اللہ رب العزت کے فضل وکرم، احسان وتوفیق اور عنایت سے مجلس تحفظ ختم نبوت نے احتساب قادیانیت کی پہلی جلد دسمبر 1989ء میں شائع کی۔ اور ساٹھویں جلد دسمبر 2014ء میں شائع کرنے کے فریضہ سے سبکدوش ہوئے۔ اس کے بعد محاسبہ قادیانیت کی پہلی جلد کی اشاعت اگست 2015ء میں ہوئی، اور چالیسویں جلد فروری 2026ء میں اشاعت کے لیے فائنل کی۔ گویا چھتیس سال تین ماہ کے عرصہ میں ایک سو جلدوں پر مشتمل رد قادیانیت کا انسائیکلوپیڈیا (احتساب قادیانیت 60جلدیں، محاسبہ قادیانیت 40جلدیں 100جلدیں) شائع کرنے کی اللہ رب العزت نے مجلس تحفظ ختم نبوت کو توفیق سے نوازا۔
احتساب قادیانیت 1تا 60جلدوں میں: کل مصنفین 369حضرات کے کل رسائل 776ساٹھ جلدوں کے مکمل صفحات کی تعداد 34500محاسبہ قادیانیت 1تا 40جلدوں میں: کل مصنفین 242حضرات کے کل رسائل 827چالیس جلدوں کے مکمل صفحات کی تعداد 21120احتساب ومحاسبہ کی کل جلدیں: 100احتساب ومحاسبہ کی سو جلدوں کے مصنفین: 611احتساب ومحاسبہ کی سو جلدوں میں کل کتب ورسائل ومقالہ جات: 1603ان سو جلدوں کے صفحات کی تعداد: 55620اللہ رب العزت نے محض اپنے فضل وکرم سے دنیا بھر کے علمائ، دانشور، مناظرین کے رشحات قلم کو یکجا سو جلدوں جمع کرنے کی توفیق سے سرفراز فرمایا۔ اس پر ہم سب کارکنان ختم نبوت کو سجدہ شکر بجالانا چاہیے، یہ وہ ریکارڈکام ہے کہ اس سے قبل اس کی مثال موجود نہ ہے۔ آئندہ کا وقت بتائے گا کہ پردہ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے۔
آج کے دن 5اپریل 2026ء کو جب یہ سطور لکھنے کے لیے بیٹھا تو رفیق محترم مولانا عتیق الرحمن سیف نے بتایا کہ احتساب قادیانیت جلد اڑتیس میں مولانا سید عبدالجبار قادری کے دو رسائل۔ سیف الجبار اور حجة الجبار شائع ہوئے تھے۔ یہ رسائل اگست 1900ء میں اوّلاًشائع ہوئے تھے۔ مولانا سید عبدالجبار قادری حیدر آباد دکن کے تھے۔ مولانا انوار اللہ خان حیدر آباد دکن کے شاگرد رشید تھے۔ اب ایک سو چھبیس سال بعد 2026ئء کو مولانا سید عبدالجبار قادری کی اولاد در اولا میں سے کے بعض صاحبان ان رسائل کو شائع کرنا چاہتے ہیں، ان کو نیٹ سے معلوم ہوا کہ یہ رسائل پاکستان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی لائبریری ملتان میں اصل موجود ہیں۔ وہ اصل رسائل کا عکس چاہتے ہیں، تاکہ وہ شائع کر سکیں تو آج ہی ان کو دونوں رسائل کا پی، ڈی، ایف تیار کر کے حیدر آباد دکن بھجوا دیا گیا۔
بہت عرصہ ہوا غالباً حجاز مقدس یا اغلباً دار العلوم دیوبند میں حاضری کے موقع پر حضرت مولانا شاہ عالم گورکھپوری نے ذکر فرمایا تھاکہ حضرت مولانا انوار اللہ خان حیدر آبادی کی مشہور عالم کتاب افادة الافہام دو عظیم وضخیم جلدوں میں ایک صدی قبل یہ شائع ہوئی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت دفتر مرکزیہ ملتان نے اسے احتساب قادیانیت جلد 21میں شائع کیا۔ مولانا شاہ عالم گورکھپوری احتساب قادیانیت جلد 21دار العلوم دیوبند سے حیدر آباد دکن لے کر مولانا انوار اللہ خان کے پڑپوتے سے ملے، یہ کتاب ہدیہ کی۔ اپنے پڑدادا کی ایک سو سال قبل کی کتاب دیکھ کر سراپا شکر گزار ہوئے۔ مارے خوشی کے ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات جاری ہوگئی۔ رواں رواں ان کا رب کریم کے حضور سجدہ ریز، وہ کبھی کتاب کو چومتے ہیں کبھی آنکھوں پر کبھی سر پر کتاب کو رکھتے ہیں۔ ان پر فرحت وانبساط کا جو عالم تھا اس کا الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔
