مغربی فکر وفلسفے کی ترویج اور اس کے نتائج

دوسری قسط:
(١) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پہ کھڑے ہو کر ”ایھا الناس” کر رہے تھے پہلی بار، چاروں طرف بت ہی بت تھے۔ صفا پہاڑی اور نائلہ اور اساف یوں کھڑے تھے۔ بیت اللہ کے اندر باہر بت تھے۔ اور جب حضور ”کل امر الجاہلیہ موضوع تحت قدمی” فرما رہے ہیں، پورے جزیرة العرب میں کوئی بت خانہ تھا؟ یہ پہلی جاہلی قدر ہے جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاؤں کے نیچے آئی۔ بائیس سال ہیں، کھینچ تان کے تئیس سال ہو جاتے ہیں۔ پورے جزیرہ العرب میں کوئی بت خانہ باقی رہ گیا تھا؟

(٢) اچھا، نسلی اور لسانی عصبیت۔ قریش، غیر قریش برابر نہیں ہیں۔ کالا، گورا برابر نہیں ہیں۔ ہاشمی، غیر ہاشمی برابر نہیں ہیں۔ بیسیوں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نسل اور رنگ اور زبان کے امتیاز کو اس عرصہ میں ختم کر دیا تھا۔ اور اس سے ایک سال پہلے کی بات ہے، ایک منظر ذرا تھوڑا سا نظر ڈال لیں۔ مکہ فتح ہوا ہے۔ اوپننگ ہو رہی ہے۔ پہلی اذان جو ہے یہ کیا تھی؟ فتح مکہ کے بعد اسلامی ریاست کی اوپننگ ہو رہی ہے۔ پہلی اذان دینی ہے۔ خانہ کعبہ کی چھت پہ کھڑے ہو کر کس سے دلوائی؟ حضرت بلال۔ جس کو خانہ کعبہ کے نیچے کھڑے ہونے کی بھی شاید اجازت نہیں ہوتی تھی۔ اُس وقت، ایک قریشی سردار ہے، تاریخ میں ذکر ہے، آنکھوں پہ ہاتھ رکھ لیے اور آنکھوں پہ ہاتھ رکھے رکھے مسجد سے باہر نکل گیا۔ اپنے فوت شدہ باپ کو مخاطب ہو کے کہتا ہے، میرے باپ! تو کتنا خوش قسمت ہے کہ یہ منظر دیکھنے سے پہلے دنیا سے چلا گیا ہے کہ کالا غلام بیت اللہ کی چھت پہ کھڑا ہے اور اذان دے رہا ہے۔

میں نے صرف ایک جھلک عرض کی ہے۔ بعد میں وہ خیر مسلمان ہو گئے تھے لیکن وہاں اس وقت آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کے اسی طرح کہ میری نظر نہ پڑے کہ بلال چھت پہ کھڑا ہے اور کہتا جا رہا ہے کہ اے میرے باپ! تو بڑا خوش قسمت ہے کہ یہ منظر دیکھنے تک تو زندہ نہیں رہا۔ میں یہ منظر دیکھ رہا ہوں۔ ختم کیا۔

