آج سے نئے اسلامی ہجری سال 1448ھ کا آغاز ہو رہا ہے۔ اسلامی تاریخ کے مطابق ماہ محرم الحرام یعنی ہجری سال کی ابتدا ہی میں ایسے واقعات موجود ہیں جو کہ مسلمانوں کو دینِ حق پر قائم رہنے، اس کی خاطر قربانی دینے اور رب کریم کی رضا پر صبر واستقامت کے ساتھ جمے رہنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ ان واقعات کا آغاز خود ہجرتِ نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰة و التسلیم سے ہوتا ہے۔ بعد ازاں خلیفة المسلمین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور پھر واقعہ کربلا میں نواسۂ رسول سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادتیں دین حق کی گواہی دینے کے لیے جان نچھاور کر دینے کی ایسی مثالیں ہیں جو کسی بھی قوم کی تاریخ میں نہیں ملتیں۔ دینِ حق کی خاطر قربانی دینے اور دنیوی مفادات کو نظرانداز کر کے عقیدے، آزادی اور قوم کی خاطر ہر قسم کے مصائب اور تکالیف کا مقابلہ کرنے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
گزر جانے والے اسلامی سال میں بھی سب سے نمایاں حوالہ ارضِ فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کا دیا جا سکتا ہے جو عصرِ حاضر کے کرب ناک حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ فلسطینیوں کی نسل کشی کی داستان جس قدر الم ناک اور پُرسوز ہے، ان کی مزاحمت اسی قدر جرأت آموز اور ولولہ انگیز ہے۔ بظاہر جنگ بندی کے باوجود یومیہ درجنوں شہادتوں، ہلاکت خیز بمباری، دہشت گردی کی ہر نوع کے استعمال حتیٰ کہ خوراک کی تلاش میں جانے والے نہتے فلسطینیوں پر فائرنگ اور نسل کشی کی مسلسل سازشوں کے باوجود فلسطینی مجاہدین کی استقامت نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ یہ مقاومت و استقامت عزم و ایمان کی ایسی مثال ہے جس نے مسلم امہ میں ایک نئی روح پھونکی ہے۔ غزہ میں صہیونی دہشت گردوں کے بدترین مظالم کے جواب میں اہلِ غزہ کے صبر و استقامت اور حریت پسندوں کی مقاومت نے دنیا بھر میں حق کے متلاشیوں کے لیے قرآن کریم پر غور و فکر اور تدبر کے دروازے کھول دیے ہیں اور مختلف ممالک میں لوگ اسلام کی جانب مائل ہورہے ہیں۔ یورپ اور خود امریکا کے عوام میں آزاد فلسطینی ریاست کے حق میں آوازیں بلند ہورہی ہیں جبکہ صہیونیت اور ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل اور اس کے حامیوں کے خلاف نفرت نے عالمگیر تحریک کی شکل اختیار کرلی ہے ۔ یہ مناظر دراصل فطرتِ انسانی میں ودیعت کردہ اس خیر کی علامت ہیں جو کہ خالقِ کائنات نے انسانوں میں پوشیدہ کر رکھی ہے۔ انسانوں کی اکثریت ظلم، دھوکے اور جھوٹ کو ناپسند ہی کرتی ہے اور فطرت کو پسند کرنے والے ہر انسان کے اندر خود بخود ایسے جرائم کے خلا ف ایک ردعمل پیدا ہوتا ہے، جیسا کہ اِس وقت صہیونی دہشت گردوں کی جانب سے فلسطینی بچوں پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کو دیکھ کر یورپ اور امریکا میں رونما ہورہا ہے۔
