منگل اور بدھ 7اور 8اپریل 2026ء کی درمیانی رات دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کے لیے بہت بھاری تھی۔ کیا مسلمان، کیا کفار اور کیا منافقین، سب اسی فکر میں تھے کہ اگلی صبح پاکستانی وقت کے مطابق 5بجے بدمست ہاتھی کیا کرتا ہے اور جواباً بگڑا بچہ کیا اندھیر مچاتا ہے۔ اِسلامی جمہوریہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کئی روز سے مصر، ترکی، سعودیہ، چین اور روس سمیت کئی ممالک کے تعاون سے بدمست ہاتھی اور بگڑے بچے دونوں کو سمجھانے بجھانے میں مشغول تھی لیکن جس طرح گلی محلوں میں عموماً منظر نظر آتا ہے کہ چھڑانے والے جتنی جتنی کوشش کرتے ہیں، بپھرے ہوئے نوجوان اچھل اچھل کر خود کو چھڑاتے اور ایک دوسرے پہ حملہ کرتے ہیں، کچھ یہی کیفیت ان دونوں کے بیچ بھی تھی۔ منگل 7اپریل کو بگڑے بچے نے مقدس سرزمین کے ”ملک” پر حملہ کیا، جیسے وہ آئے دن کرتا آرہا تھا۔ یہ حملہ ہونا تھا کہ پاکستان کا موڈ ٹھیک ٹھاک خراب ہوگیا اور اس نے علیٰ الاعلان اپنی رائے کے اظہار کے ساتھ بگڑے بچے کو بھی پیغام دے دیا کہ تمہیں سمجھاتے ہوئے ڈیڑھ مہینہ ہوگیا ہے تم بار بار وعدہ کرتے ہو لیکن پھر وعدے سے پھر جاتے ہو۔ ہمارا مقدس سرزمین کے والی سے معاہدہ ہے اور اگر تم نے اب کوئی ایسی حرکت کی تو نہ صرف ہم صلح کی کوشش ترک کر دیں گے بلکہ اپنے معاہدے کی پاس داری کے لیے مقدس سرزمین کے ساتھ عملاً کھڑے ہو جائیں گے۔
بدمست ہاتھی بھی بہت بگڑا ہوا تھا، اس کی اپنی طاقت اس کی اپنی سمجھ سے باہر تھی، مبینہ طور پر اسے مار پڑ رہی تھی لیکن اب کے مار کے دیکھ اور اب کے مار کے دیکھ بھی کیے جا رہا تھا اور موقع پاکر اندھا دھند کارروائیاں بھی کر رہا تھا، کروڑوں انسانوں کی زندگیاں داؤ پہ لگی ہوئی تھیں۔ کئی مبصرین اور تجزیہ کار بدمست ہاتھی کی طرف سے ایٹم بم مارے جانے کو خارج از امکان نہیں قرار دے رہے تھے۔ بدمست ہاتھی ہو یا بگڑا بچہ دونوں کو دراصل ایک دوسرے پر بڑا مان تھا اور جب محبت گہری ہو اور محبت کا بھرم ٹوٹ جائے تو پھر ان دونوں کے بیچ جو جنگ ہوتی ہے وہ بہت عجیب و غریب اور تاریخی ہوتی ہے۔ دو حقیقی دشمنوں کے بیچ جنگ اتنی خطرناک نہیں ہوتی جتنی دو محبوبوں کے بیچ ہوئی جنگ خطرناک ہوتی ہے۔ جوں جوں وقت گزر رہا تھا اُمیدیں دم توڑ رہی تھیں۔ کچھ ذرائع تو بالکل ناامید ہو گئے تھے، کچھ امید و یاس کے بیچ تھے اور کچھ بہت پُرعزم بھی (اگرچہ دل ان کا ٹوٹا ہوا تھا) لیکن ہمت جوان تھی بلکہ نوجوان تھی وہ لگے ہوئے تھے، خبروں پر نظر رکھنے والے لوگ شب بیداری کر رہے تھے کہ نہ جانے کب کیا خبر آ جائے۔ رات کے آخری پہر پہلے بدمست ہاتھی نے بڑا پن دکھایا اور ڈیڈ لائن کو دو ہفتے آگے بڑھانے سمیت حملے بند کرنے پر راضی ہوا۔ بگڑے بچے کے پاس بھی کوئی راستہ نہیں بچا تھا، کچھ پلٹنیاں اس نے کھائیں، لیکن آخر اس نے بھی ہاں کر دی۔ سب سے بڑا خطرہ اور خدشہ بدمست ہاتھی کے منظور نظر اور سرزمین فلسطین پر قابض بدمعاشِ اعظم کی طرف سے تھا، اس کی ذمے داری بدمست ہاتھی کو لینا پڑی۔ گتھم گتھا یہ تینوں بات چیت، سوچنے سمجھنے پر راضی ہو گئے۔ اب غالباً بدمست ہاتھی اور بگڑے بچے کی نمائندگی کے لیے وفود تشکیل پائیں گے اور جمعہ 10اپریل کو اسلام آباد کی میزبانی میں دونوں آمنے سامنے ہوں گے۔
بگڑے بچے نے پہلے فروری کے شروع میں بھی ایک موقع ضائع کیا اور براہ راست بدمست ہاتھی کو اپنے دام میں لانا چاہا، تب بھی پاکستان بیچ میں تھا لیکن مذاکرات کو عمان منتقل کروا کے پاکستان کو مکھن سے بال کی طرح نکال دیا اور پھر ان مذاکرات کا جو حشر ہوا، وہ دنیا نے بھی دیکھا اور خود بگڑے بچے کے بھی ہوش اڑ ے۔ ہوا میں اڑنے کا شوق ہی کافی نہیں ہوتا، صلاحیت بھی ہونی چاہیے۔ اندھا دھند ہوا میں اڑنے کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ منہ کے بل گرنا پڑتا ہے، چنانچہ یہی حال بگڑے بچے کا بھی ہوا۔
پاکستان کی عسکری قیادت کے سربراہ فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر اور حکومت کے سربراہ میاں جی شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ڈیڑھ ماہ کی جدوجہد کے بعد ان دونوں کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار کیا، میزبانی پیش کی، پہلے تو یہ پروں پہ پانی ہی نہیں پڑنے دے رہے تھے لیکن جب کوئی راستہ نظر نہیں آیا تو پاکستان کو اماں ابا بنانے پر تیار ہوگئے۔ کچھ لوگ اس پر غصے میں تھے کہ پاکستان اس جنگ میں حصہ کیوں نہیں لے رہا، امریکا کی مرمت نہ سہی کم از کم ایسی مذمت تو کرے کہ جی خوش ہو جائے۔ کچھ کا خیال تھا کہ بگڑے بچے کو رکھ کے زوردار قسم کی چپیڑیں ماری جائیں تاکہ اس کی عقل ٹھکانے آئے لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان نے بڑے صبر، تحمل، برداشت، استقامت اور انتہائی سمجھ داری کا مظاہرہ کیا۔ ظاہر بینوں میں بے وقوف دوستوں کی بھی بھرمار تھی اور کچھ لوگ ریاست پاکستان سے دشمنی اس راستے نکالنے کا موقع غنیمت سمجھے ہوئے تھے، حکومت سے ناراض سیاسی مذہبی جماعتوں خصوصاً پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے بھی اندھیر مچایا ہوا تھا۔ یقینا ان کی خواہشات پہ اوس پڑی ہوگی اور نہ پوچھیے اس وقت ہندوستان پہ کیا بیت رہی ہے۔ دنیا میں اگر سب سے زیادہ کسی کو دکھ، صدمہ، افسوس اور تکلیف ہے تو گاؤ ماتا کے پجاری کو ہے۔ اللہ اسے ہمیشہ ذلیل و رسوا فرمائیں۔

