افغان طالبان کے حوالے سے اب یکسو ہونے کی ضرورت

پاکستان میں بھارت کے حوالے سے عوامی سطح پر یکسوئی موجود ہے، لوگوں کو پتہ ہے کہ یہ ہمارا دشمن نمبر ایک ہے۔ اس نے ہمارے خلاف بہت سی سازشیں، تخریب کاریاں، دہشت گردی کی کارروائیاں کی ہیں اور ہمیں ان سب کو ناکام بنانا ہے۔ افغانستان کی طالبان حکومت کا معاملہ البتہ کچھ مختلف ہے۔ دراصل چونکہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کی بیس سالہ موجودگی کے دوران پاکستان میں افغان طالبان کی حمایت جاری رہی ہے، اسی وجہ سے آج بھی کچھ لوگ کنفیوز ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کون دوست اور کون دشمن ہے۔ پھر چونکہ افغان طالبان اسلامی نیریٹو استعمال کرتے ہیں، ان میں کچھ لوگ عالم دین ہیں، بعض نے ماضی میں پاکستانی مدارس سے بھی تعلیم پائی ہے، ان سب کا مذہبی حلیہ، ٹھیٹھ مذہبی لائف سٹائل ہے، منہ بھر بھر کر یہ قرآن وسنت کی باتیں کرتے اور اپنے طرز گفتگو سے دوسروں خاص کر پاکستانیوں کو متاثر کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے کچھ لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں۔ حقائق مگر بالکل مختلف اور دل ہلا دینے والے ہیں۔

یہ ضروری ہے اب پاکستانی اہل قلم جرأت اور صاف گوئی سے حق بات کہیں، افغان طالبان کی بدمعاملگی، فریب اور دھوکے بازی کو بے نقاب کریں۔ عام آدمی کو بتائیں کہ اس متشرع حلیہ کے پیچھے ایک بے لحاظ اور سخت چہرہ پوشیدہ، جس کے باطن میں سنگدلی غالب ہے اور اغلبا نہ دھلنے والا زنگ لگ چکا ہے۔ ہمیں بعض چیزوں کے بارے میں بالکل کلیئر اور یکسو ہونے کی ضرورت ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والی ٹی ٹی پی کو افغان طالبان حکومت کی مکمل سپورٹ اور سرپرستی حاصل ہے۔ اس کی چند اہم وجوہات ہیں۔

پہلی یہ کہ افغان طالبان کی پورے ملک پر نہایت مضبوط گرفت ہے۔ صوبہ تو دور کی بات ہے، ایک بھی ضلع افغان طالبان کے کنٹرول سے باہر نہیں۔ کوئی بھی ایسا علاقہ غیر وہاں نہیں جہاں کوئی دہشت گرد گروپ اپنے طور پر سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔ نہیں ایسی کوئی جگہ افغانستان میں موجود نہیں، کم از کم پشتون علاقے میں تو ہرگز نہیں۔ انتہائی شمال میں تھوڑا بہت کہیں ہوسکتا ہے جہاں تاجک اینٹی طالبان عناصر موجود ہیں۔ دوسرا یہ کہ افغانستان میں طالبان کا انٹیلی جنس سسٹم بہت مضبوط ہے، ان کا ہر قصبے، گاؤں میں انٹیلی جنس نظام ہے، مقامی لوگ تعاون کرتے ہیں اور مقامی قبائل کی سطح پر بھی پورا تعاون کیا جاتا ہے۔ ہر اطلاع انہیں ملتی اور اعلی سطح تک جاتی ہے۔ داعش کو کاونٹر کرنے کے لیے افغان طالبان کو ایسا مضبوط سکیورٹی اور انٹیلی جنس نظام بنانا پڑا ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے داعش کو بہت محدود اور کمزور کر دیا ہے۔ تیسرا افغانستان میں اسلحے کی فراہمی پر سخت پابندی ہے، اسلحہ لے کر چلنا ممکن نہیں۔ سخت سزائیں سنائی جاتی ہیں اور یہ ممکن ہی نہیں کہ ٹی ٹی پی جیسا کوئی مسلح گروہ وہاں سروائیو کر سکے۔ ٹی ٹی پی کے ٹریننگ سنٹرز، رہائشی کمپاونڈر، عمر میڈیا سنٹرز وغیرہ جن علاقوں میں ہیں (پکتیکا، ننگرہار، خوست)، وہاں تو طالبان کی گرفت آہنی ہے، کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔ اس لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ ٹی ٹی پی جیسا کوئی گروہ یا القاعدہ کے عناصر افغانستان میں افغان طالبان کی حمایت، اجازت اور سرپرستی کے بغیر اپنا وجود برقرار رکھ سکیں۔ نہیں، ممکن ہی نہیں۔ انگریزی محاورے کے مطابق اٹ از ناٹ پاسیبل۔ اس لیے اگر ٹی ٹی پی افغانستان میں سرگرم ہیں، دیگر دہشت گرد گروہ ہیں جو اپنی کارروائیاں افغانستان کے پڑوسی ممالک میں کر رہے ہیں تو اس کی تمام تر ذمہ داری افغان طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ وہ اس کے ذمہ دار ہیں۔

