا تھا کہ اگر بحران بڑھتا ہے تو تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی بڑھ سکتی ہیں۔ روس، جو یومیہ لاکھوں بیرل تیل برآمد کرتا ہے، اس اضافے سے براہِ راست مالی فائدہ حاصل کرتا ہے جو اس کی یوکرین جنگی معیشت کے لیے اہم ہے۔چوتھا فائدہ یہ کہ مغربی اتحاد میں دراڑیں پڑ گئیں۔ اس جنگ نے نیٹو اور مغربی اتحاد کے اندر پہلے سے موجود اختلافات کو مزید گہرا کردیا ہے۔ بعض یورپی ممالک کو یہ شکایت رہی کہ امریکا نے اہم فیصلے تنہا کیے، جس سے اتحاد کی داخلی ہم آہنگی متاثر ہوئی جبکہ ٹرمپ کی دہائیوں کے باوجود یورپ نے اس جنگ میں شرکت سے صاف انکار کردیا۔ نیوزویک نے اپنے تجزیے میں اس پہلو کو خاص طور پر نمایاں کیا تھا کہ روس کا طویل المدتی ہدف مغربی اتحاد کو کمزور کرنا ہے اور ایسے بحران اس مقصد کو غیرارادی طور پر تقویت دیتے ہیں۔ اگر مغرب کے اندر اعتماد کمزور ہوتا ہے تو روس کو سفارتی سطح پر فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
پانچواں اور روس کے لیے سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ عالمی توجہ یوکرین سے ہٹ کر مشرقِ وسطیٰ کی طرف منتقل ہوگئی ہے۔ توجہ کی تقسیم روس کے لیے ایک اسٹرٹیجک سانس لینے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ جب عالمی میڈیا، سفارتکاری اور دفاعی پالیسی ساز ایران کے بحران میں مصروف ہوں تو یوکرین کا معاملہ نسبتاً کم دباو کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جسے روس اپنے لیے انتہائی مفید سمجھتا ہے۔ تاہم دونوں رپورٹس یہ بھی تسلیم کرتی ہیں کہ روس کے لیے یہ صورتحال مکمل طور پر یکطرفہ فائدہ نہیں رکھتی۔ ایران‘ روس کا ایک اہم اسلحہ اور توانائی شراکت دار ہے۔ اگر ایران کمزور ہوتا ہے تو روسی اسٹرٹیجک نیٹ ورک کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لیکن مجموعی تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ روس کے لیے اصل فائدہ ایران کی مکمل فتح یا شکست نہیں بلکہ تنازع کا طویل ہونا ہے، کیونکہ یہی وہ صورت ہے جو امریکا کو مسلسل مصروف رکھتی ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ اس جنگ میں سب سے بڑا فائدہ کسی فوجی فتح کی صورت میں نہیں بلکہ وقت کی شکل میں ظاہر ہورہا ہے۔ روس کے لیے یہ وقت اس قابل قدر موقع کی نمائندگی کرتا ہے جس میں امریکا ایک سے زیادہ محاذوں میں الجھا ہوا ہے، عالمی توانائی قیمتیں بلند ہورہی ہیں، مغربی اتحاد اندرونی دباو کا شکار ہے اور یوکرین کا بحران پس منظر میں چلا جارہا ہے۔ یوں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایران کی جنگ کے شور میں ایک خاموش مگر انتہائی اہم فاتح ابھر رہا ہے: ولادیمیر پیوٹن، جو براہِ راست میدان میں موجود نہیں مگر عالمی سیاست کے پیچیدہ کھیل میں وقت، توانائی اور تقسیم کے ذریعے اپنا اثر مسلسل بڑھا رہے ہیں۔