شاعر اسلام سیّد سلمان گیلانی کی رحلت

بارہ فروری 2026ء رات 9 بجے لاہور میں شاعر اسلام سیّد سلمان گیلانی بمرض نمونیہ انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ تحریک آزادی کے معروف راہنما شاعر ختم نبوت سیّد محمد امین گیلانی کے ہاں شرق پور روڈ سادات کالونی نزد جامعہ فاروقیہ شیخوپورہ میں سید سلمان گیلانی 1951ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نے بی اے تک تعلیم یہیں سے حاصل کی، دینی ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔

سیّد محمد امین گیلانی تحریک آزادی کے راہنما تھے۔ تقسیم سے قبل امرتسر میں رہنے کے باعث تمام قومی راہنمائوں سے آپ کے مثالی تعلقات تھے۔ آپ نامور قومی شاعر بھی تھے۔ تمام دینی و ادبی ہم عصر جماعتوں اور اداروں میں آپ کا احترام پایا جاتا تھا۔ امام التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری سے بیعت کا تعلق تھا، اس ماحول میں سیّد سلمان گیلانی کی تعلیم و تربیت نے ان کی شخصیت میں نکھار پیدا کیا۔ والد گرامی کی اتباع میں آپ نے تعلیم کے دوران عوامی اجتماعات، مذہبی مجالس، جلسے، جلوسوں میں نظمیں پڑھنا شروع کیں۔ طرز، ادا، لب و لہجہ میں آپ والد گرامی کی کاپی تھے۔ بہت جلد سیاسی و مذہبی حلقوں میں آپ نے تعارف حاصل کرلیا۔

1974ء کی تحریک ختم نبوت میں جمعیت طلبہ اسلام کے اسٹیج سے بھرپور حصہ لیا، مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود، بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان، اس دور میں آپ سے کلام سنتے تھے اور سرپرستی اور دعائوں سے نوازتے تھے۔ آپ نے تعلیم کے بعد سرکاری ملازمت اختیار کی۔ آپ کا ایک بار فیصل آباد میں تبادلہ ہوا۔ ان دنوں مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر امین پور بازار کی بجائے جامع مسجد محمود ریلوے کالونی میں تھا۔ راقم ان دنوں فیصل آباد مجلس کا مبلغ تھا۔ تب سلمان گیلانی صاحب نے دفتر میں رہائش اختیار کی۔ یوںسال کے لگ بھگ ایک ساتھ رہنا ہوا۔ آپ شگفتہ مزاج، صاف دل، ہنس مکھ اور باوقار شخصیت کی تمام خوبیوں کا مرقع تھے۔ اس کے بعد آپ کا لاہور میں تبادلہ ہوگیا اور واپڈا ہائوس میں اہم پوسٹ پر فائز رہے۔ یہ دور آپ کی بھرپور جوانی کا تھا، اس دور میں آپ نے مذہبی و سیاسی اجتماعات میں کثرت کے ساتھ جانا شروع کردیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام کی تشکیل کے ساتھ آپ کے والد گرامی ان دونوں اسٹیجوں کے اہم رہنما مانے جاتے تھے۔ سید سلمان گیلانی کو بھی یہی اسٹیج ورثہ میں ملے، اپنے والد صاحب کی زیر نگرانی ان اسٹیجوں کی آپ زینت کیا بنے، ہر دلعزیزی، تعارف و شہرت کا ایک اعلیٰ مقام حاصل کرلیا۔ شام کو سرکاری ڈیوٹی سے فارغ ہوئے، بیگ لیا، جلسہ میں چلے گئے۔ جلسہ سے رات کو فارغ ہوتے ہی سفر کیا۔ صبح کو ڈیوٹی پر موجود ہوتے۔ آپ کا یہ دور خاصا مستعدی اور بھرپور مصروفیت کا دور شمار کیا جا سکتا ہے، بہت جلد والد گرامی کے پورے حلقہ عقیدت کی آنکھوں کا تارہ ہوگئے۔

