غزہ میں صہیونی حملے،3شہید،لبنان’ اسرائیل معاہدے پرہنگامے پھوٹ پڑے

غزہ/تل ابیب/بیروت/برسلز/پیرس:مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی علاقے میں فلسطینیوں پر یہودی آبادکاروں کے حملے جاری ہیں،مغربی کنارے کے علاقے نابلوس میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کے نتیجے میں ایک 16 سالہ فلسطینی لڑکا سر پر پتھر لگنے سے زخمی ہو گیا۔

عرب میڈیارپورٹس کے مطابق دیگر علاقوں میں بھی آبادکاروں کے حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، آبادکاروں نے رملہ کے مشرق میں واقع فلسطینیوں کی آبادیوں پر حملے کیے۔ادھر اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں دیر البلاح کے مشرق میں زرعی علاقے پر فضائی حملہ کیا۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ جنگی طیاروں نے زرعی زمینوں پر کم از کم دو میزائل داغے۔ادھراسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران غزہ کی پٹی میں کیے گئے فضائی حملوں میں حماس کے متعدد رہنماشہیدہو گئے جن میں وسطی غزہ کے کیمپوں میں حماس کی بحری پولیس کا سربراہ بھی شامل ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ ایک فضائی حملے میں عبدالرحمن ماہر عبد الکریم زیادہ کو نشانہ بنایا گیا جسے اس نے حماس کے عسکری ونگ کتائب القسام کی ایلیٹ فورس کے ایک سیل کا کمانڈر قراردیا۔

اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ خان یونس میں کیے گئے ایک اور فضائی حملے میں کمال محمد حمدان النجارشہید ہو گیاجو اس کے بقول کتائب القسام کے خان یونس سیکٹر میں سرنگوں کے یونٹ کا سربراہ تھا۔اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ غزہ کے وسطی کیمپوں میں حماس کی بحری پولیس کا کمانڈر اور دو دیگر افسر بھی ایک کارروائی میں شہید ہوگئے۔

دریں اثناء اسرائیل نے غزہ میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملوں میں تین فلسطینیوں کو شہید اور 25 دیگر کو زخمی کردیا ہے۔طبی ذرائع نے اناطولیہ ایجنسی کو بتایا کہ جنوبی غزہ میں خان یونس کے مغرب میں بے گھر افراد کے دو خیموں کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملوں میں ایک 15 سالہ فلسطینی لڑکی اسلام ابو شمالہ اور ان کا 35 سالہ بھائی عبداللہ شہید ہو گئے جبکہ 6دیگر زخمی ہوئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ خان یونس کے مغرب میں واقع المواصی علاقے میں رونی اسٹریٹ کے داخلے کے قریب الرشید اسٹریٹ پر ایک اسرائیلی ڈرون نے لگاتار دو خیموں کو نشانہ بنایا۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس حملے نے دونوں خیموں کو تباہ کر دیا، قریبی پناہ گاہوں کو نقصان پہنچایا اور علاقے میں متعدد افرادشہید و زخمی ہوئے۔

بعد میں 45 سالہ ظاہر ابو سالم اسی حملے میں لگنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ فلسطینی ریڈ کریسنٹ کے مطابق زخمیوں میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں جبکہ دو افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

علاوہ ازیںغزہ کی پٹی پر جاری جنگ کے دوران لاپتہ افراد کے کیسز کی نگرانی کرنے والی حکومتی کمیٹی نے نسل کشی کے دوران لاپتہ ہونے والوں کے اندراج کے لیے طریقہ کار کا اعلان کر دیا ہے۔

کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جنگ کے دوران لاپتہ ہونے والے افراد کے کیسز کا اندراج خصوصی طور پر سرکاری حکومتی پلیٹ فارم صحتی کے ذریعے ہی کیا جائے گا، جو متعلقہ اداروں کے پاس منظور شدہ طریقہ کار کے مطابق ہے۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ غیر سرکاری لنکس یا پلیٹ فارمز کے ذریعے کی گئی کسی بھی درخواست یا اندراج کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور اس کا کمیٹی کے پاس کوئی قانونی اثر یا کارروائی نہیں ہوگی۔ادھرقابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے 14 اسیران کو رہا کر دیا ہے، جنہیں سات اکتوبر 2023ء کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

ان اسیران کو کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے رہا کیا گیاجس کے بعد انہیں طبی امداد کی فراہمی کے لیے ریڈ کراس کی ٹیموں کی نگرانی میں دیر البلاح کے شہدائے اقصیٰ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب لبنان اور اسرائیل کے درمیان فریم ورک معاہدے پر دستخط کے دو روز بعد اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ میں راکٹ لانچر نصب کرنے والے حزب اللہ کے مسلح افراد کو جاں بحق کر دیا اور ایک راکٹ لانچنگ پلیٹ فارم کو بھی نشانہ بنایا جو اس کے بقول اس کے فوجیوں کے لیے خطرہ تھا۔

اسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا واویہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ فوج نے اس عمارت کو بھی نشانہ بنایا جہاں سے مسلح افراد کارروائیاں کر رہے تھے جبکہ راکٹ لانچر کو تباہ کر دیا گیا۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے لبنان کے ساتھ امریکی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔

نیتن یاہو نے معاہدے کو تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایران اور حزب اللہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔انھوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت امریکا اور لبنان نے اسرائیل کے اس حق کو تسلیم کر لیا ہے کہ وہ لبنان کے اندر سیکورٹی زون کو اس وقت تک برقرار رکھ سکتا ہے جب تک اسرائیل کی سلامتی کے لیے اس کی ضرورت ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ہم اسے اس وقت تک قائم رکھیں گے جب تک حزب اللہ اور دیگر تمام دہشت گرد تنظیموں کو غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا اور جب تک لبنان کی جانب سے اسرائیل کو کوئی مزید خطرہ لاحق نہیں رہتا۔

ادھرلبنا ن کے صدر جوزف عون نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا اسرائیل پر جنوبی لبنان سے انخلا کیلئے دبائو ڈالے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطے میں لبنان کے صدر جوزف عون نے امریکا کی سرپرستی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر انہیں مبارک باد دی۔

لبنانی ایوان صدر کے بیان کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ امریکا لبنان کی خودمختاری کے فروغ کیلئے اس کی معیشت اور مسلح افواج کی حمایت جاری رکھے گا۔صدر جوزف عون نے امید ظاہر کی کہ امریکا اس معاہدے کی خلاف ورزی روکنے میں کردار ادا کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تمام طے شدہ وعدوں پر عمل درآمد ہو۔

دوسری جانب لبنانی فوج نے لبنان اسرائیل معاہدے کے خلاف احتجاج کرنے والے شہریوں سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ لبنانی فوج نے کہا کہ وہ لبنان کو درپیش غیر معمولی چیلنجز کے تناظر میں رائے کے اظہار کی آزادی کا احترام کرتی ہے، فوجی کمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بیروت اور دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کی کالز کے پیش نظر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

یورپی یونین اورفرانس نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانیوالے فریم ورک معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں تنازعات سے نکلنے کی جانب ایک اہم قدم قراردیا۔ غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہوں۔

یہ کشیدگی میں اضافے کو روکنے کیلئے ایک اہم قدم ہے۔ جب تک لبنان جنگ میں ہے، مشرق وسطی میں امن ممکن نہیں ہے۔دریں اثنافرانس نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے نفاذ میں تعاون کرنے کیلئے اپنی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے اسے لبنان کی خودمختاری کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ لبنانی حکومت کے اس موقف کی حمایت کرتی ہے کہ ملک میں ہتھیار رکھنے کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہونا چاہیے۔

ادھرحزب اللہ نے امریکی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والا معاہدہ مسترد کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے ایک بیان میں کہا امریکی ثالثی میں طے پانے والا فریم ورک معاہدہ لبنان کی خود مختاری کے خلاف ہے۔

یہ معاہدہ لبنان پر اسرائیلی قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے وہ دن دور نہیں جب لبنانی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کردیا جائیگا۔اس معاہدے کے ہوتے ہی لبنان کے مختلف شہروں میں فسادات پھوٹ پڑے، بیروت سمیت کئی شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، ٹائر جلا کر احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔

دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز جنوبی لبنان میں جاری لڑائی کے دوران کیپٹن کے عہدے کے ایک افسر کی ہلاکت اور ایک اضافی فوجی کے زخمی ہونے کا اعلان کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنوبی لبنان میں ایک کیپٹن رینک کا افسر ہلاک اور ایک فوجی زخمی ہوا ہے۔

اسرائیلی چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ حزب اللہ کے ایک رکن نے دو اسرائیلی فوجیوں پر گھات لگا کر حملہ کیا اور حملہ آور کامیابی کے ساتھ پیچھے ہٹنے میں کامیاب ہوگیا۔

قابض اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن کے آغاز سے اب تک 16 سے زائد اسرائیلی افسران اور فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں گولانی اور گیواتی بریگیڈز کے اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ درجنوں فوجی مختلف نوعیت کے زخموں کا شکار ہوئے ہیں۔