ہر زمانے کی اپنی کرنسی ہوتی ہے، علمی دنیا کی اپنی اصطلاحات ہوتی ہیں، فکری اور تہذیبی ماحول کے کچھ محاورے چلتے ہیں جن پر سارا نظام چلتا ہے۔ آج پوری دنیا کا نظام انسانی حقوق کے حوالے سے طے پاتا ہے۔ ملکوں اور قوموں کے درمیان تعلقات کی بنیاد یہی ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں ان کا طرز عمل کیا ہے؟اس موضوع پر بیسیوں پہلوؤں سے بات کی جا سکتی ہے، لیکن میں صرف دو تین اُصولی باتیں عرض کروں گا کہ اس سلسلے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے۔
پہلی بات یہ کہ قرآن پاک نے بھی حقوق کی بات کی ہے، بیسیوں آیات میں اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینکڑوں احادیث میں حقوق کا عنوان دے کر بات کی ہے مگر آج کے انسانی حقوق کے فلسفے میں اور اسلام کے انسانی حقوق کے دائرے میں ایک بڑا بنیادی فرق ہے۔ آج کا فلسفہ صرف انسانوں کے باہمی حقوق کی بات کرتا ہے کہ آپس میں حقوق کیا ہیں۔ اسلام بھی بات کرتا ہے لیکن پہلے حقوق اللہ کی۔ ہماری اصطلاح ہے حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ ہم نہ صرف حقوق اللہ کی بات کرتے ہیں اور نہ صرف حقوق العباد کی۔ حقوق اللہ کو حقوق العباد سے الگ کر دیں تو ادھورے رہ جاتے ہیں اور حقوق العباد کو حقوق اللہ سے الگ کریں تو وہ بھی ادھورا کام ہے۔ اس لیے پہلا اصولی مسئلہ یہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اسلام بات کرتا ہے حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی۔دوسری بات یہ کہ قرآن پاک نے ہمارے آپس کے معاملات کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اللہ ربُّ العزت نے انسانوں کو ایک دوسرے کے تحفظ کی تلقین فرمائی ہے اور ایک دوسرے پر خرچ کرنے کا حکم دیا ہے اور اسے حق قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
آت ذا القربی حقہ والمسکین وابن السبیل ولا تبذر تبذیرا ۔ (بنی اسرائیل)
یعنی رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی اور فضول خرچی نہ کرو۔
غور فرمائیں! اللہ تبارک و تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یتیم ہے، غریب ہے، مسافر ہے، ان پر جو خرچ کرتے ہو وہ تمہارا احسان نہیں بلکہ ان کا حق ہے اور ایک اور بڑی اُصولی بات قرآن پاک نے فرمائی: وفی اموالھم حق للسآ ئل والمحروم ۔ (الذاریات) یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے جس کو بھی مال دیا ہے، تنہا اس کو نہیں دیا بلکہ اس کے مال میں معاشرے کے ضرورت مندوں کا حق ہے۔ سائل وہ ہے جو ضرورتمند ہے اور اپنی ضرورت کا اظہار کرتا ہے اور محروم وہ ہے جو ضرورتمند تو ہے لیکن اظہار نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان دونوں کا تمہارے مال میں حق ہے۔ مفسرین نے یہاں ایک نکتہ بیان کیا ہے کہ جب محروم سوال ہی نہیں کرتا تو اس کا حق کیسے ادا ہوگا؟ تو یہاں ایک اور اصول قائم ہوتا ہے کہ مالدار کا فرض ہے کہ جو سوال کرے اس کی ضرورت پوری کرے اور ساتھ ہی معاشرے میں نظر رکھے کہ کون لوگ ضرورتمند ہیں لیکن اظہار نہیں کررہے، انہیں تلاش کرے۔ سائل نے مالداروں کو تلاش کرنا ہے اور مالدار نے نہ مانگنے والوں کو تلاش کرنا ہے۔ یہ اس کی ذمہ داری ہے۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیس المومن الذی یشبع وجارہ جائع الی جنبہ وھو یعلم ۔ یعنی اس آدمی کو مومن کہلانے کا حق نہیں جو رات کو پیٹ بھر کر سوئے اور اس کا پڑوسی بھوکا سویا ہو اور اسے اس کا علم ہو۔قرآن کریم نے بیسیوں آیات میں حقوق بیان کیے ہیں۔ ایک آیت ملاحظہ فرمائیں:
واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا وبالوالدین احسانا وبذی القربی والیتمی والمسکین والجار ذی القربی والجار الجنب والصاحب بالجنب وابن السبیل وما ملکت ایمانکم ۔ (النسا ئ)
اس ایک آیت میں دس حقوق گن لیجیے:٭اللہ کا حق کہ اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔٭ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک۔ ٭ قریبی رشتہ دار۔ ٭ یتیم۔ ٭ مساکین ۔ ٭ وہ پڑوسی جو رشتہ دار بھی ہے ٭ وہ پڑوسی جو رشتہ دار نہیں٭ ساتھ بیٹھنے والا، روم میٹ، کلاس میٹ، سفر کا ساتھی۔٭ مسافر۔ ٭جو تمہارے ماتحت ہیں، نوکر اور غلام۔ اللہ پاک نے ایک آیت میں دس حقوق بیان کیے، ایک اپنا اور نو بندوں کے اور ترتیب یہ رکھی کہ پہلا حق اللہ کا، پھر بندوں کے حقوق۔ یہ ہماری بنیاد ہے۔ اس آیت کریمہ کو میں انسانی حقوق کے اسلامی فلسفے کی اساس قرار دیا کرتا ہوں۔ اس سلسلے میں دو واقعات عرض کروں گا۔
پہلا واقعہ حضرت سلمان فارسی اور حضرت ابوالدردا رضی اللہ عنہما کا ہے۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ غلام تھے، بکتے بکتے مدینہ منورہ پہنچے اور یہاں آ کر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ جب وہ آزاد ہوئے تو مہاجر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات کروائی تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو بھائی بنایا حضرت ابوالدردا رضی اللہ عنہ کا۔حضرت ابوالدردا رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں گھر لے گیا۔ گھر کی حالت دیکھی تو بھائی جان نے جاتے ہی بھابھی سے پوچھا: کیا حال بنا رکھا ہے گھر کا؟ بھابھی نے جواب دیا: بھائی جان، آپ کے بھائی کی کسی بات میں دلچسپی نہیں، میں کس کے لیے کروں؟دوپہر کا وقت ہوا، کھانا لگایا تو حضرت ابوالدردا رضی اللہ عنہ نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ حضرت سلمان نے فرمایا: روٹی کھا۔ ان کا روزہ تڑوا دیا۔ شام کا وقت ہوا، بستر بچھایا تو حضرت ابوالدردا رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ساری رات نفل پڑھتا ہوں۔ حضرت سلمان نے فرمایا: بستر لا اور انہیں سلا دیا۔ سحری کے وقت جگایا، تہجد پڑھی، پھر فرمایا: چلو نماز پڑھتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے۔ اور جانے سے پہلے انہوں نے حضرت ابوالدردا رضی اللہ عنہ سے ایک بات کہی: دیکھو ”ان لربک علیک حقا ولنفسک علیک حقا ولعینیک علیک حقا ولزوجک علیک حقا ولزورک علیک حقا فاعط کل ذی حق حقہ” ۔ تیرے رب کا تجھ پر حق ہے، تیری جان کا حق ہے، تیری آنکھوں کا حق ہے، تیری بیوی کا حق ہے، تیرے مہمان کا حق ہے۔ سو ہر حقدار کو اس کا حق دو۔مسجد میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوالدردا رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیسا پایا بھائی جان کو؟ انہوں نے ساری کارگزاری سنائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدق سلمان۔ سلمان نے جو کیا ٹھیک کیا، جو کہا ٹھیک کہا۔