ایک اور دلیل جو افغان طالبان کے حق میں دی جاتی ہے کہ انہیں یہ خدشہ ہے کہ اگر ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کی گئی تو وہ کہیں داعش سے نہ جا ملیں۔ ویسے تو یہ ممکن نہیں۔ افغانستان میں داعش اتنی طاقتور نہیں، اس کے پاس ایسے مالی وسائل بھی نہیں کہ ہزاروں ٹی ٹی پی جنگجوؤں کو پال سکے یا انہیں رہائش وغیرہ دے سکے۔ داعش کا ماڈل چند انفرادی سطح پر ہے، اکا دکا لوگ جو اپنے طور پر آپس میں کنیکٹڈ رہتے ہیں۔ داعش کے ماڈل میں ہزاروں جنگجوؤں کی گنجائش ہی نہیں۔

دوسری طرف ہم اس مفروضے کو مان لیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ افغان طالبان حکومت پر عالمی اداروں کے لگائے گئے یہ الزامات درست ہیں۔ دوسرا یہ کہ پھر تو دنیا کا کوئی بھی ملک یہی دلیل اور تاویل دے گا کہ اگر میں اپنے ملک میں موجود دہشت گرد گروپ کے خلاف آپریشن کروں تو وہ ہمارے مخالفوں سے جا ملے گا۔ یہ دلیل عالمی سطح پر کہیں بھی قابل قبول نہیں۔ افغان طالبان کے پاس ایک ہی آپشن ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں سے فاصلہ کریں اور ان کے خلاف آپریشن کریں، انہیں اپنے ملک سے باہر نکالیں۔ ایسا اگر نہ کیا گیا تو پھر اس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ افغانستان میں پھر رجیم چینج بھی آ سکتا ہے۔ افغانستان ایران نہیں اور نہ اس کے ایران جیسے تیل کے وسائل ہیں کہ وہ عالمی پابندیاں جھیل گیا۔ افغانستان میں رجیم چینج مشکل کام نہیں۔

