غزہ پرصہیونی بمباری،مسجداقصیٰ خطرے میں،لبنان میں11جا ں بحق

بیروت/غزہ:جنوبی اور مشرقی لبنان کے مختلف علاقوں پر قابض اسرائیل کی جانب سے فجر کے وقت کی جانے والی تازہ فضائی غارت گری کے نتیجے میں11 شہری جا ں بحق اور کم از کم 23زخمی ہو گئے۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق جبل لبنان کے دیہات عرمون اور السعدیات پر قابض اسرائیل کے بہیمانہ حملوں میں 6 افرادجاں بحق اور 8 زخمی ہوئے، یہ تفصیلات مقامی المنار چینل نے رپورٹ کی ہیں۔

مشرقی لبنان کے شہر بعلبک میں قابض اسرائیل نے ایک 4 منزلہ رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا جس میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ لبنانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس حملے کی ابتدائی تفصیلات میں 4 جاں بحق اور 6 زخمیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ پیر کی فجر سے بدھ کی فجر تک قابض اسرائیل کی سفاکیت کے نتیجے میں لبنانی جاں بحق افرادکی مجموعی تعداد 60 ہو چکی ہے جبکہ 349 افراد زخمی ہوئے ہیں۔دوسری جانب حزب اللہ نے شمالی قابض اسرائیل میں واقع المطلہ کے مقام پر فوجیوں کے اجتماع کو راکٹوں سے نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

اپنے بیان میں حزب اللہ نے واضح کیا کہ یہ کارروائی اس مجرمانہ اسرائیلی جارحیت کا جواب ہے جس میں بیروت کے جنوبی مضافات سمیت درجنوں لبنانی شہروں اور بستیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے بدھ کی فجر مقبوضہ مغربی کنارے اور القدس کے مختلف علاقوں میں دھاوے بولتے ہوئے بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی مہم چلائی۔

الخلیل شہر میں قابض اسرائیلی فوج نے فلسطینی مجلس قانون ساز کے رکن شیخ حاتم قفیشہ،صحافی مصعب قفیشہ،حاتم الحمل،ابراہیم دوفش، یوسف غیث، انور ادعیس، طارق ادعیس، عمر ماجد عمر، یوسف وحید ابو سارہ، سابق اسیر خلیل عواودہ اور نوجوان ایہم جرادات کو ان کے والد علی جرادات سمیت حراست میں لے لیا۔

طوباس شہر میں قابض اسرائیلی فوج نے ان کے گھروں پر چھاپہ مار کر 28 سالہ سابق اسیر لافی رافع لافی دراغمہ اور 24 سالہ منقذ احمد حمدان دبابرکو گرفتار کیا۔ اسی طرح طوباس کے جنوب مشرق میں واقع قصبے طمون سے بھی متعدد شہریوں کو گرفتار کیا گیا جن میں عبد العزیز عمر عبد العزیز بشارات، محمد ذیاب محمد بشارات اور عماد الدین ناصر بنی مطر شامل ہیں۔

جنین میں قابض اسرائیل کی سفاکیت کے نتیجے میں یعبد کے مقام سے دو بھائیوں نسیم اور احمد مہند عمارنہ کو ان کے گھر پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیاجبکہ واد عز الدین سے احمد الجبر کو حراست میں لیا گیا۔ قابض اسرائیلی فوجی مسلسل دوسرے روز بھی شہریوں کے گھروں میں تلاشی لے رہے ہیں اور انجینئر محمود عیسیٰ عطاطرہ اور سعید حلمی ابوبکر کے گھروں کو فوجی بیرکوں اور سیکورٹی مراکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

نابلس میں قابض اسرائیلی فوج نے الباذان سے عمر جہاد حناجرہ اور تل سے آدم سلوادی کو گرفتار کیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ نابلس میں ایک خاندان کے گھر پر سحری کے وقت دھاوا بولا گیاجہاں قابض فوج نے نہ صرف اہل خانہ کو یرغمال بنایا بلکہ ان کا سحری کا کھانا بھی چھین لیا۔

سلفیت کے مغربی قصبے بدیا میں بھی قابض اسرائیل نے گرفتاریوں کی مہم چلائی جبکہ رام اللہ کے محلے المصیون سے نوجوان مومن عفانہ کو ان کے گھر پر چھاپے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔

دریں اثناء مقبوضہ بیت المقدس شہر میں ایک نیا واقعاتی نقشہ مسلط کرنے کے ناپاک صہیونی عزائم کے تحت قابض اسرائیلی افواج نے مسلسل پانچویں روز بھی مسجد اقصیٰ کو بند رکھا ہوا ہے۔ ہنگامی حالت اور خطے میں جاری کشیدگی کو جواز بنا کر اٹھایا گیا یہ قدم بیت المقدس کے باشندوں اور مبصرین کے نزدیک ایک مکمل ”مذہبی جنگ” ہے جس کا نشانہ اس مقام کا تقدس اور عبادت کی آزادی ہے۔

قابض اسرائیلی فوج نے نہ صرف نمازیوں کو مسجد تک پہنچنے سے روک دیا ہے اور انہیں اس ماہِ فضیلت میں نمازِ عشاء اور تراویح کی ادائیگی سے محروم کر رکھا ہے بلکہ وہ اس جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے کہ یہ اقدامات مسجد اقصیٰ کی ”حفاظت” کے لیے ہیں۔

علاوہ ازیںغزہ کی وزارت صحت نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ 11 اکتوبر 2025ء کو سیز فائر کے اعلان کے بعد سے اب تک اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 633 ہو گئی ہے۔

دوسری جانب گذشتہ ماہ فروری میں 3044 نئے بچوں کی پیدائش ریکارڈ کی گئی ہے۔وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کے ہسپتالوں میں ایک شہید اور تین زخمیوں کو لایا گیا۔ بیان میں اس تلخ حقیقت کی جانب اشارہ کیا گیا کہ شہدا کی ایک بڑی تعداد اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہے جن تک ایمبولینس اور سول ڈیفنس کے عملے کی رسائی تاحال ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

وزارت صحت نے واضح کیا کہ سیز فائر کے اعلان سے اب تک مجموعی طور پر 633 فلسطینی جام شہادت نوش کر چکے ہیںجبکہ 1,703 افراد زخمی ہوئے اور 753 افراد کو ملبے سے نکالا گیا ہے۔وزارت صحت کے باضابطہ بیان کے مطابق 7 اکتوبر2023ء سے شروع ہونے والی قابض اسرائیل کی وحشیانہ نسل کشی کے نتیجے میں اب تک شہدا کی مجموعی تعداد 72,117 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 171,801 تک پہنچ چکی ہے۔

ادھرقابض اسرائیلی افواج غزہ میں سیز فائر کے معاہدے کی مسلسل 144 ویں روز بھی سنگین خلاف ورزیاں کر رہی ہیں۔ پٹی کے مختلف علاقوں میں آرٹلری اور فضائی بمباری سمیت شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جس نے نہ صرف انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے بلکہ عملی طور پر اس معاہدے کی روح کو بھی کچل کر رکھ دیا ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار نے میدانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ قطاع کے جنوب میں واقع شہر خان یونس کے مشرقی علاقوں میں اسرائیلی ٹینکوں نے اندھادھند اور بھاری فائرنگ کی۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ شہر کے مشرقی علاقوں کو توپ خانے سے نشانہ بنایا گیا ۔

وسطی غزہ میں واقع بریدج کیمپ کے مشرقی حصے پر اسرائیلی جنگی طیاروں نے وحشیانہ بمباری کی تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