رپورٹ: علی ہلال
امریکا‘اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ عالمی معیشت صرف فیکٹریوں اور مالیاتی منڈیوں سے نہیں چلتی بلکہ تنگ بحری گزرگاہوں (آبنائے) کے ذریعے بھی رواں رہتی ہے جو توانائی اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کی خبروں نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کردی ہے کیونکہ یہ گزرگاہ دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی بحری راہداریوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر تیل، گیس، خوراک اور ترسیلی اخراجات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے جس کے اثرات مہنگائی اور معاشی نمو پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق عالمی تجارت کا 80 فیصد سے زائد حصہ سمندری راستوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے جبکہ چند اہم گزرگاہیں جیسے ’آبنائے ہرمز، ملاکا، باب المندب اور ’نہر سویز‘ اس نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اِس حوالے سے اہم بحری گزرگاہیں اور ان کی اہمیت کے بارے میں دلچسپ معلومات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 12 اہم بحری راستے ایسے ہیں جو عالمی تجارت میں غیرمعمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ اُن میں آبنائے ہرمز کا نام سرفہرست ہے جو خلیج کو بحرِعرب سے ملاتی ہے اور عالمی تیل کی بڑی مقدار یہاں سے گزرتی ہے۔
٭….دوسرے نمبر پر آبنائے ’ملاکا‘ ہے۔ ایشیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ جہاں سے چین، جاپان اور کوریا کی توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔
٭…. تیسرے نمبر پر ’باب المندب ‘ جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور نہرسویز کا دروازہ ہے۔
٭….نہر سویز: یورپ اور ایشیا کے درمیان مختصر ترین بحری راستہ فراہم کرتی ہے۔
٭….بحری گزرگاہوں میں ایک اہم ترین گزر گاہ نہر پاناما بھی شامل ہے۔ یہ شاہکار کہلانے والی بحری گزرگارہ بحراوقیانوس اور بحرالکاہل کو ملاتی ہے۔
٭….راسِ اُمید افریقہ کے گرد متبادل بحری راستہ۔
٭….آبنائے باسفورس اور داردانیل: یورپ اور ایشیا کے درمیان بحری رابطہ۔
٭….آبنائے تائیوان اور باشی چینل: ایشیا میں سپلائی چین کے لیے اہم۔
٭….آبنائے جبرالٹر بھی ایک بین الاقوامی حیثیت کی حامل گزر گاہ ہے جو بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس کو ملاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق صرف آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 20 سے 21 ملین بیرل تیل گزرتا ہے جو عالمی سمندری تیل تجارت کا تقریباً 38 فیصد بنتا ہے۔ اسی طرح آبنائے ’ملاکا‘ سے بھی روزانہ تقریباً 23 ملین بیرل تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان راستوں میں رکاوٹ پیدا ہوجائے تو جہازوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنے پڑتے ہیں جس سے وقت اور لاگت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
بحری راستے اور قانونی حیثیت
اِن بحری راستوں کو بین الاقوامی قانونِ سمندر (1982ء) کے تحت منظم کیا جاتا ہے جس میں ”بے ضرر گزر“ اور ”آزادانہ گزر“ جیسے اصول شامل ہیں۔ ان قوانین کا مقصد ساحلی ریاستوں کے حقوق اور عالمی جہازرانی کی آزادی کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے۔ 2026ء میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی اور تیل و گیس کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی۔ باب المندب میں 2023ء سے حملوں کے باعث بحیرہ احمر کی تجارت متاثر ہوئی۔ 2021ء میں نہر سویز میں ایک جہاز پھنسنے سے عالمی تجارت کئی دن معطل رہی۔ نہر پاناما کو 2023ء، 24ء میں خشک سالی کے باعث مشکلات کا سامنا رہا۔
