واشنگٹن/تل ابیب/تہران/بیجنگ:امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے کویت میں تعینات نیشنل گارڈز کے ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔ یہ واقعہ 6 مارچ کو پیش آیا جسے ”صحت کی ہنگامی صورتحال” قرار دیا گیا ہے اور ہلاکت کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اس فوجی کی ہلاکت کے بعد گذشتہ 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 8 ہو گئی ہے جبکہ 18 دیگر فوجی زخمی ہوئے ہیں جن کے زخموں کو ”شدید” قرار دیا گیا ہے۔
یہ ہلاکتیں امریکا اور قابض اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی مشترکہ فوجی کارروائیوں کے دوران پیش آئی ہیں۔حالیہ فوجی کی ہلاکت کی خبر سے محض دو گھنٹے قبل امریکی فوج نے ایک اور فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی جو ایک ہفتہ قبل ایران کے ابتدائی جوابی حملے میں لگنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا۔
بیان میں وضاحت کی گئی کہ مذکورہ فوجی یکم مارچ کو سعودی عرب میں امریکی افواج پر ہونے والے ایک حملے میں شدید زخمی ہوا تھا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ”آپریشن غیظِ عظیم” کے دوران جنگی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والا یہ ساتواں امریکی فوجی ہے۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجی کی شناخت لواحقین کو اطلاع دینے کے 24 گھنٹے بعد ظاہر کی جائے گی۔ان دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ میں ہلاک ہونے والے 6 فوجیوں کی میتوں کی واپسی کی تقریب میں شرکت کی تھی۔
دریں اثناء ایران میں تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد امریکا اور اسرائیل کے درمیان پہلا بڑا اختلاف سامنے آگیا۔امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا نے اسرائیل سے استفسار کیا ہے کہ اس نے آئل ریفائنریوں پر حملے کیسے کئے؟۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے تہران سمیت مختلف علاقوں میں تقریباً 30 آئل ڈپواور توانائی کے ذخائر کو نشانہ بنایا،امریکی حکام کا کہنا ہے امریکا کو ایران میں ایندھن کے ڈپو پر حملوں کی توقع نہیں تھی، اسرائیل نے حملوں کی شدت بارے آگاہ نہیں کیا تھا،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کا کہنا ہے کہ ایران کے تیل تنصیبات پر حملوں سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
خدشہ ہے توانائی ذخائر کو نشانہ بنانے سے ایران میں حکومت کیلئے عوامی حمایت بڑھ سکتی ہے۔علاوہ ازیں ایرانی جوہری سیکورٹی سینٹر نے تصدیق کی ہے کہ اصفہان میں امریکی حملوں سے شعاعی عمل کی تنصیب متاثر ہوئی ہے۔
ایک بیان میں ایرانی جوہری سیکورٹی سینٹر کے حکام کا کہنا تھا کہ ایریڈیشن فیسلیٹی متاثر ہونے سے تابکاری یا آلودگی کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ادھرایران کی پاسداران انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور آئل ٹینکرز پر حملوں کے پیش نظر فرانس نے بڑا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے قبرص کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایک دفاعی نوعیت کے مشن کی تیاری جاری ہے جس میں یورپی اور دیگر اتحادی ممالک بھی شامل ہوں گے۔
صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا کہ اس مشن کا مقصد جنگ کی شدید ترین صورتحال ختم ہونے کے بعد کنٹینر جہازوں اور تیل بردار ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے محفوظ طریقے سے گزرنے کے لیے بحری اسکواڈ فراہم کرنا ہے۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ 8 جنگی جہازوں، دو ہیلی کاپٹر کیریئرز اور طیارہ بردار بحری بیڑا بحیرہ روم، بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز تک بھی تعینات کیا جائے گا جس کا مقصد تجارتی جہازوں کو تحفظ دیا جاسکے۔قبل ازیںمشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے دوران گزشتہ 9 روز میں مختلف ممالک میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں ایران میں 1255 افراد جاں بحق جبکہ 12 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔جنگ کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہے بلکہ خطے کے کئی دیگر ممالک بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔
اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں لبنان میں 394 افرادجاں بحق اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔دوسری جانب ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں میں بھی مختلف ممالک میں جانی نقصان ہوا ہے۔ ایران کے حملوں میں امریکی فوج کے 8 اہلکار ہلاک اور 18 زخمی ہوئے جبکہ اسرائیل میں 13 افراد ہلاک اور دو ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
اسی طرح خطے کے دیگر ممالک بھی اس جنگ کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عراق میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے۔عرب میڈیا کے مطابق ایرانی حملوں سے متحدہ عرب امارات میں 4 افراد جاں بحق اور 112 زخمی ہوئے جبکہ کویت میں 6 افرادمارے گئے اور درجنوں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اس کے علاوہ سعودی عرب میں 2 افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہوئے جبکہ بحرین میں ایک شخص جاں بحق اور 40 زخمی ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق عمان میں ایک شخص جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے، قطر میں 16 افراد زخمی جبکہ اردن میں 14 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایران جنگ کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچ گئے جس کے نتیجے میں بحرین کی حکومتی توانائی کمپنی باپکو نے فورس میجر کا اعلان کردیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحرین کی حکومتی توانائی کمپنی باپکو انرجیز نے ایرانی حملوں کے بعد اپنے معاہدوں کی تکمیل سے معذرت کرلی۔