دوسرا واقعہ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کا ہے۔ بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبد اللہ کی ایک معزز خاندان میں شادی کر دی۔ کچھ دنوں بعد بہو سے پوچھا: عبد اللہ کیسے ہیں؟ کہا: بڑے نیک ہیں، ساری رات مصلے پر ہوتے ہیں، سارا دن روزے سے رہتے ہیں۔ حضرت عمرو بن العاص سمجھ گئے کہ یہ رپورٹ نہیں شکایت ہے۔ خدمت نبوی ۖمیں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے معزز خاندان میں شادی کی ہے، وہ مصلے سے ہی نہیں اٹھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ کو بلایا اور دریافت فرمایا: کتنے نفل پڑھتے ہو؟ عرض کیا: ساری رات۔ فرمایا: ثلث لیل کافی ہے۔ پوچھا: قرآن کتنا پڑھتے ہو؟ عرض کیا: روزانہ سارا قرآن۔ فرمایا: مہینے میں ایک بار۔ عرض کیا: کم ہے۔ فرمایا: دس دن میں۔ عرض کیا: کم ہے۔ فرمایا: اچھا، سات دن میں۔ پوچھا: روزے کتنے رکھتے ہو؟ عرض کیا: سارا مہینہ۔ فرمایا: مہینے میں تین۔ عرض کیا: کم ہے۔ فرمایا: سات۔ عرض کیا: کم ہے۔ فرمایا: دس، ایک دن روزہ ایک دن افطار جو حضرت داؤد علیہ السلام کا طریقہ ہے۔ آخر میں وہی جملے فرمائے جو حضرت سلمان فارسی نے کہے تھے کہ ”رب کا بھی حق ہے، جان کا بھی حق ہے، آنکھوں کا بھی حق ہے، بیوی کا بھی حق ہے۔ اپنے اپنے وقت پر سب کے حق ادا کرو۔” حضرت عبد اللہ بن عمرو جب بڑھاپے کو پہنچے تو فرمایا: یا لیتنی قبلت رخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ کاش! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی رخصت قبول کر لی ہوتی۔ اب میرے لیے وہ معمولات برقرار رکھنا بہت مشکل ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو طے کیا ہے اسے نبھانا پڑ رہا ہے۔ یہ ہے حقوق کی بنیاد۔
پہلی بات یہ کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں ہیں۔ دوسری بات یہ کہ جس کے ساتھ بھی بھلائی کرنی ہے، اس کا حق سمجھ کر ادا کرو، احسان سمجھ کر نہیں اور تیسری بات یہ کہ انسان جب بھی اپنے بارے میں فیصلہ کرے گا وقتی حالات کے تحت کرے گا۔ ایک آدمی فیصلہ کرے، ایک خاندان فیصلہ کرے، ایک برادری فیصلہ کرے، ایک طبقہ فیصلہ کرے، ایک قوم فیصلہ کرے، ایک پارلیمنٹ فیصلہ کرے، جب خود فیصلہ کریں گے تو وقتی حالات کے تحت ہوگا۔ اس لیے ترمیمیں کرنی پڑتی ہیں۔ لیکن اللہ پاک کا قانون جب فیصلہ کرتا ہے سارے حالات سامنے رکھ کر کرتا ہے۔ شریعت اور انسانی قانون میں یہی فرق ہے۔میں نے چند باتیں عرض کی ہیں صرف یہ سمجھانے کے لیے کہ حقوق کا اسلامی تصور کیا ہے: اللہ کا حق بھی ادا کرو، بندوں کا حق بھی ادا کرو، توازن قائم رکھو۔ اس بیلنس کا نام دین ہے، اس توازن کا نام اسلام ہے اور تمام کے حقوق اپنے اپنے وقت پر ادا کرنے کا نام شریعت ہے۔

