مضمون: غلام صدیق۔ چکوال
آپ نے ابتداء ہی میں اسلام قبول کیا جبکہ ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دارِارقم میں پناہ گزیں نہیں ہوئے تھے۔ (طبقات ابنِ سعد)
آپ ؓکی کنیت ابومحمد، والدہ اُمیمہ، عبدالمطلب کی صاحبزادی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سگی پھوپھی تھیں، والد کا نام جحش تھا۔ مشرکین مکہ کے ظلم وستم سے یہ خاندان بھی محفوظ نہ تھا۔ دومرتبہ سرزمین حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی، پھر واپس آکر اپنے قبیلے کے تمام افراد کو جو دائرہ اسلام میں داخل ہوچکے تھے، ساتھ لے کر مدینہ منورہ پہنچے۔ حضرت عاصم بن ثابت بن ابی افلح انصاری رضی اللہ عنہ نے اُن کے تمام قبیلے کو اپنا مہمان بنایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں بھائی چارا قائم فرمادیا تھا۔ (طبقات ابنِ سعد)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ اُحد سے ایک روز پہلے میں نے اور عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک ساتھ دعا مانگی تھی۔ میری دعا کے بعد انہوں نے یوں دعا مانگی: ”اے اللہ! مجھے ایسا مدِ مقابل عطا کر جو نہایت بہادر ہو، میں تیری راہ میں اس سے لڑوں یہاں تک کہ وہ مجھے قتل کرکے ناک، کان کاٹ ڈالے، جب میں تجھ سے ملوں اور تُو فرمائے اے عبداللہ! یہ تیرے کان، ناک کیوں کاٹے گئے تو میں عرض کروں تیرے لیے اور تیرے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے“ اور یہ تمنا اِس قدر تھی کہ قسم کھا کر کہتے تھے: ”اے اللہ! میں تیری قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں دشمن سے لڑوں گا یہاں تک کہ وہ مجھے قتل کرکے میرا مثلہ کر ڈالے گا۔“ (اسد الغابة)
یہ بھی پڑھیں: کچھ توجہ یہاں بھی ہو !
رجب 2ھ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو ایک لشکر کا امیر بنایا اور حکم دیا کہ مکہ اور طائف کے درمیان جو نخلستان ہے وہاں پہنچ کر قریش کی نقل و حرکت اور دوسرے ضروری حالات کا پتا چلائیں۔ چنانچہ نہایت ادب کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ نے اس حکم کی تعمیل فرمائی۔ غزوہ بدر و غزوہ اُحد دونوں میں شریک رہے۔ جفاکشی اُن کی فطرت میں داخل تھی۔ چنانچہ نخلستان کی مہم پر مامور کےے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے ساتھیوں سے فرمایا: ”گو عبداللہ تم لوگوں میں سب سے بہتر نہیں تاہم بھوک، پیاس کی سختیوں کو زیادہ برداشت کرسکتا ہے“۔ (اسدالغابة)
مزید پڑھیں: مدارس میں تعلیم کا آغاز اور نئے اساتذہ!
اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے اُن کو تمام دنیا سے بے نیاز کردیا تھا۔ انہیں اگر کوئی تمنا تھی تو صرف یہ کہ جان عزیز کسی طرح اللہ تعالیٰ کے راستہ میں نثار ہوجائے۔ چنانچہ آرزو پوری ہوئی اور ” المجدع فی اللّٰہ “ یعنی گوش بریدہ راہ خدا ( اللہ تعالیٰ کے راستہ میں کان کٹانے والے) اُن کے نام کا فصلِ امتیاز ہوگیا۔ (اسد الغابة) 7شوال 3ھ بروزہفتہ اُحد کا میدان گرم ہوا۔ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ اس جوش سے لڑے کہ تلوار ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو کھجور کی چھڑی مرحمت فرمائی، جس نے اُن کے ہاتھ میں تلوار کا کام دیا ،دیر تک لڑتے رہے، بالآخر اسی حالت میں ابوالحکم بن اخنس ثقفی کے وار نے شہادت کی تمنا پوری کردی۔ مشرکین نے مثلہ کیا اور ناک، کان کاٹ کر دھاگے میں پروئے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو بولے: ”خدا کی قسم! عبداللہ کی دعا میری دعا سے بہتر تھی“۔ چالیس برس سے کچھ زیادہ عمر پائی۔ اپنے ماموں سیدالشہداء حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک قبر میں دفن ہوئے۔ (اسدالغابة)
پیارے اللہ! ہمیں بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق مرحمت فرما۔ آمین!

