اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو زندگی بخشی ہے وہ قدرت کا ایسا انمول عطیہ ہے جس کی ناقدری اسے ضائع کر دیتی ہے۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اس نعمت الٰہی سے کیسے استفادہ کرتا ہے۔ زندگی ایک بشر کو ایک بار ملتی ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی اپنی زندگی دوسرے کو بخش دے یا کسی کی زندگی کو کو چرا کر اپنے وجود میں داخل کر دے۔ وہ البتہ اتنا کر سکتا ہے کہ اپنی خراب گزرتی زندگی کو مزید شکستہ و بد ہیئت کردے یا اسے آلائشوں سے پاک اور شاندار بنا لے جیسے کہ وہ اپنے چاک چاک لبادے کو اتار کر اس کی جگہ نفیس لباس کو زیب تن کر لے۔
انسان طبیعتاً جتنا چاہے سخت مزاج اور جارح ہو، اس میں اپنی تعریف و تحسین سننے اور دل میں، اپنی صلاحیتوں کے اعتراف کی خواہش بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے سراپا کو آئینے میں دیکھ کر خود کو ہی نہیں سراہتا ہے بلکہ لوگوں کی آنکھوں میں جچنے اور اپنی ستائش کے سریلے جملے سننے کو بھی بے چین و بے تاب رہتا ہے۔ ان سرور آگیں آرزؤں کی تکمیل میں وہ اپنی خوب صورت پوشاک، مروجہ فیشن، آرائش گیسو اور نفیس زیب و زینت کا سہارا لیتا ہے۔ ہم خود کوجلوت میں اجاگر کرنے کی ہرممکن سعی کرتے ہیں، یہ جانے بغیر کہ ہمارے وجود کی زیبائش، کہیں ہماری اعلیٰ صفات سے محروم شخصیت کو مزید گہنا تو نہیں رہی۔
ہم اپنی حیات کو مثالی بنائیں یا زندگی کو بے مقصد فضولیات میں کھودیں، اس کا یہ فیصلہ خود ہمیں ہی کرنا ہوتا ہے۔ لہٰذا انسانی زیست کا یہ حق ہے کہ اس کی قدر کرتے ہوئے اس کو بہتر بنائیں، اسے اچھی طرح سنواریں اور اسے خوبصورتی سے اس طرح سجائیں جیسے نو بیاہتا دولہا اور دلہن کے حجلہ عروسی کو پھولوں، رنگ برنگے ربنز اور خوش نما لائٹوں سے جاذب نظر بنایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زندگی میں اچھا دِکھنے کے لیے ہمیں کیا کرنا ہوتا ہے۔ خود کو بہترین انسان بنانے کے لیے خوبصورت اور مہنگا لباس زیب تن کر کے، بالوں کو سنوار کے، تھری پیس سوٹ کے ساتھ نکٹائی لگا کر یا پرفیوم کی خوشبوئیں لٹاتی شیروانی پہن کر اور گلے میں پھولوں کے ہار ڈال کر، پوری زیبائش و آرائش کے ساتھ گھر سے باہر نکلے، تاکہ اس کا فقید المثال استقبال ہو اور واہ واہ کی رسیلی آوازیں کانوں میں شہد کی سی مٹھاس پیدا کر رہی ہوں۔ لیکن ضروری نہیں کہ خوش لباسی اور زیب وزینت اس شخصیت کے اندر بھی بہترین کردار اورمثالی طبیعت کے پھول کھلا رہی ہو۔ خوش نما دِکھنے والوں کی شوخ و شنگ آنکھیں مسحور کن ضرور لگتی ہیں اور لوگ ان کو دیکھ کر کہہ اٹھتے ہیں کہ واہ کیا بات ہے اس شخص کی ، جی چاہتا ہے اسے دیکھتے ہی چلے جائیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہرخوش نما صورت کے مالک شخص کا باطن بھی دکھائی دیتے حسن کی مانند خوبصورتی کا مظہر ہوتا ہے؟
انسان کی اصل رعنائی عموماً وہ نہیں ہوتی جس کا نقشہ مندرجہ بالا الفاظ میں کھینچا گیا ہے۔ شخصی خوبصورتی وہ ہے جو انسان کی خوشگوار طبیعت، ہنس مکھ مزاج، حسن اخلاق، قابل تحسین کردار، محاسن عمل اور عمدہ قول و فعل میں جھلکتی ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے بیشتر ہم وطن انسانی خوبیوں سے دست کش ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ہمارا پورا زور سب سے زیادہ امیر اور دولت مند اور صاحب قوت و شہرت پہ ہوتا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمارا ذاتی اور اجتماعی کردار کیا ہونا چاہیے؟ اس کا واضح خاکہ ہمارے دین حنیف اور سیرت پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن حکیم کی تعلیمات اور سنت مطہرہ نے ہمارے لیے رہنما اصول وضع کر رکھے ہیں۔ لیکن یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم نے انہیں طاق نسیاں میں رکھ دیا ہے۔ رسوم و رواج میں جکڑے ہوئے ہمارے معاشرے نے انسانی قدروں کو خاک میں ملا رکھا ہے۔
