ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے معاشرے میں بے روزگاری ایک سنگین مسئلے کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل، ترجیحات کے غلط تعین اور موثر رہنمائی کے فقدان نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہر پڑھا لکھا نوجوان سرکاری ملازمت کو ہی اپنی منزل سمجھ بیٹھا ہے، حالانکہ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ حکومت کے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ ہر خواہش مند کو روزگار فراہم کر سکے۔ مزید برآں، موجودہ حالات میں سرکاری ملازمین کی مراعات میں کمی اور سہولتوں کی واپسی نے سرکاری نوکری کے تصور کو بھی غیر پُرکشش بنا دیا ہے۔ اس کے باوجود نوجوانوں کی اکثریت اسی ایک در پر دستک دے رہی ہے۔ اگر انہیں بروقت رہنمائی اور درست سمت فراہم کی جائے تو وہ خود روزگاری کے بے شمار مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور مایوسی و بے یقینی کی کیفیت سے نکل سکتے ہیں۔ اس کے لیے حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کو مل کر کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں اس وقت کروڑوں افراد سوشل میڈیا سے وابستہ ہیں۔ فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹک ٹاک ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ بلاشبہ جدید ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک گلوبل گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے جہاں معلومات تک رسائی نہایت آسان ہو چکی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سہولت کو محض تفریح تک محدود رکھیں یا اسے اپنی معاشی بہتری کا ذریعہ بھی بنائیں؟حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ بڑے اداروں سے لے کر چھوٹے کاروبار تک سب نے آن لائن نظام کو اپنا لیا ہے۔ ای کامرس، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آن لائن سروسز کے ذریعے لوگ گھر بیٹھے باعزت روزگار کما رہے ہیں۔ اب تو بازاروں کے چکر لگانے کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ چند کلِکس کے ذریعے خرید و فروخت ممکن ہے۔ ادائیگی کے جدید طریقے اس عمل کو مزید آسان بنا رہے ہیں۔ کمپیوٹر اور اسمارٹ فون نے انسانی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ آج ایک عام موبائل فون بھی منی کمپیوٹر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ ہم اس ٹیکنالوجی سے کس حد تک فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں آن لائن مواقع سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد نہایت کم ہے، حالانکہ انٹرنیٹ کا استعمال بے تحاشا کیا جا رہا ہے۔ ہمارے نوجوان جو آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں، دن کا بیشتر وقت آن لائن گزارتے ہیں مگر ان میں سے اکثریت اس قابل بھی نہیں کہ اپنی محنت سے انٹرنیٹ کا خرچ پورا کر سکے۔ یہ صورتحال نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ ہمارے تعلیمی اور تربیتی نظام پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ تعلیم کا مقصد محض ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ شعور، مہارت اور خود انحصاری پیدا کرنا ہونا چاہیے لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں تعلیم کو صرف اچھی نوکری کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور وہ اچھی نوکری بھی سرکاری نوکری ہو۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان عملی مہارتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ حالانکہ اگر انہیں جدید تقاضوں کے مطابق تربیت دی جائے تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
نوجوانوں کو یہ باور کرایا جائے کہ کامیابی کا راستہ صرف سرکاری ملازمت سے ہو کر نہیں گزرتا۔ انہیں فری لانسنگ، آن لائن بزنس، ڈیجیٹل اسکلز اور ہنرمندی کی طرف راغب کیا جائے۔ سوشل میڈیا کو محض تفریح کے بجائے آمدنی کا ذریعہ بنایا جائے۔ اس ضمن میں حکومت اور نجی اداروں کا کردار نہایت اہم ہے۔ تربیتی پروگرامز، ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد کیا جائے، نوجوانوں کو آسان شرائط پر لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جائے اور انہیں عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ سے جوڑنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کریں۔ وقت کی قدر کریں، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں اور جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالیں۔ اگر ہم نے سوشل میڈیا کو ضائع ہونے والے وقت کے بجائے کمائی کا ذریعہ بنا لیا تو نہ صرف انفرادی بلکہ قومی سطح پر بھی خوشحالی کا سفر شروع ہو سکتا ہے۔ یاد رکھیے! کامیابی اسی کا مقدر بنتی ہے جو حالات کا رونا رونے کے بجائے ان کا مقابلہ کرتا ہے۔ خود روزگاری کی راہ اپنانا ہی آج کے دور کا سب سے مؤثر اور باوقار حل ہے۔