ملک بھر کے اپنے مسلک کے مدارس، ادارے، جماعتوں، خانقاہوں میںادب و احترام، عزت و وقار کا وہ مقام حاصل کیا جو آپ ہی کا حصہ تھا۔ مذہبی عنوان پر ختم نبوت کے اسٹیج اور سیاسی طور پر جمعیت علماء اسلام کے اسٹیج سے آپ کی انمٹ وابستگی قابل رشک اور لائق تبریک رہی۔ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کے نظریاتی طور پر مبلغ و مناد تھے۔ ان کے موقف کے حامی اور بھرپور رضاکار تھے اور جو راستہ آپ کے والد گرامی نے متعین کیا تھا، بڑی ثبات قدمی کے ساتھ اس پر عمر بھر گامزن رہے۔

ایک بار حکومت نے اسکیم جاری کی کہ سرکاری ملازمین اپنی بقیہ ملازمت کا معاوضہ پیشگی لے کر ریٹائرمنٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ آپ نے اس اسکیم کے تحت ملازمت کو خیرباد کہا اور اپنے آپ کو قومی، مذہبی، سیاسی کاموں کیلیے فارغ کرلیا۔ آپ کا یہ فیصلہ ایسا مبارک ہوا کہ ملازمت سے جان کیا چھوٹی کہ آپ کی سرگرمیوں کی جولا نگاہ پورا ملک ہوگیا۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ آپ نے امریکا، افریقہ، خلیجی ممالک اور یورپ کے متعدد اسفار کیے۔ جہاں تشریف لے گئے اپنی اجلی سیرت سے مقام بنا کر آئے۔ جماعتی تعلق کے ساتھ ذاتی تعلقات کا اتنا حلقہ وسیع ہوا کہ حیرت ہوتی ہے۔ جہاں جاتے لوگ آنکھیں بچھاتے۔ امریکا، افریقہ اور یورپ جتنی کثرت سے آنا جانا شروع ہوا، اس تناسب سے آپ نے کثرت کے ساتھ حرمین شریفین کی زیارت کے لیے بھی اسفار کیے۔ ہر جگہ محافل نعت رسول ہوتیں، غرض عرب و عجم آپ کی خدمات جلیلہ سے بار آور ہوئے۔

اس دوران میں اسکولز، کالجز، یونیورسٹیز کی علمی ادبی محافل اور مشاعروں میں شرکت کرنا شروع کی۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں آپ کا نام گونجنے لگا۔ نوجوان نسل کے ایسے مزاج شناس ثابت ہوئے کہ ہر پروگرام میں آپ کا نام سرفہرست ہوتا۔ عوامی اجتماعات، مزاحیہ شاعری، لطیفہ گوئی، مشاعرہ میں شاعرانہ کلام کی کوئی نوع ایسی باقی نہ رہی جس کو آپ نے اختیار نہ کیا ہو، جس سمت قدم بڑھایا، چوٹیوں کو سر کیے بغیر واپس نہ ہوئے۔ اس تمام تر آزادانہ ماحول کے باوجود آپ نے اپنی شناخت کو مجروح ہونے دیا اور نہ ہی اپنی نظریاتی پہچان کو داغدار کیا۔