ایک اور اہم نکتہ جس پر لکھنا ضروری ہے، وہ میرے جیسے رائٹسٹ، اسلامسٹ رائٹرز پر یہ تنقید کہ آپ نے ماضی میں افغان طالبان کو سپورٹ کیوں کیا؟ اس کا جواب دینا چاہتا ہوں۔ یہ درست ہے کہ بطور ایک رائٹسٹ، ایک اسلامسٹ صحافی اور لکھاری خاکسار نے بھی ان افغان طالبان کی حمایت میں سینکڑوں کالم اور دیگر تحریریں لکھیں۔ ”افغان باقی کہسار باقی… ” والا شعر ہمارے اخبارات دو عشرے چھاپتے رہے۔ یہ مگر کوئی غلطی یا جرم یا گناہ نہیں تھا۔ تب افغان طالبان مظلوم تھے، ان کے وطن پر غیر ملکی افواج نے بلاجواز قبضہ کر لیا تھا۔ نائن الیون کے بعد کسی مناسب شفاف تحقیقات کے بغیر ہی نیٹو افواج افغانستان پر چڑھ دوڑی۔ اس حملے اور بیس سال تک قبضہ برقرار رکھنے کا کوئی اصولی، اخلاقی جواز نہیں تھا۔ غیر ملکی قبضے کے خلاف مقامی آبادی کا مزاحمت کرنا صدیوں سے ایک جائز حق سمجھا جاتا رہا ہے۔ دنیا بھر کے انقلابی خواہ وہ مذہبی ہوں یا لیفٹ سے تعلق رکھنے والے، وہ اخوان المسلمین کے زیراثر ہوں یا چے گویرا وغیرہ کے مداحین، سب ہی سامراج کے خلاف مزاحمت کرتے رہے ہیں۔ اس مزاحمت کی تائید اور حمایت کرنے والے کو سراہنا چاہیے نہ کہ ان سے معافی کا مطالبہ کیا جائے؟ معافی تو ان لوگوں کو مانگنی چاہیے جو سامراج کے حامی رہے، ان کے دستر خوان سے لقمہ تر کی تلاش میں رہے۔

پاکستانی ریاست نے اگر تب افغان طالبان ک خفیہ، درپردہ حمایت کی تو یہ اچھا کیا۔ یہ بڑی جرأت کا کام تھا کہ اتنی بڑی سپر پاور کو ہوشیاری اور سمجھداری سے ہینڈل کرتے ہوئے ان افغان طالبان کو مدد فراہم کی، انہیں چھپنے کے ٹھکانے دئیے، انہیں اخفا میں رکھا، طالبان کی اعلی قیادت یعنی کوئٹہ شوری اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف امریکی دباو کے باوجود کوئی آپریشن نہیں کیا۔ کسی نہ کسی حیلے بہانے سے انہیں ٹالتے رہے۔ ڈبل گیم کرتے رہے۔ پاکستانی رائٹسٹ قلم کار ان افغان طالبان کی حمایت کرتے رہے، ان کی مدح کرتے، ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ یہ سب درست، جائز اور منطقی تھا۔ ہمیں ایسا ہی کرنا چاہیے تھا۔ ہم نے ایک باوقار، آزاد، بااصول اور زندہ ضمیر قوم ہونے کا ثبوت دیا۔

زیادتی، ظلم اور خرابی البتہ افغان طالبان نے کی۔ وہ بدعہد، جھوٹے، خائن اور احسان فراموش نکلے۔ انہوں نے اپنے ان محسنوں کی پشت میں چھرا گھونپا جنہوں نے انہیں بیس سال پناہ دی، ان کے بیوی بچوں کو حفاظت سے رکھا، انہیں مدارس میں پڑھایا۔ جنہوں نے امریکی خفیہ اداروں اور بلیک واٹر جیسے درندوں سے انہیں بچایا۔ اپنی جانوں کو داو پر لگا کر ان افغان طالبان کی حفاظت کی۔ جس پاکستان نے امریکا کو بظاہر لاجسٹک سپورٹ تو دی مگر سی آئی اے کو ان کے مطلوب طالبان نہیں پکڑنے دئیے۔ ملا برادر گرفتار بھی ہوئے تو دس سال تک امریکا کے حوالے نہیں کیا کہ کہیں وہ انہیں جا کر گوانتا ناموبے کے سلاخوں والے پنجرے میں نہ پھینک دیں۔ طالبان کے موجودہ امیر محترم ملا ہبت اللہ کو کچلاک کی مسجد میں پندرہ سال سکون سے بیٹھ کر مشکل وقت گزارنے دیا۔ یہ اور بات کہ وہی ملا ہبت اللہ صاحب آج اپنے محسن پاکستان کے درپے ہیں۔ یہ مگر ان کا فعل ہے، ہم پاکستانیوں نے اپنا حق ادا کیا تھا، اس پر کم از کم مجھے تو کوئی شرمندگی یا ندامت نہیں۔ آئندہ بھی کسی مظلوم کا ساتھ دینا پڑا تو ان شاء اللہ ہم ضرور دیں گے۔