سماجی خرابیوں نے بھی ہمارے اعمال کو بگاڑنے پر کمر باندھ رکھی ہے۔ ہمارے کردار کو سب سے زیادہ نقصان روپے پیسے کی کشش، ہوس، غیراخلاقی طرز عمل اور سماجی و معاشرتی گراوٹ نے پہنچایا ہے۔ سماجی اور معاشرتی تناظر میں سیاسی اور نظریاتی چپقلش اور کشمکش نے ہمارے کردار کو سب سے زیادہ بد صورت بنا دیا ہے۔ جہاں مخالفتوں، نفرتوں، دوسروں کو کم تر سمجھنے اور اقتدار کی رسہ کشی میں بداخلاقی اور بدخواہی کی تمام حدود کو پار کرنے کو بھی جمہوریت کے حسن پر محمول کیا جاتا ہے۔ اس رویے نے ہماری ثقافتی اور سماجی روایات کو تہہ و بالا کرنے میں اپنا حصہ ڈالا ہوا ہے اور بھی دیگر عوامل ہیں جن کے سبب ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے اخلاقی، تہذیبی اور روحانی ورثے سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ خرابیوں کی ایک لمبی فہرست ہے جس نے ہمیں غیرانسانی افعال اور اور بدعملی کا شکار کر رکھا ہے۔
سب سے زیادہ جس چیز نے ہمیں داغدار برتاؤ کا شکار کیا ہوا ہے وہ روپے پیسے کے حصول کی شدید طلب، ہوس اور طمع جیسی برائی ہے۔ ذاتی منفعت کی بے رحمانہ دوڑ نے ہمارے کردار کو جس بری طرح سے مسخ کیا ہے ،اس کا مداوا کرنے میں برسہا برس کی محنت درکار ہے۔ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں ایک دلچسپ واقعہ نشریاتی اداروں میں مضحکہ خیزی کا باعث بنا۔ بتایا گیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا کہ انہیں کچھ رقم کہیں سے پڑی ملی ہے، جس کی ہو وہ آ کرمجھ سے وصول کر لے۔ جواباً بارہ معزز اراکین نے رقم کی ملکیت کے لیے ہاتھ کھڑے کر دیے ۔ معلوم نہیں یہ واقعہ واقعتا ایساتھا یا محض ایک مذاق لیکن اس طرح کے واقعات اس سے پہلے بھی ہماری جگ ہنسائی کا باعث بنتے رہے ہیں۔ اس نوع کی حرکتیں ظاہر کرتی ہیں کہ ہم طمع اور لالچ میں جھوٹ سچ کی پہچان کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔
آئیے ذرا غور کریں کہ اگر ہم وہ طریقے اپنانے کی کوشش کریں جو ہماری اخلاقی تہذیب کی شان ہوا کرتے تھے۔ آئیے ہم ایسے گر اپنائیں جو معاشرتی اصلاح کا راستہ استوار کر سکتے ہیں۔ مثلاً ہم دوسروں کے دکھ درد بانٹنے کی پُرخلوص کوشش کریں۔ آپس میں ہمدردی کے ساتھ پیش آئیں۔ مسکرا کر بات کریں۔ غصے پر قابو پائیں۔ خود غرضی اور نفرتوں کی دیواریں گرا دیں۔ ہر ایک کے لیے محبت اور رحمدلی کا معاملہ کریں۔ خود بھی نظم ضبط کا مظاہرہ کریں، ایک دوسرے سے ہمدردی اور ایثار کی بات کریں۔ مجبور و بے بس لوگوں کی مدد کریں۔ ظلم سے گریز کریں۔ غصے پہ قابو پائیں۔ ملک سے اور ہم وطنوں کے ساتھ پیار کریں۔ نماز قائم کریں، خوف خدا کریں، جھوٹ، ریاکاری اور بد دیانتی سے اجتناب کریں اور ذکر اللہ سے اپنی محفلوں کو با برکت بنائیں۔ اگر سب ان اوصاف کا اہتمام کریں گے تو ہم ایک نیک اور خوبصورت معاشرے کی بنیا رکھ سکیں گے۔ اِن شا اللہ تعالیٰ! یہ تمام صفات حکمرانوں کے لیے بھی ہیں اور محکوموں کے لیے بھی ہیں۔

