دورِ حاضر میں ایک خاموش مگر نہایت مہلک وبا پھیل رہی ہے جو آہستہ آہستہ عورت کے ذہن پر قابض ہوتی جارہی ہے۔ اس فکری وبا نے عورت کو اس فریب میں مبتلا کر دیا ہے کہ اس کی عزت بناو سنگھار، نمائش اور حدود سے تجاوز میں پنہاں ہے۔
عورتوں کی اکثریت یہ سمجھنے لگی ہے کہ خود کو نمایاں کر کے، خود کو سرِ بازار پیش کر کے، لباس اور رویّوں میں بے احتیاطی برت کے اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کو پامال کرکے وہ معاشرے میں مقام حاصل کرلیں گی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جس راستے پر وہ عزت کی تلاش میں نکلی ہیں وہ راستہ عزت تک تو نہیں جاتا۔ یہ سوچ ہی فکری زوال کی علامت ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ زمانہ جاہلیت کی عورت بھی اسی راہ پر چلی تھی، پھر اُس کا انجام یہ ہوا کہ وہ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہر رشتے میں ظلم و ستم، ذلت اور بے قدری کا شکار رہی۔ آج کی عورت تمام تر شعور اور تعلیم کے باوجود اُسی پرانی راہ کو اختیار کر کے عزت کی طلبگار ہے۔
یہ المیہ نہیں تو پھر اور کیا ہے؟ یہ عورت اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا جانتی ہے۔ احتجاج کرنا، مطالبہ کرنا، وراثت میں اپنا حصہ لینا اور دلیلیں دینا بھی جانتی ہے اور جہاں حیا اور پردے کی بات ہو وہاں اس کی عقل پوری طرح متحرک ہوجاتی ہے۔ وہ اس بنیادی سچ کو سمجھنے سے قاصر رہتی ہے کہ عزت اور وقار اس کا پہلا حق ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھ پا رہی کہ اس کی عزت کس راستے پر ہے۔ حقوق کا شعور قابلِ تحسین ہے مگر وقار کا شعور اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے، کیونکہ جو عورت اپنے وقار کی حفاظت نہیں کرتی وہ تمام حقوق حاصل کرکے اُن کی برکت کھو بیٹھتی ہے۔ عورت کی عزت نہ نعروں میں ہے نہ نمائش میں بلکہ اس کی عزت حیا کے پردے میں ہے۔ میں بارہا کہتی ہوں کہ عورت معاشرے کی بنیاد ہے اور جب بنیاد ہی کھوکھلی ہوجائے تو عمارت کبھی مضبوط ہو ہی نہیں سکتی۔
آج دشمنانِ اسلام ہم سے میدانِ جنگ میں آکر نہیں لڑرہے، وہ تلوار سے نہیں ذہن سازی سے حملہ آور ہیں۔ وہ ہماری بنیاد پر وار کررہے ہیں اور ہماری بنیاد عورت ہے۔ عورت کے ذہن میں یہ بات بٹھائی جارہی ہے کہ اس کی کامیابی اللہ کی حدود کو توڑنے میں ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔چلیں سادہ سی مثالوں سے سمجھتے ہیں۔خوشبو کی بوتل جب تک بند رہتی ہے اس کی مہک محفوظ رہتی ہے، ڈھکن کھلتے ہی خوشبو ہوا میں تحلیل ہوجاتی ہے، نہ محفوظ رہتی ہے نہ پہچانی جاتی ہے۔ پیک شدہ تحفہ تجسس اور قدر کی علامت ہوتا ہے، کھلتے ہی اس کی وہ پہلی والی حیثیت نہیں رہتی۔ اسی طرح ٹکٹ جو سفر سے پہلے قیمتی ہوتا استعمال کے بعد محض کاغذ کا ٹکڑا رہ جاتا ہے۔ عورت کو یہ سچ پہچاننے کی ضرورت ہے کہ جب تک وہ ڈھکی چھپی ہے وہ نایاب ہے۔ وہ آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔ وہ وقار، حیا اور شعور کا استعارہ ہے۔ جب تک وہ اللہ کی مقرر کردہ حدود میں رہتی ہے وہ دنیا کے تمام خزانوں سے زیادہ قیمتی ہے اور جس دن وہ اُن حدود کو پار کرتی ہے اُسی دن وہ خود کو پستی کے راستے پر ڈال دیتی ہے۔ زمانہ پھر اسے قدم قدم پر یاد دلاتا ہے کہ اس نے کس قدر نایاب شے کو ٹھکرا دیا۔ اسلام نے عورت کو جو مقام دیا ہے وہ اس قدر بلند ہے کہ ایک غیرمسلم عورت جب اسلام قبول کرتی ہے تو وہ اس دین کو جان سے زیادہ عزیز کرلیتی ہے، کیونکہ وہ ذلت دیکھ چکی ہوتی ہے اور عزت کی قدر جانتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ایک مسلمان عورت کو اس نعمت کا اندازہ نہیں جو اسے وراثت میں عطا ہوئی۔
آج کی مسلمان عورت سے بس یہی فریاد ہے کہ وہ اپنا مقام پہچان لے۔ یہ دین اسے دبانے نہیں آیا بلکہ عزت، تحفظ اور وقار دینے آیا ہے۔ یہ دین عورت کو امانت بناتا ہے نمائش کا ذریعہ نہیں۔ یہ اسے نسلوں کی تعمیر کا مرکز بناتا ہے۔ اے کاش مسلمان عورت یہ جان لے کہ اس کی اصل عزت حسن میں نہیں بلکہ حیا اور پردے میں ہے، جسے آج وہ بوجھ سمجھنے لگی ہے۔ اللہ کی حدود زنجیر نہیں، اس کے لیے حفاظت ہیں۔ رسوائی نہیں، رسوائی سے بچاو¿ کا ذریعہ ہیں اور جو عورت اپنا وقار پہچان لیتی ہے وہ پھر کبھی خود کو ارزاں نہیں کرتی۔ (سویرا ثاقب)

