اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش ہونے والی قراردادوں میں پاکستان نے ایران کے خلاف جنگ کے معاملے پر روس اور خلیجی ریاستوں کی حمایت اور امریکا کی مخالفت کی ہے۔ خلیجی ممالک کی جانب سے پیش کردہ مذمتی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے، ان ممالک کی آزادی و خودمختاری کے احترام اور ان پر ہونے والے حملوں کے خلاف اپنی تشویش کا اظہار کر کے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ کے پھیلاو کے حق میں ہرگز نہیں ہے، اسی طرح روس کی جانب سے جنگ بندی کے لیے پیش کردہ قرارداد کو بھی پاکستان کی حمایت حاصل رہی تاہم امریکا کی جانب سے اس قرارداد کو ویٹو کر دیا گیا۔
قابلِ غور امر یہ ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف جنگ میں کامیابی کے دعوے کے باوجود، جنگ بندی کے لیے پیش کردہ قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ عمل سفارت کاری کے خاتمے اور طاقت کے بل پر مقاصد کے حصول کا عملی اظہار ہے۔ اس اقدام نے بیان کر دیا ہے کہ امریکا، ایران کو زیرو زبر کیے بغیر اس جنگ سے پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہے جبکہ دوسری طرف اسرائیل کا دجالی وزیر اعظم جنگ کو دور تک پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے جس کے نتائج عالمی معیشت کے زوال، خطے کی تباہی اور انسانوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی صورت میں ظاہر ہوں گے لیکن اسرائیل اور امریکا کو ان تمام باتوں سے کوئی سروکار دکھائی نہیں دیتا۔گو کہ امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق جنگ زیادہ عرصے تک جاری نہیںرہے گی تاہم امریکی اقدامات ایسے بیانات کی تردید کرتے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل مل کر ایران پر حملے کر رہے ہیں اور تازہ اطلاعات کے مطابق کارپٹ بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے جس میں عام آبادی کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب ایرانی حکومت کے سرکردہ افراد نے امریکی دباو کے آگے سر جھکانے سے انکار کر دیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مطابق ان کا ملک علاقائی ممالک کے ساتھ کوئی تنازع نہیں چاہتا۔ انھوں نے وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ اگر عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دی تو عالمی نظام اور امن کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے جنگ حکمتِ عملی میں تبدیلی کر لی ہے۔ اب وہ محض جوابی حملوں پر ہی اکتفا نہیں کر رہا بلکہ مسلسل میزائل حملوں کا طریقہ اختیار کر لیا گیا ہے، شاید اسی وجہ سے ایران نے بھارت کے لیے تیل لے جانے والے آئل ٹینکروں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی صدر کے مطابق جنگ بندی کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اپنے قدم پیچھے ہٹا لے، ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا بلکہ امریکا کو یہ ضمانت بھی دینا ہوگی کہ وہ آئندہ ایران کے معاملات میں مداخلت سے باز رہے گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا امریکا اور اسرائیل شکست تسلیم کرتے ہوئے ایک ایسی جنگ سے دست بردار ہو جائیں گے جس کے مقاصد اور منطقی توجیہ وہ خود بھی بیان کرنے سے قاصر ہیں؟ جہاں تک ڈونلڈ ٹرمپ کا تعلق ہے تو وہ ایران کے دفاعی مراکز ہی نہیں بلکہ شہری اثاثوں کو بھی تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ وہ ایران کو عراق ہی کی مانند تباہ کرنے کے درپے ہو چکے ہیں۔ نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اسرائیل کے ہاتھ روکنے والا کوئی نہ رہے۔ مذکورہ ہدف ہی امریکا کا مقصد ہے تو یقین رکھنا چاہیے کہ وہ ایران کے بعد خدانخواستہ ترکیہ اور سعودی عرب کو بھی نشانہ بنائے گا کیوں کہ ان دونوں مسلم ریاستوں کی عسکری قوت بہرحال اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں رکاوٹ سمجھی جائے گی۔ البتہ اس راستے میں پاکستان بھی موجود ہے جو مسلم دنیا کی واحد جوہری طاقت ہے۔ یہ ہرگز ضروری نہیں کہ پاکستان کو نشانہ بنانے کے لیے امریکا کو ازخود میدان میں اترنا پڑے۔ پڑوسی ملک بھارت ایک مدت سے اسی غرض سے اپنی خدمات پیش کیے ہوئے ہے اور حالیہ دنوں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بھارت کی شہ پر افغان حکومت کس طرح پاکستان پر چڑھ دوڑی تھی تاہم پاکستان کے ہاتھوں مار کھانے کے بعد اس وقت افغان طالبان روس اور ترکیہ کے ذریعے مذاکرات کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔
بھارت گزشتہ سال مئی میں پاکستان کے آہنی ہاتھوں کا مزہ چکھ چکا ہے اس لیے ایران پر اسرائیل کے حملے اور چاہت کے باوجود بھارت پاکستان پر یلغار کی جرا¿ت نہ کر سکا۔ حالیہ دنوں میڈیا کے مختلف حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں گردش کر رہی تھیں کہ پاکستان کے خلاف پھر کسی بہانے کی تلاش جاری ہے۔ اگر بھارت کو پاکستان کے آہنی ہاتھوں کا تجربہ نہ ہوا ہوتا تو دہلی میں اسرائیلی ساختہ ڈرون تیار کرنے والی فیکٹری کی تباہی، مودی حکومت کو جنگ پر بھڑکانے کے لیے کافی ہوتی لیکن افغان طالبان اور ان کی پراکسی کا حشر دیکھنے کے بعد ممکن ہے کہ بھارتی قیادت پاکستان پر الزام لگانے سے پہلے بھی سو مرتبہ سوچنے کی ضرورت محسوس کرے۔ بہرحال بھارت کو پاکستان پر یلغار کے لیے اس وقت امریکا کی مکمل پشت پناہی درکار ہے، اس سے قبل وہ پاکستان کے خلاف کسی اقدا م کی ہمت نہ کر سکے گا۔ اگر امریکا تمام بین الاقوامی اصولوں، جنگ کے آداب اور سفارتی تقاضوں کو نظر انداز کر کے ایران کو اسی لیے تباہ کرنا چاہتا ہے کہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میںکوئی رکاوٹ حائل نہ رہے تو یقین کر لینا چاہیے کہ بھارت، پاکستان کے خلاف کوئی نیا ایڈونچر ضرور کرے گا، کیوں کہ بھارت ہی وہ واحد طاقت ہے جو منطقی طورپر پاکستان پر یلغار کے لیے موزوں ہو سکتی ہے۔
بھارت کی جانب سے خطرات کو محسوس کرتے ہوئے، پاکستان سفارت کاری کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے دفاع کا تقاضا ہے کہ وہ ایران کو عرب ریاستوں کے خلاف اقدامات سے باز رکھے اور ایسی کوئی بھی صورت حال پیدا نہ ہونے دے جو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو تقویت فراہم کر سکتی ہو۔ ایران پر اسرائیل نے حملہ اسی وجہ سے کیا تھا کہ یہ پورا خطہ جنگ کے شعلوں میں گھِر جائے۔ اسرائیل جیسی دہشت گرد ریاست اور نیتن یاہو جیسے انسانیت کے مجرم سے کچھ بعید نہیں کہ وہ فتنہ و فساد کو مزید بھڑکانے اور جنگ کی آگ کو دور تک پھیلانے کے لیے ایران کے خلاف جوہری قوت استعمال کر گزرے۔ یقینا پاکستان کی قیادت کو ان تمام خطرات کا بخوبی اندازہ ہے، اسی لیے وہ سفارت کاری کے ذریعے جنگ کے جلد خاتمے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے میں مسلم امہ کے باہمی اتحاد کی ضرورت پہلے سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانیت کی بقا اور تحفظ کے لیے عالم گیر سفارتی مہم کا آغاز کیا جائے اور چین، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر ریاستوں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ دفاعی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ اسرائیل، امریکا اور بھارت کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔

