مغربی فکر وفلسفے کی ترویج اور اس کے نتائج

تیسری و آخری قسط:
میں ایک چھوٹی سی سادہ سی مثال عرض کروں؟ اب تو کسی کو یہ نہیں پتہ کہ چچا زاد کون ہے، پھوپھی زاد کون ہے، ماموں زاد کون ہے، کزن ہیں سارے۔ ہم نے سارے رشتے انکل میں اور کزن میں ضم کر دیے ہیں۔ یہ انکل ہے جی، اور یہ کزن ہے۔ اس کے سوا کوئی رشتہ ہے؟ کوئی مغرب میں رشتہ باقی رہ گیا ہے؟ سارے رشتے گم ہو گئے ہیں دو لفظوں میں۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ تو میں نے کہا، کسی کو باپ کا پتہ ہوگا تو چاچے کا بھی ہوگا نا۔ اِس بحران میں مغرب پڑا ہوا ہے۔ میں نے ایک تو گورباچوف کی بات کی، آپ کہہ دیں گے کہ مشرقی کیمپ کا تھا، مغربی کیمپ کی بھی بات کرتا ہوں۔ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم جان میجر کے زمانے میں میں وہاں بہت گیا ہوں۔ جان میجر کی الیکشن کمپین کا عنوان یہ تھا ”بیک ٹو بیسکس”۔ بنیادوں کی طرف واپس چلو بھئی، ہم بہت آگے نکل آئے ہیں۔ اس نے اپنے دور میں اصلاحات نافذ کیں، جان میجر نے کہ جناب جو عورت گھر میں رہنا پسند کرے، بچوں کو پالنے کیلئے، گھر کے نظام کو سنبھالنے کیلئے، ہم اس کو بینفٹس دیں گے، ٹیکس میں بھی، وظیفہ بھی دیں گے۔ پورے پانچ سال وہ کرتا رہا لیکن کون جاتا ہے واپس!

ایک جگہ مذاکرہ تھا برمنگھم میں۔ میں نے کہا کتنا بڑا فراڈ کیا ہے تم نے عورت کے ساتھ۔ عورت کے جو فرائض ہیں اُن میں سے کوئی فرض آپ نے اپنے ذمے لیا ہے؟ جو نیچرل ڈیوٹیز ہیں اس کی، بچہ اس نے پیدا کرنا ہے، نیپی اس نے دھونی ہے، پالنا اس نے ہے۔ یا تو اس کی ایک ڈیوٹی تم سنبھالو، اپنی دو ڈیوٹیاں اس کو دے دو۔ اُس کی ساری ڈیوٹیز اس کے ذمے، اپنی ڈیوٹی بھی اس کے کھاتے میں ڈال دی ہے۔ اس کو مساوات کا نام دے دیا ہے۔ یہ کیا کیا تم نے؟ عورت کی جو نیچرل ڈیوٹیز ہیں، ان میں سے ایک ڈیوٹی بھی مرد نے قبول کی ہے؟ اپنی ڈیوٹیاں اس کے کھاتے میں ڈال دی ہیں۔ عقل کی پوری ہے نا۔ آج پریشان بیٹھے ہیں، سر پکڑے بیٹھے ہیں۔ واپس کیسے جائیں، کیا ہو گا۔ تو میں نے ایک بات یہ عرض کی ہے یہ فیملی سسٹم کے حوالے سے۔

پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ کے زمانے میں جب یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور عالمی ادارے collapse ہونے لگے تھے اور بڑا شور مچا تھا، تو پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے کمیٹی بنائی، ریکارڈ پر ہے کہ ویٹی کن سٹی کو، عیسائیوں کے سب سے بڑے مذہبی مرکز کو کیا موقف اختیار کرنا چاہیے۔ وہ رپورٹ ریکارڈ پر ہے۔ رپورٹ دی، انہوں نے کہا جناب، بات ہے سیدھی سیدھی، اگر معیشت کو کسی تباہی سے بچانا ہے، ٹریک پہ لانا ہے تو ہمیں معیشت کے وہ اصول اختیار کرنے ہوں گے جو قرآن نے بیان کیے ہیں۔ معیشت کے وہ اصول اختیار کرنے ہوں گے۔ اور یہ بات یہیں تک نہیں رکی۔ پاپائے روم کی اس کمیٹی کی اس رپورٹ سے پہلے ہمیں پاگل کہا جاتا تھا، مولوی صاحب! بغیر سود کے بینکاری ہو بھی سکتی ہے، کیا پاگلوں والی باتیں کرتے ہو؟ اس کے بعد مغرب نے اب تک دو سو سے زیادہ ادارے غیر سودی بینکاری پر بنائے ہیں، چل رہے ہیں۔ اس رپورٹ پر کہ قرآن پاک کے بیان کردہ اصول، غیر سودی بینکاری، غیر سودی سسٹم۔اِس وقت میں آپ کو معروضی صورتحال عرض کر رہا ہوں، غیر سودی بینکاری کا مرکز بننے کے لیے پیرس اور لندن میں کشمکش ہے۔ پیرس اور لندن کی کشمکش بڑی تاریخی ہے، بہت تاریخی کشمکش ہے۔ اس وقت دونوں میں مقابلہ جاری ہے کہ مرکز کون بنے گا۔ اور ٹونی بلیئر کی آخری تقریر پڑھیں جو اُس نے وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے سے پہلے کی تھی کہ میں لندن سے وعدہ کرتا ہوں کہ غیر سودی بینکاری کا مرکز لندن کو بنا کر جاؤں گا۔ یہ کشمکش لندن اور پیرس میں چل رہی ہے اور اس سے بڑی، رشین پارلیمنٹ کی یہ قرارداد آج بھی موجود ہے، ریکارڈ پر ہے، رشین پارلیمنٹ نے قرارداد کر کے حکومت سے کہا تھا جناب ملک کے معاشی قوانین میں لچک پیدا کرو تاکہ ہم اسلامی معیشت کے اصولوں کو یہاں لاگو کر سکیں۔

برطانوی شاہ چارلس کا ذکر ہے۔ نیویارک میں ایک کانفرنس تھی پولوشن پر۔ یہ جو موسمیاتی تغیر اور یہ سارا، بڑا لمبا ملبہ ہے یہ، جتنا بھی اٹھائیں گے نیچے اور گند نکلے گا۔ اس پہ کانفرنس تھی۔ اس وقت چارلس شہزادہ تھا۔ میں بھی اس وقت نیویارک میں تھا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چارلس کا کہنا تھا پولوشن اور ماحولیات کے مسئلے کو اگر کنٹرول کرنا ہے تو آپ کو معاشرت کے وہ اصول اختیار کرنے ہوں گے جو قرآن پاک نے بیان کیے ہیں۔

تو میں نے تین دائروں میں بات کی ہے۔ کچھ سمجھ میں آیا ہے مغربی فلسفہ؟ وحی کو سائیڈ پہ کر کے عقل اور خواہش کی بنیاد پر نظام ترتیب دیا اور جاہلیت کی ساری قدریں واپس لے آیا۔ اب جان چھڑانے کے لیے قرآن پاک کے حوالے دے رہے ہیں لیکن اگلی بات، آخری بات عرض کروں گا۔ ہم قرآن پاک کو فلسفے کے حوالے سے اور مسائل کے حل کے حوالے سے، سماجی مشکلات اور چیلنجز کے حوالے سے، ایک نظام اور فلسفے کے طور پر ہم موڈ میں ہیں پیش کرنے کے؟ اللہ مجھے اور آپ کو توفیق عطا فرمائیں، اگر آپ کسی فکری کام پہ لگے ہیں تو اپنا رخ ٹھیک کریں، قرآن پاک اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم۔ میں عرض کیا کرتا ہوں، یہ ماضی کی باتیں تو تھیں ہی، یہ مستقبل کی ضروریات بھی ہیں، بشرطیکہ ہم پیش کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ وہ تو مانگ رہے ہیں لاؤ یار کدھر ہیں۔ خدا کرے ہم پیش کرنے کی پوزیشن میں آجائیں اور آج کی کامن سینس میں، آج کی زبان میں، آج کی فریکوئنسی میں قرآن پاک اور سنتِ رسول کو پیش کرنے کا ہمیں پہلے تو حوصلہ چاہیے نا، پھر صلاحیت اور پھر سلیقہ، اللہ پاک ہمیں عطا فرما دیں۔