عالمی سطح پر 80 سے 90 فیصد تجارت حجم کے لحاظ سے سمندری راستوں سے ہوتی ہے جبکہ فضائی اور زمینی ذرائع اس کا متبادل نہیں بلکہ معاون ہیں۔ ماہرین کے مطابق بحری گزرگاہیں عالمی معیشت کی شہ رگیں ہیں اور ان میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر معاشی عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔عرب میڈیا کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق خلیج میں تیزی سے بدلتی صورتحال نے عالمی تجارت کی سمت بدل کر رکھ دی ہے جہاں کئی برسوں تک نسبتاً مستحکم رہنے والی سپلائی چینز کے بعد اب جغرافیہ ایک بار پھر عالمی معیشت میں مرکزی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔اہم بحری گزرگاہوں میں رکاوٹوں نے اس نظام کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے جس پر عالمی معیشت کھڑی ہے۔ جیوپولیٹیکل کشیدگی، توانائی کے دباو اور موسمیاتی تبدیلیاں مل کر عالمی بحری تجارت کو ایک غیرمعمولی امتحان سے دوچار کررہی ہیں۔
بحری گزرگاہوں کی بندش اور عالمی معیشت
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ان رکاوٹوں کے اثرات صرف نقل و حمل تک محدود نہیں بلکہ پیداوار کی لاگت، مہنگائی اور بین البراعظمی تجارتی بہاو پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ برطانوی جریدے ’اکانومسٹ‘ کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تجارت کا واحد کمزور مقام نہیں تاہم اس کی اہمیت کلیدی ہے۔ ایران کی جانب سے اس تنگ بحری راستے میں خلل ڈالنے سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ متاثر ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس تعطل سے عالمی معیشت میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ ایشیا سے یورپ اور امریکا تک دیگر اہم بحری راستے بھی خطرات کی زد میں آچکے ہیں۔ اکانومسٹ کے مطابق دنیا کی تقریباً 85 فیصد تجارت حجم کے لحاظ سے اور 55 فیصد قدر کے لحاظ سے سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے جو اس شعبے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران نے اس حقیقت کو اجاگر کر دیا ہے کہ بحری تجارت نہایت قیمتی ہے اور اس کا تحفظ ناگزیر ہوچکا ہے۔
مبصرین کے مطابق ہتھیاروں کی دستیابی نے خطرات میں اضافہ کردیا ہے جہاں باب المندب میں جہازوں کو ڈرونز اور میزائل حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث کئی شپنگ کمپنیوں کو طویل اور مہنگے متبادل راستے اختیار کرنا پڑے۔ رپورٹ کے مطابق باب المندب سے گزرنے والی عالمی تجارت کا حصہ 9 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد رہ گیا ہے اور مزید کمی کا خدشہ ہے۔ اسی طرح روس‘ یوکرین جنگ کے باعث بحیرہ اسود میں بھی تیل اور اناج کی ترسیل متاثر ہوئی ہے جبکہ ترک آبناوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان ممکنہ بحری تصادم عالمی سپلائی چینز کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی بھی ایک بڑا عنصر بن چکی ہے جہاں پاناما کینال میں خشک سالی کے باعث جہازوں کی آمد و رفت محدود ہوگئی ہے اور کچھ جہازوں کو جنوبی امریکا کے گرد طویل راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔ کسی بھی اہم بحری راستے کی بندش سے جہازوں کو ہزاروں میل اضافی سفر کرنا پڑتا ہے جس سے وقت اور لاگت دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 300 آئل ٹینکرز یا تو پھنسے ہوئے ہیں یا اپنے راستے تبدیل کر رہے ہیں جبکہ بڑے ٹینکرز کے کرایے 90 ہزار ڈالر یومیہ سے بڑھ کر 230 ہزار ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث جہازوں نے اپنی رفتار بھی کم کر دی ہے تاکہ اخراجات پر قابو پایا جا سکے۔نتیجتاً عالمی تجارت اب نئے راستے تلاش کررہی ہے جہاں زمینی اور علاقائی نیٹ ورکس پر انحصار بڑھ رہا ہے اور سپلائی چینز پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہوتی جارہی ہیں۔