مولانا شاہ عالم گورکھپوری فرماتے ہیں کہ وہ بہت ممنون ہوئے۔ ان پر کتاب ملنے کی خوشی کا یہ اثر تھا کہ ان کابن بن سراپا تشکر بنا ہوا تھا۔ گریہ، رقت، شکر، سراپا سپاس گزاری کا یہ عالم کہ مولانا شاہ عالم خود حیران تھے۔ انہیں اپنے اس ہدیہ کی اتنی پذیرائی کا یہ انداز، حیران کن اور تعجب خیز لگا۔ تھوڑا وقفہ گزرنے کے بعد اسی حیدر آبادی صاحبزادہ مولانا انوار اللہ خان کے پڑپوتا نے فرمایا کہ ہمارا پورا خاندان اس کتاب کی تلاش میں تھا۔ ہم اس کو حیدر آباد دکن سے شائع کرانا چاہتے تھے۔ اب چھپی چھپائی آپ (مولانا شاہ عالم گورکھپوری) کے ہاتھوں میں دیکھ کر اپنے جد اعلیٰ کے کام کی عنداللہ قبولیت کا یقین ہوا کہ کیسے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے اسے شائع کردیا۔ اس پر وہ بہت ہی ممنون احسان ہوئے۔ یہ صرف دونوں واقعات مختلف اوقات کے لیکن ایک ہی شہر کے، عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس مجموعہ میں سولہ سو تین کتابوں کے متعلق ہر کتاب ورسالہ اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مجموعہ کیا تیار ہوا کہ عجائبات کا خزانہ جمع ہوگیا۔
اس مجموعہ میں شامل ہر کتاب کے حصول اشاعت کی ایک مستقل داستان ہے۔ اس مجموعہ میں صرف نایاب کتب کو لیا ہے۔ حضرت لدھیانوی، حضرت چنیوٹی، پروفیسر الیاس برنی اور دیگر مصنفین کی تصنیفات جو عام مل جاتی ہیں۔ ان کو شامل اشاعت نہیں کیا ورنہ تو سیٹ تین سو جلدوں پر مشتمل ہوجاتا۔ چھتیس سال کے اس مبارک سفر میں نایاب کتابوں کو دوبارہ زیور طبع سے آراستہ کرنے کے لیے زمین سے افلاک تک، ملک سے پورے جہان تک، شرق وغرب، عرب وعجم، ہند وسندھ، منوڑہ واکوڑہ، بھکر وسکھر، قلات وسوات، برصغیر ویورپ کے جو نظارے ہوئے۔ دربدر ان کے در، کبھی ادھر، کبھی ادھر کبھی برپائے پشت، کبھی بعالم بالا، کبھی سیدنا یوسف کے گھر، کبھی سیدنا یعقوب کی نگری میں، پس تمام مکاتب فکر کی جدوجہد کو یکجا کرنا جس میں دیوبند، بریلی، لکھنو، دہلی کی تمیز نہ رہے۔ کبھی اردو، کبھی عربی، کبھی فارسی، کبھی ٨ سو صفحہ کی کتاب، کبھی دو ورقہ پمفلٹ، کبھی مصنف رنگون کا، کبھی ماریشش، کبھی جزائر کا کبھی بنگال کا کبھی گولڑہ کا، کبھی گنگوہ، کبھی تھانہ بھون کبھی رائے پور، کبھی سہارنپور، کبھی اللہ آباد، کبھی مدراس، کبھی مصر وشام، کبھی کابل، کبھی امارات، کبھی کوئی، کبھی کوئی، کبھی مسٹر، کھبی ملّا، کبھی مناظر، کبھی شیخ الاسلام، رحمت الٰہی نے فضل باری سے ہم کو شرابور کیا، اس کی حیران کن تفصیلات کس سے، کس طرح، کس وقت، کس حالت میں کیسے بیان کی جائیں۔ کہاں کہاں سے گزر گئے۔
آج سو جلدوں کے اس انسائیکلوپیڈیاکی آخری جلد تیار ہونے کی خبر ملی ہے۔ قلم برداشتہ یہ لکھ دیا ہے۔ براہ عنایت یاد رکھیں کہ احتساب قادیانیت کی ساٹھ جلدیں تو اب نایاب ہیں ملنا ممکن نہیں۔ البتہ ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ محاسبہ قادیانیت کی چالیس جلدیں کتابی شکل میں دفتر مرکزیہ ملتان میں بھی موجود ہیں مل سکتی ہیں۔ اس کے حصول کے لیے آگے بڑھیں۔ ورنہ تو پھر نیٹ کا سہارا لینا پڑے گا۔