غزہ کی صورتحال کے ساتھ ہی، گزشتہ سال کے دوران کچھ ایسے عالمی واقعات بھی رونما ہوئے جنہوں نے عالمی طاقت کے توازن میں بعض غیر متوقع تبدیلیوں کے اشارے دیے ہیں۔امریکا نے اسرائیل کی صہیونی لابی کے اکسانے پر ایران پر حملہ کیا جس کا اصل مقصد بھی مشرق وسطیٰ سے متعلق صہیونی عزائم کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کرنا اور ایران کو فلسطینی مقاومت کی حمایت پر سبق سکھانا تھا، مگر خدا کا کرنا یہ ہوا کہ جدید عسکری طاقت کے بھرپور استعمال کے باوجود امریکا ایران کو زیر کرنے اور ایران میں مرضی کی حکومت لانے میں کامیاب نہ ہوسکا۔چند دنوں کی جنگ کے دوران جب ایران کے بلیسٹک میزائل تل ابیب کے قلب پر گرنے لگے اور صہیونیوں کو موت نظر آنے لگی تو امریکی صدر ٹرمپ نے ” پاکستان کی خواہش پر” جنگ بندی کا اعلان کردیا۔اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا طویل دور چلا جس کے دوران امریکی صدر نے دباؤ ڈالنے کی خاطر دھمکیاں تو بہت دیں اور ہلکی پھلکی سرزنش بھی جاری رکھی مگر دوبارہ بڑی جنگ کی طرف وہ جاسکتے تھے نہ گئے۔ چنانچہ امریکا اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کا سمجھوتا طے پاگیا ہے جس پر الیکٹرانک دستخط بھی ہوچکے ہیں۔ اگرچہ اس معاہدے کے بعد بھی امریکی صدر ٹرمپ ایران پر اپنی فتح کے دعوے دوہرانے سے باز نہیں آرہے تاہم خود امریکا میں سیاسی و صحافتی حلقے سوال اٹھارہے ہیں کہ اگر ایران کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کے تحت معاہدہ ہوسکتا تھا تو کئی ٹریلین ڈالرر جنگ میں جھونکنے اور پوری دنیا کو ایک عذاب میں ڈالے رکھنے کی ضرورت کیا تھی؟ مبصرین کے مطابق ایران اسرائیل جنگ اور اس کے نتیجے میں امریکا اور اسرائیل کے ”ناقابل تسخیر” ہونے کا بھرم چکناچور ہو جانا صدی کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ جدید استعماریت کو چیلنج کیا جا چکا ہے اور دنیا کے حالات تیزی سے بد ل رہے ہیں۔امریکا کو سبق مل گیا ہے کہ دھونس دھمکی اور جبر و استبداد کے حربوں کے ذریعے کمزور اقوام کا بازو مروڑنے کا زمانہ لد چکا ہے اور یہ کہ امریکا اب سپر پاور نہ رہا۔ امریکا آج اگر ایران جیسے کئی عشروں سے پابندیوں کے شکار ملک پر جارحیت کے بعد اب کے ساتھ برابری کی سطح پرسمجھوتا کرنے پر مجبور ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ روس اور چین جیسے ممالک کے ساتھ تو کوئی پنگا لے ہی نہیں سکتا۔ اس تاثر کے عالمی منظرنامے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟اس کا تصور کیا جاسکتا ہے۔
ہمارے لیے یہ امر باعث اطمینان ہے کہ اس سارے قضیے میں پاکستان عالمی سفارتی منظرنامے میں ایک موثر کھلاڑی کی حیثیت سے ابھرا ہے جس کے ثالثی کردار کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔یہ اسی اعتراف کا ہی ایک مظہر ہے کہ جمعے کو جنیوا میں امریکا اور ایران کے درمیان سمجھوتے پر حتمی دستخط کی تقریب کی میزبانی بھی پاکستان کو دی گئی ہے۔یہ بلاشبہہ پاکستان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ یقینا پاکستان کو یہ مقام ملک کی موجودہ سیاسی وعسکری قیادت کی شب و روز کاوشوں کی بدولت ملا ہے۔اس پر وزیر اعظم میاں شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر،وزیر خارجہ اسحق ڈار،وزیر داخلہ محسن نقوی خاص طور پر قابل تبریک و تحسین ہیں۔
نئے ہجری سال کا آغاز ہمیں نہ صرف اپنی ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک واضح اور عملی لائحہ عمل مرتب کرنے کا عزم بھی دیتا ہے۔ مسلم امہ کو اپنے اندرونی اختلافات کو ختم کر کے دینِ حق پر استقامت کے ساتھ قائم رہنے، اپنے عقیدے پر عمل اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے اور اپنے دفاع پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ علم، تحقیق اور اقتصادی شعبوں میں تعاون کو بڑھانا ہوگا اور اپنے وسائل کو اجتماعی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔

