مشرق وسطیٰ صورتحال سنگین،ایران کے پھرخلیجی ممالک پر حملے

تہران/ریاض/تل ابیب/واشنگٹن/قاہرہ:ایران اسرائیل جنگ کے دوران خلیج میں ایک اور بحری جہاز پر حملے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ برطانوی میری ٹائم سیکورٹی ادارے ‘یو کے ایم ٹی او’ کے مطابق سعودی عرب کے شہر جبیل کے شمال میں تقریباً دس ناٹیکل میل کے فاصلے پر ایک بحری جہاز پر حملے کی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔

ادارے کے مطابق یہ اطلاع تیسرے فریق کی جانب سے دی گئی اور واقعے کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔اس اطلاع کے سامنے آنے سے کچھ ہی دیر قبل ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے خلیج میں مارشل آئی لینڈ کے جھنڈے تلے چلنے والے آئل ٹینکر لوئیس پی کو نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ جہاز سعودی عرب کے ساحلی علاقے جبیل کے قریب نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب اسرائیل میں بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ تل ابیب میں ایک بار پھر زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی جس کے بعد شہر میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق خطرے کے سائرن بجنے کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھے گئے۔ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جاری کشیدگی کے دوران اب تک مجموعی طور پر 82 ڈرون مار گرائے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہی 13 جدید ڈرون تباہ کیے گئے۔ایرانی فوج کے مطابق گرائے جانے والے ڈرونز میں ایم کیو 9، ہرمیس اور آربیٹر جیسے ماڈلز شامل ہیں۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان ڈرونز کو مشترکہ فضائی دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

ادھرایرانی پاسداران انقلاب نے متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ائیربیس پرڈرون حملہ کیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ نے امریکی سیٹلائٹ کے مواصلاتی نظام، وارننگ اور فائر کنٹرول ریڈار کو نشانہ بنایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی ایرانی صدر کی جانب سے پڑوسی ممالک کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے بیان سے قبل صبح سویرے کی گئی۔دوسری جانب اماراتی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اب تک مجموعی طورپر1305 ایرانی ڈرونز کا سامنا کیا ہے، 1229 ڈورنزکو روکاگیا اور 76 ڈرونز اماراتی سرزمین پرگرے۔

اماراتی وزارت دفاع کے مطابق عرب امارات کی طرف آنے والے8 کروز میزائلوں کوبھی تباہ کیا گیا۔ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ان ہمسایہ ممالک سے معافی مانگی ہے جہاں اسرائیل اور امریکا کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ایرانی حملے ہوئے۔

ایرانی صدر نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں بتایا کہ عبوری قیادت کی کونسل نے گزشتہ روز اتفاق کیا ہے کہ اب پڑوسی ممالک پر کوئی میزائل نہیں داغا جائے گا جب تک کہ وہاں موجود فوجی اڈوں کو ایران کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔

اپنے پانچ منٹ کے ریکارڈ شدہ خطاب میں صدر پزشکیان نے جہاں ایک طرف معافی مانگی، وہیں دوسری طرف دشمنوں کو کڑا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی صورت ہتھیار نہیں ڈالے گا۔انہوں نے واشنگٹن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کو سرنڈر دیکھنے کی خواہش دشمن اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے۔

ایرانی صدر نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حملوں میں رہائشی علاقوں، اسکولوں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے ملک کی خودمختاری کے دفاع کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی۔

دریں اثناء ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے تابڑ توڑ حملے جاری ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہفتہ کی صبح ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کی پانچ لہریں بھیجی گئیں۔ ان حملوں کے باعث لاکھوں اسرائیلی شہری رات بھر پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق محدود تعداد میں میزائل داغے گئے جس کے باعث وسطی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کے تازہ بیلسٹک میزائل حملوں میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

تمام میزائل فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیے اور کسی مقام پر براہِ راست گرنے کی اطلاع نہیں ہے جبکہ ایرانی حکام کے مطابق آپریشن وعدہ صادق چہارم کے تحت اسرائیل پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ہفتے کے روز بھی اسرائیلی شہروں میں دھماکوں اور سائرن کی آوازیں سنائی دیتی رہیں جبکہ تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس کے قریب بیت شمیش کے علاقے میں کئی عمارتوں کو شدید نقصان کا شکار ہوئیں اور بعض عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔

اسی دوران عراق اور سعودی عرب میں امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ایران کی جانب سے بغداد ایئرپورٹ کے قریب واقع امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملہ کیا گیا۔ بصرہ اور اربیل میں امریکی کمپنیوں کے دفاتر اور گوداموں کو بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے باعث کئی عمارتوں میں آگ لگ گئی۔

اربیل میں امریکی فوجیوں کے زیر استعمال ایک ہوٹل پر بھی ڈرون گرنے کی اطلاع ملی ہے۔سعودی عرب میں السطان ایئر بیس پر قائم امریکی فوجی ہیڈکوارٹر کو بھی میزائل حملے کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے تاہم سعودی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ شیبہ آئل فیلڈ کی جانب آنے والے چھ ڈرون مار گرائے گئے اور صورتحال کو قابو میں رکھا گیا۔

رپورٹس کے مطابق اردن میں نصب تھاڈ میزائل دفاعی نظام کو بھی نقصان پہنچانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ اسی طرح خلیج فارس کے شمالی حصے اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی اور برطانوی آئل ٹینکرز پر حملوں کی اطلاعات بھی دی گئی ہیں۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا میں ہمت ہے تو وہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے اپنے بحری جہاز تعینات کر کے دکھائے۔علاوہ ازیںجنگ کے 8 ویں دن بھی تہران، اصفہان اور دیگر مقامات پر فضائی حملوں کی نئی لہر جاری رہی۔

اصفہان اور تہران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں 8 افرادجاں بحق ہوئے۔ایرانی حکام کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔امریکی میڈیا کے مطابق حملوں میں فوجی اڈوں، میزائل لانچر اور پاسداران انقلاب سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیاجس کی ایرانی حکام نے بھی تصدیق کی۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائیوں کے دوران ایران کے 80 سے زائد لڑاکا طیارے تباہ کر دیے گئے ہیں، تاہم ایران نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ادھرصدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک ایران ہتھیار نہیں ڈال دیتا اْس وقت تک اس سے کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب عرب لیگ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب سفیر عبدالعزیز بن عبداللہ المطر نے کہا ہے کہ (آج)اتوار کو عرب لیگ کا وزارتی سطح پر ایک آن لائن اجلاس منعقد ہوگا جس میں مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال، بالخصوص ایرانی خلاف ورزیوں پر بحث کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی کارروائیوں نے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے عرب ملکوں کی سلامتی اور خودمختاری کو نشانہ بنایا ہے۔

سعودی سفیر عبدالعزیز بن عبداللہ المطر نے بتایا کہ اجلاس منعقد کرنے کی درخواست سعودی عرب، مصر، اردن، کویت، بحرین، قطر اور عمان کی جانب سے پیش کی گئی ہے جس کا مقصد عرب ملکوں پر ہونے والے حملوں سے نمٹنے کے لیے ایک متحد عرب موقف مرتب کرنا ہے ۔

ایران کا کہنا ہے کہ عرب ممالک سے کوئی دشمنی نہیں، ایران کا ردعمل صرف امریکی اڈوں اور تنصیبات کیخلاف ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عرب ممالک کو حملوں میں فریق نہ بننے کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ عرب ممالک کیساتھ صدیوں سے دوستانہ تعلقات رہے ہیں، امریکی حملے عرب ممالک کی سر زمین سے کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حملوں میں بچوں، بے گناہوں کو نشانہ بنایاجا رہا ہے۔ایران کی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے تک دشمنوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ ایران نے متحدہ عرب امارات اور کویت میں ریڈار سسٹمز، ایندھن کے ذخیروں اور رن ویز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ہفتہ کے روز جاری بیان میں پاسداران انقلاب نے کہا کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کے تازہ مرحلے میں جدید میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے امریکی مقامات پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے۔

پاسداران انقلاب کے مطابق کویت کے علی السالم ایئر بیس پر بھی کروز اور بیلسٹک میزائل حملے کیے گئے جس میں بیس کے ریڈار سسٹمز، ایندھن کی ذخیرہ گاہیں اور امریکی طیاروں کے استعمال والے دو رن ویز کو نقصان پہنچایا۔

ترجمان وائٹ ہائوس کیرولائن لیویٹ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی مکمل کرنے میں 4 سے 6 ہفتے لگیں گے۔ترجمان وائٹ ہائوس کیرولائن لیویٹ نے کہا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں کیلئے ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، صدر ٹرمپ وزیر دفاع سے ملاقات کریں گے، ایران کی قیادت کیلئے متعدد شخصیات سے متعلق غور کیا جا رہا ہے۔

وائٹ ہائوس کی ترجمان نے کہا کہ ایران کی فضائی حدود پر کنڑول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔رات گئیایران نے بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کر دیا۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ انہوں نے بحرین کے علاقے جْفیر میں واقع امریکی فوجی اڈے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ حملہ قشم میں قائم پانی کے پلانٹ پر امریکی حملے کے جواب میں کیا گیا۔