مہنگائی کے نوکیلے نرخ اور غریب کا بھوکا پیٹ

شہر کی فصیلوں پر جب سورج کی پہلی کرن نمودار ہوتی ہے تو عام آدمی کے لیے یہ صرف ایک نئے دن کا آغاز نہیں ہوتا، بلکہ بقاء کی ایک نئی جنگ کا پہلا مورچہ ہوتا ہے، اور جب ماہ رمضان المبارک کا ہو تو، شہر کی بلند وبالا عمارتوں سے لے کر دیہات کی کچی دیواروں تک امید اور خوف کی ایک مشترکہ لہر دوڑ جاتی ہے۔ امید برکتوں کی اور خوف ان ”نوکیلے نرخوں” کا جو غریب کی جیب کو چھلنی کر دیتے ہیں۔ لیکن اس بار پنجاب کی فضاؤں میں ایک نئی گونج ہے۔ یہ گونج کسی سیاسی نعرے کی نہیں بلکہ انتظامی تازیانے کی ہے۔ جو گراں فروشی کے پربتوں کو پاش پاش کرنے کے لیے لہرایا گیا ہے۔ پاکستانی معیشت کے اوراق چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ”ذخیرہ اندوزوں نے معیشت کے گلے میں مہنگائی کا پھندا ڈال رکھا ہے” اس مرتبہ حکومت پنجاب سے رمضان پیکیج کے تحت 42لاکھ سے زائد خاندانوں کو 10ہزار روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 10مارچ تک تمام مستحق خاندانوں کو کارڈ کی ترسیل مکمل کر دی جائے گی۔ جبکہ کارڈز پر نہ کوئی چارجز نہ کوئی ”پن کوڈ” رکھا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ گراں فروشی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

پورے پاکستان کی معیشت کے پھیپھڑے افراط زر کی آلودگی سے بوجھل ہو چکے ہیں، یہ ایک ایسا ٹی بی کا مرض بن چکا ہے۔ جس کا علاج تو ممکن ہے اور مہنگائی کا علاج کرنے کی ہر موقع پر کوشش بھی کی جاتی ہے لیکن گاہے بگاہے ایسے مراحل پیش آتے ہیں کہ حکومت کی توجہ بٹ کر رہ جاتی ہے۔ کبھی مارکیٹ سے چینی غائب ہو جاتی ہے تو حکومت درآمد کرتی ہے تو ظاہر ہے درآمدی چینی قیمت میں بڑھ کر ہی فروخت ہوگی۔ کبھی آٹے کی قیمت کنٹرول کرنے کی کوشش میں مارکیٹ سے آٹا ہی غائب ہو جاتا ہے۔ جب منظر عام پر آتا ہے تو قیمت بڑھ جاتی ہے۔ کبھی زائد پیداوار بھی قیمت میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔ کسی سال پیاز، آلو، ٹماٹر اتنی زیادہ پیدا ہوکر رہتے ہیں کہ سستا بکنے کے باعث کسان فصل کو زمین میں دباکر آیندہ سال فصل نہ بونے کا تہیہ کرلیتا ہے اور اگلے برس پیداوار کی قلت ٹماٹر کو 3سے 4سو روپے فی کلو اور آلو 100سے ڈیڑھ سو روپے فی کلو تک جا پہنچتی ہے۔ ماہ رمضان المبارک میں پورے پاکستان کا منظر ایک جیسا ہوتا ہے، منافع خوروں کی گراں فروشی کے تیر معصوم شہریوں کے پیٹ کا نشانہ باندھتے ہیں، کیونکہ ایسے میں جب ریاست خاموش تماشائی بن جاتی ہے تو بازار کا بھاؤ آسمان سے باتیں کرتا ہے اور جب ریاست بیدار ہونے لگتی ہے تو نرخوں کے بت زمین بوس ہونے لگتے ہیں۔ پنجاب نے اس سلسلے میں کچھ اقدامات اٹھائے ہیں اور دیگر صوبے بھی گراں فروشی کا علاج کرتے چلے آئے ہیں۔

پاکستان میں مہنگائی کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں تعطل پیدا کر دیا جاتا ہے۔ کہیں ذخیرہ گاہوں میں قید کرلیا جاتا ہے اور منافع خوروں کی بے لگام منافع کمانے کی خواہش کو قید کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جس سے عام آدمی کی تھالی خالی رہ جاتی ہے۔ البتہ اگر ریاست اس بات کی ٹھان لے کہ کچھ بھی ہو جائے گراں فروشی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تو یہ غریبوں کے معاشی زخم پر مرہم رکھنے کی کوشش ہوگی۔ پنجاب حکومت اس سلسلے میں سخت اقدامات اٹھا رہی ہے۔عالمی سطح پر جب پیٹرولیم مصنوعات، گندم، چاول، چینی اور دیگر غذائی اجناس کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوکر رہتا ہے۔ ایسے میں گراں فروش زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں۔ کہیں ذخیرہ اندوزی کہیں سستی پیداوار کو بہت بڑی تعداد میں مارکیٹ سے خرید لینا اور پھر جب قلت پیدا ہو جاتی ہے تو مہنگے داموں فروخت کردینا۔ یہ سب اس لیے ممکن ہوتا ہے کہ حکومت سے نظریں چراکر ایسے کام کرلیے جاتے ہیں اور جب حکومت اس طرف متوجہ ہوتی ہے تو وہ اربوں روپے جیب میں ڈال کر منظر سے غائب ہو چکے ہوتے ہیں۔ لیکن اس بار جب پنجاب انتظامیہ کے افسران اپنی گاڑیوں کے سائرن بجاتے ہوتے بازاروں میں داخل ہوں گے تو ان کے پاس قانون کا پوسٹر بھی ہوگا جس سے گراں فروش اپنی ریٹ لسٹوں کو فوراً گرا دیں گے۔ کیونکہ پنجاب حکومت کا یہ تہیہ کہ اس بار گراں فروشی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ جس پر دکاندار اپنی ریٹ لسٹیں درست کرلیتے ہیں۔

پورے پاکستان کو بے لگام مہنگائی سے بچانے کے لیے ایسے عناصر کو لگام ڈالنے کی ضرورت ہے جو کسی نہ کسی طریقے سے گرانی پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں اور یہ معاملہ صرف ماہ رمضان تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ یہ عمل پورے سال جاری رہنا چاہیے۔ ادھر چند دن کے لیے شور اٹھتا ہے اور جیسے ہی معاملہ ٹھنڈا ہوتا ہے، منافع خور عناصر پھر میدان میں معرکہ انجام دینے پہنچ جاتے ہیں اور بلاخوف وخطر ہر شے مہنگی ہونے لگتی ہے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ دام وصول کرتے ہیں، جس سے غریب کا پیٹ بھوکا ہی رہتا ہے۔