ایران پر حملہ،کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر دھاوا،10مظاہرین جاں بحق

کراچی/لاہور/اسلام آباد/گلگت/نیویارک/بغداد/تہران/بیروت:ایرانی سپریم لیڈرکے مارے جانے کے بعد کراچی میں مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصل خانے پر دھاوا بول دیا، جھڑپوں میں 10 مظاہرین جاں بحق اور 35 زخمی ہوگئے۔

کراچی میں ایم ٹی خان روڈ پر مظاہرین نے امریکی قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی، اس دوران مظاہرین پرفائرنگ کی گئی جس میں 10 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہوگئے، لاشوں اور زخمیوں کو سول اور جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے جواب میں مظاہرین کی جانب سے پتھرائو کیا گیا۔ مشتعل مظاہرین نے سلطان آباد میں ٹریفک پولیس کی چوکی اور ایک موٹر سائیکل کو نذرآتش کردیا۔

دوسری جانب امریکی قونصل خانے کے باہر ہونے والے احتجاج کے باعث شہر کے اہم ترین تجارتی و سفارتی زون میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا ۔ٹریفک پولیس کے مطابق احتجاج کے پیشِ نظر سلطان آباد سے مائی کولاچی جانے والی سڑک دونوں اطراف سے بند کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت مکمل طور پر معطل ہوگئی۔

ادھروزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے امریکی قونصلیٹ واقعہ پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ ہائوس سے جاری بیان میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ امریکی قونصلیٹ پر ایک انتہائی افسوسناک واقعہ رونما ہوا جس سے انسانی جانیں ضائع ہوئیں،اسوقت ملک جنگی صورتحال سے دوچار ہے ایسے میں امن و امان سبوتاژ کرنا مناسب نہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے مذہبی رہنمائوںسے رابطہ کیااور انہیں عوام کے جذبات کو ہر صورت قابو رکھنے کی درخواست کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے امریکی قونصلیٹ کے واقعہ میں ضائع ہونے والی جانوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

سید مراد علی شاہ نے کہاکہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی سکتی۔وزیراعلیٰ سندھ نے انتظامیہ اور پولیس کوامن و امان ہر صورت برقرار رکھنے کی ہدات کی اور کہاکہ عوام کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

دریں اثناء وزیرداخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔وزیرداخلہ سندھ نے کہاکہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے ہدایات دیں کہ حساس تنصیبات کی سیکورٹی مزید موثر بنائی جائے۔احتجاج کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستوں کا تعین کیا جائے۔

علاوہ ازیںلاہور میں بھی مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کے باہر توڑ پھوڑ کی، پولیس نے مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ جانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ مظاہرین نے امریکی قونصلیٹ کے سامنے لگائے سیکورٹی کیمپ بھی اکھاڑ دیے۔

مظاہرین نے امریکی قونصلیٹ شملہ پہاڑی کے باہر دھرنا دے دیا۔امریکی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین کو روکنے کیلئے کنٹینرز کھڑے کردیے گئے۔ پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ رینجرز کے دستے بھی پہنچ گئے ہیں۔

اسلام آباد میں مظاہرین نے امریکی سفارتخانے کی طرف پیش قدمی کی،پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے شدید شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی ۔پولیس کی جانب سے مظاہرین کو روکنے کیلئے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں، ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا۔

ادھر گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بھی احتجاجی ریلیاں، مظاہرے اور پرتشدد احتجاج کیا گیا۔ا سکردو میں اقوامِ متحدہ کے دفاتر کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔متعدد مقامات پر مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم ہو، جس میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے جبکہ ڈی ایس پی ا سکردو اور متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

نگران گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان شبیر میر نے کہا کہ پورے علاقے میں سیکورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور رینجرز کو طلب کر لیا گیا ہے جو گلگت اور اسکردو میں امن و امان قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دنیا کے مختلف شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں ۔ عراق کے دارالحکومت بغداد میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین گرین زون کی طرف بڑھے۔گرین زون بغداد کا وہ انتہائی محفوظ علاقہ ہے جہاں عراقی حکومت، پارلیمنٹ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔

الجزیرہ کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیوز میں مظاہرین کو جھنڈے لہراتے اور نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کچھ مظاہرین امریکی سفارت خانے کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ بعض افراد نے گرین زون کے داخلی دروازے کے قریب چوک پر گاڑیوں کو روکنے کی بھی کوشش کی۔

سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان تنائو کی کیفیت دیکھی گئی۔ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس نے بھی ایسی ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں لوگوں کو سڑکوں پر نکل کر اپنے رہنما کے لیے سوگ مناتے دکھایا گیا ہے۔

امریکا میں بھی اس واقعے کے خلاف آوازیں بلند ہوئیں۔ نیویارک شہر کے ٹائمز اسکوائر میں شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے امریکی حملوں کو ایک خطرناک پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ غیر قانونی جنگ میں خطرناک اضافہ ہے۔

مظاہرین نے جنگ بندی اور مزید حملے روکنے کا مطالبہ کیا۔مقبوضہ کشمیر میں بھی سرینگر میں لال چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔لبنانی دارالحکومت بیروت میں امریکی سفارت خانے کے اطراف غیر معمولی سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

روسی میڈیا کے مطابق سفارت خانے کی جانب تیزی سے بڑھتے ٹرک دیکھے گئے جبکہ کچھ دیر بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ تاہم واقعے کی سرکاری سطح پر تصدیق یا تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