سعودی پریس ایجنسی نے متعدد خطوں میں بارشوں کے اثرات کی دستاویز بندی پر مشتمل الگ الگ رپورٹس جاری کی ہیں جن کے مطابق سعودی عرب میں موسم بہار کی بارشوں نے صحرا کی وسعتوں کو سرسبز کردیا اور پہاڑی وادیوں کو دھند اور آبشاروں سے بھر دیا ہے اور اس غیرمعمولی موسمی تبدیلی سے لطف اندوز ہونے کے لیے لوگوں بڑی تعداد میں گھروں سے نکل کر سیر و سیاحت کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق جنوب مغربی الباحہ کے خطے میں بارش سے پہاڑ اور جنگلات دھند سے ڈھک گئے اور درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہونے کی وجہ سے آبشاریں بہہ کر پتھریلی چٹانوں سے نیچے آنے لگی ہیں۔ بارشوں سے نباتات دوبارہ پیدا ہو رہے ہیں اور موسم گرما کے سیاحتی مقام کے طور پر اس خطے کی کشش میں اضافہ ہوا ہے۔
زائرین بشمول کئی فوٹوگرافر عیدالفطر کی تعطیلات کے دوران بادلوں سے ڈھکی چوٹیوں اور بارش سے بھری ہریالی کے دلکش نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے جمع ہوئے۔
وسطی قصیم کے خطے میں بارشوں نے ریت کے ٹیلے اور کم گہرے تالاب بنا دیے ہیں جس سے قدرتی مقامات میں ڈرائیونگ، خیموں میں قیام اور دیگر بیرونی سرگرمیوں کے لیے مثالی حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ بریدہ کے قریب نوجوانوں کے گروہ صحرا کی طرف کھنچے چلے آئے ہیں اور شام کی خنک ہوا میں آگ کے الاؤ کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔

رفحاء کے مزید شمال میں بارشوں نے تاریخی زبالا کے قریب گھاس کے میدانوں کو پکنک کے سرسبز مقامات میں بدل دیا ہے اور معتدل موسم اور کشادہ جگہ کے خواہاں خاندان ان کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
حائل کے خطے میں بارشوں نے زائرین کو صحرائی علاقوں بشمول اجا اور سلمیٰ کے سلسلۂ کوہ کی طرف راغب کیا ہے جہاں بڑی تعداد میں موسمی کیمپس لگ گئے ہیں اور لوگ جمع ہو رہے ہیں۔
حکام نے سیلاب زدہ علاقوں میں احتیاط کی اپیل کی ہے، قومی مرکز برائے موسمیات نے مزید بارش کا انتباہ دیا ہے جبکہ اہلکار ٹریفک کو منظم کرنے اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مصروف ہیں۔
موسمی بارشیں اگرچہ مختصر ہوتی ہیں لیکن مملکت کے بدلتے ہوئے مناظر کی یاد دلاتی اور فرصت کے ایسے خوش آئند لمحات میں لوگوں کو خنک فضاؤں میں مجتمع ہونے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