کمپنی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے ایک حملے میں بحرین کی 90 سال پرانی آئل ریفائنری کو نقصان پہنچا جس کے بعد پیداواری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔بیان میں کہا گیا کہ حال ہی میں اس ریفائنری کی استعداد بڑھا کر تقریباً 4 لاکھ بیرل یومیہ تک کی گئی تھی جبکہ پلانٹ میں جدید یونٹس نصب کیے گئے تھے جو جیٹ فیول اور ڈیزل کی زیادہ مقدار پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے باعث کمپنی کے آپریشن متاثر ہوئے ہیں تاہم مقامی مارکیٹ کی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جا رہا ہے۔معاملہ صرف باپکو کا ہی نہیں، ایران سے بڑھتی کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک کی توانائی کی صنعت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
اسی تناظر میں قطر انرجی نے دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس (LNG) پلانٹ سے متعلق بھی فورس میجر کا اعلان کیا تھا۔دوسری جانب کویت نے بھی اپنے آئل فیلڈز اور ریفائنریز میں پیداوار کم کرنا شروع کر دی ہے۔
ادھرایران کی جانب سے اسرائیل پر کلسٹر بموں سے تازہ حملہ کیا گیا ہے۔ عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تازہ حملے میں ایک اسرائیل شہری ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی کلسٹر بموں نے اسرائیل کے چھ مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے بند نہ ہوئے تو ایران اسی طرح جوابی کارروائی کرے گا۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جاری بیان میں ترجمان نے امریکا اور اسرائیل پر شہری علاقوں اور ایندھن و توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ پاسدارانِ انقلاب نے اب تک اسی نوعیت کی کارروائیوں سے گریز کیا ہے، انہوں نے خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکا اور اسرائیل پر ان حملوں کو رکوانے کیلئے دباؤ ڈالیں بصورت دیگر خطے میں اسی طرح کی کارروائیاں کی جائیں گی۔
ترجمان کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ اگر آپ تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہوجانا برداشت کرسکتے ہیں تو یہ کھیل جاری رکھیں۔ترکیے کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ مشرقی بحیرہ روم میں نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغا گیا ایک اور بیلسٹک میزائل مار گرایا جو ترک فضائی حدود میں داخل ہو گیا تھا۔
وزارتِ دفاع کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ترکیے کی جانب داغا گیا یہ دوسرا ایرانی بیلسٹک میزائل تھا۔بیان میں کہا گیا کہ میزائل کے کچھ حصے جنوب مشرقی صوبے غازی انتپ میں گرے، تاہم اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ترک وزارتِ دفاع نے خبردار کیا کہ ترکی اس نوعیت کے واقعات کے جواب میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ضروری اقدامات کرے گا۔چین نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کر دی۔
ایران میںخامنہ ای کے بیٹے کی بطور نئے سپریم لیڈر تقرری پر چین نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کی تقرری ایران کا آئینی فیصلہ ہے۔ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ چین دوسرے ممالک کے داخلی امور میں کسی بھی بہانے سے مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ تل ابیب میں اسرائیلی لیڈرشپ شیلٹر ایرانی حملے میں تباہ ہوگیا۔روسی میڈیا کے مطابق حملے کے بعد شیلٹر کے آس پاس آگ بھڑک اٹھی، شیلٹر میں اسرائیل کے اعلیٰ حکام پناہ لیتے تھے۔
دوسری جانب برطانوی میڈیا کے مطابق بحرین میں بیپکو آئل ریفائنری ایران نے ڈرون حملہ کیا ہے، بحرین میں بیپکو آئل ریفائنری سے دھواں اٹھ رہا ہے۔اسرائیل کے فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں نافذ ہنگامی حالت بہت طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ ابھی جاری ہے۔
ویڈیو بیان میں جنرل زامیر نے کہا اسرائیل 2 سال سے ہنگامی حالت میں ہے، ہمیں توقع رکھنی چاہیے کہ یہ مزید طویل مدت تک جاری رہے گی، صبر ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اسرائیل پر حملے کیلئے بھاری قیمت چکائے گا۔
امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا صدرٹرمپ درست تھے قربانیاں جنگ میں معمول ہیں، مستقبل میں مزید نقصان متوقع ہے۔امریکی فوجیوں کی بڑھتی ہلاکتوں پر امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگستھ نے اپنے بیان میں کہا کہ وقت آئیگاجب ایران کے پاس کوئی انتخاب نہیں بچے گا،ایران جلد ہتھیار ڈالنے پرمجبور ہو جائے گا۔
اماراتی وزارت دفاع نے کہاہے کہ متحدہ عرب امارات میں ہیلی کاپٹر گرکر تباہ ہو گیاہے جس میں سوار 2 فوجی جاں بحق ہوئے ہیں، ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کی وجہ سے گرا جبکہ ملک پر فائر کیے جانے والے 15 میں سے 12 میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا اور 3 میزائل سمندر میں جاگرے۔
متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ آج ملک پر 15 میزائل اور 18 ڈرون حملے ہوئے۔ وزارت دفاع کے مطابق 15 بیلسٹک میزائلوں میں سے 12 کو تباہ کر دیا گیا جبکہ تین سمندر میں جا گرے۔18 ڈرونز کا بھی سراغ لگایا گیا جن میں سے 17 کو روک لیا گیا اور ایک متحد عرب امارات کی حدود میں گر کر تباہ ہوا۔
وزارت کے مطابق ایران کے حملوں کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 253 بیلسٹک میزائل، آٹھ کروز میزائل اور 1,440 ڈرونز کا سراغ لگایا گیا ہے۔ ان میں سے دو میزائل اور 81 ڈرونز متحدہ عرب امارات میں گرے، باقی کو روک لیا گیا یا وہ سمندر میں جا گرے۔