اس حلقہ میں جہاں عام خطبائ، شعراء کا جانا محال یا شجرہ ممنوعہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس حلقہ میں آپ نے حکمرانی کی اور کامیابی کے جھنڈے لہرائے اور اس حلقہ میں عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ عنہم اجمعین اور عقیدئہ ختم نبوت کی تبلیغ و تلقین ایسے محیرالعقول طور پر کی کہ جہان میں ایک مثال قائم کر دی۔ خالصتاً مذہبی رنگ و روپ کو آزادانہ تعلیمی ماحول میں ایسے روشناس کرایا کہ ریکارڈ قائم کر دیا۔ نوجوان نسل آپ سے ایسے متاثر اور مانوس ہوئی کہ جہاں آپ کا نام آتا تو نوجوانوں کے ٹھٹھ لگ جاتے اور آپ مزاحیہ شاعری سے ایسے سماں قائم کرتے کہ سب شرکاء آپ کی محبتوں کے اسیر ہو جاتے۔ بلامبالغہ آپ نے اس حلقہ کو فتنہ قادیانیت کے عقائد و عزائم کی کافرانہ حقیقت کی زہر ناکیوں سے ایسے باخبر کیا جو اپنی مثال آپ ہے۔ مذہب، سیاست، مدارس، مساجد منابر، عوامی شاعری، لطیفہ گوئی ہو یا دوڑ دھوپ، دھکم پیل ہو، یا جملہ بازی، ہوٹنگ، مخلوط اجتماع، خانقاہی عرفان الٰہی کی مجالس، مجالس حمد و نعت، مشاعرہ و کانفرنسیں، جلسہ، جلوس ان سارے میدانوں میں گل شگفتہ کی طرح سیّد سلمان گیلانی کی بامقصد شرکت و کامیابی ”سمندر عبور کیے مگر دامن تر نہیں ہونے دیا” کا قابل تحسین نمونہ ہے۔ نظم کی طرح نثر میں بھی مہارت کے حامل تھے، کئی مطبوعہ کتابیں اور آپ کا مطبوعہ و غیر مطبوعہ کلام آپ کی یادگار ہیں۔

بیمار بھی ہوئے، آپریشن کے مراحل سے بھی گزرے، صحت سے فیضیاب ہوئے۔ دل کی سرجری کے لیے صحت متحمل نہ تھی، کسی خیرخواہ ڈاکٹر کی پیشہ ورانہ جرأت کام آگئی، آپریشن کامیاب رہا، گھر آئے، پھر اسپتال جانا پڑا۔ فقیر راقم شیخ زید اسپتال میں عیادت کے لیے گیا تو بتایا کہ دو بار اتنی کمزوری ہوگئی، دنیا سے فقط ایک رمق تعلق رہ گیا۔ زیادہ رجحان عالم برزخ سے ایسا مضبوط ہوا کہ مرنے کے بعد کا پورا ماحول اجمالی طور پر ملاحظہ کرلیا۔ یہ واپسی محض کریم کے کرم کا صدقہ ہے۔ اس مرحلہ کے متعلق یہ بھی فرمایا کہ آنکھوں سے دیکھ کر عین الیقین ہوگیا کہ عقیدئہ ختم نبوت کے تحفظ، صحابہ کرام و اہل بیت کی عزت و عظمت کے پھریرے بلند کرنے سے ہی نجات وابستہ ہے۔

اس دوران میں پھر صحت یاب ہوکر گھر گئے، فون پر بتایا کہ رمضان شریف کے بعد والد صاحب (شاعر ختم نبوت سیّد محمد امین گیلانی) کے جملہ مطبوعہ غیر مطبوعہ کلام کا دیوان مرتب کرنا ہے۔ دفتر ملتان آنا ہے، یہ کام آپ کے سپرد کرنا ہے، اسے شائع کرنا مجلس کے ذمہ ہے۔ فقیر نے حامی بھرلی، بلکہ اس تجویز کا گویا مجوّز بن گیا۔ تمام مطبوعہ کلام کے مجموعے جمع کرلیے۔ رمضان سے چند دن قبل فون آیا کہ جلال پور پیر والا ایک دوست کی بچی کی شادی پر جانا ہے، ملتان دفتر آئوں گا۔ میں نے عرض کیا کہ میں چناب نگر ختم نبوت کورس میں شرکت کے لیے ملتان سے غیر حاضر ہوں۔ فرمایا: بہت اچھا! رمضان شریف کے بعد حاضری ہوگی۔ ابھی رمضان شروع ہی کیا ہوا کہ وہ وہاں چل دیے، جہاں ہم سب نے جانا ہے، حق تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائیں، آمین بجاہ النبی الکریم۔