(٣) اچھا، زنا عام تھا۔ اگر تفصیلات میں جاؤں گا بڑی لمبی بات ہو جائے گی۔ رضامندی کا زنا قانوناً اور معاشرتاً ہر لحاظ سے جائز تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ ”کل امر الجاہلیہ موضوع تحت قدمی” کہا تو زنا کی گنجائش کا کوئی پہلو باقی رہ گیا تھا؟ (٤) شراب تھی، پیتے تھے۔ غزوہ اُحد تک تو سارے ہی پیتے رہے۔ جب ختم کی تو پورے جزیرہ العرب میں کوئی مے خانہ باقی تھا؟ (٥) جوا تھا۔ بیت اللہ میں کھیلا جاتا تھا، مسجد حرام میں کھیلا جاتا تھا، مذہب کے نام پہ کھیلا جاتا تھا۔ حجة الوادع تک باقی رہ گیا تھا؟ (٦) سود تھا۔ چلتا تھا اور وہی دلیل پیش کی جاتی تھی جو آج ہم پیش کرتے ہیں: ”انما البیع مثل الربوٰا” (البقرة) سود اور بزنس میں کیا فرق ہے؟ جب سود کی حرمت کا اعلان کیا تو وہی دلیل جو آج کل ہم سپریم کورٹ میں بحثیں کرتے ہیں ”انما البیع مثل الربوٰا” بیع میں اور سود میں کیا فرق ہے؟ بزنس ہے یار۔ یہ چیزوں کا بزنس ہے، وہ پیسوں کا بزنس ہے۔ لیکن حضور نے قائم رہنے دیا؟ (٧) اچھا، عریانی تھی۔ کس حد تک تھی کہ بیت اللہ کا طواف ننگے کرتے تھے۔ بیت اللہ کا طواف ننگے ہوتا تھا، بالکل … ننگے ہوتے تھے، عورتوں نے کوئی گوجرانوالہ کی لنگوٹی پہنی ہوتی تھی، مرد بالکل ننگے ہوتے تھے، طواف کرتے تھے اور فخر سمجھتے تھے اور اس کو نیچر کہا جاتا تھا کہ اللہ کے ہاں سے اسی حالت میں آئے تھے، اللہ کے گھر میں اسی حالت میں واپس جائیں گے، یہ نیچر ہے۔ ختم کیا کہ رہنے دیا؟ بہت لمبی فہرست ہے، وہ دس بارہ چیزیں۔ (٨) ہم جنس پرستی جائز تھی، سب کچھ ہوتا تھا۔

میں اگلے سوال کی طرف آ رہا ہوں، اس فہرست کو آپ پہ چھوڑتے ہوئے، ذرا تلاش کریں کون کون سی ختم ہوئی تھی؟ زنا ختم ہوا تھا، شراب ختم ہوئی تھی، سود ختم ہوا تھا، عریانی ختم ہوئی تھی، جوا ختم ہوا تھا، بت پرستی ختم ہوئی تھی، نسلی اور رنگی امتیاز ختم ہوا تھا۔ ختم ہوا تھا، ہو گیا تھا۔ اور بھی پانچ سات چیزیں گنی جا سکتی ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ مغرب نے جو کچھ بھی کیا ہے، وہ جاہلیت کی رسمیں واپس نہیں لے آیا؟ اَلٹیمیٹ کیا کیا ہے مغرب نے؟ وہ ساری جاہلیت کی رسمیں جس کو حضور نے پاؤں تلے روند کر سمندر میں پھینکا تھا، وہ ساری میک اپ کر کے، بیوٹی پارلر سے گزار کر آج پھر تہذیب کی علامت بنی ہیں۔

آج معیشت کی علامت کیا ہے؟ سود۔ مرد اور عورت کے تعلقات کی علامت کیا ہے؟ زنا، عریانی، فحاشی۔ میں ایک بات کہا کرتا ہوں، مغرب بہت اچھا بیوٹی پارلر ہے، میں اِس کمال کی داد دیتا ہوں، بہت اچھا بیوٹی پارلر ہے، وہ قدریں جو ہم نے فرسودہ قرار دے کر کوڑے دان میں پھینک دی تھیں، مغرب نے ایک ایک کر کے اٹھائی ہے اور اس کو بیوٹی پارلر سے گزار کر سامنے سجا دیا ہے، یہ سولائزیشن ہے۔ ان ساری باتوں کو حضور نے کیا کہا تھا؟ جاہلیت۔ اور آج ان کا نام کیا ہے؟ سولائزیشن۔ پریکٹیکل یہ ہوا ہے۔

میں پوچھا کرتا ہوں، مجھے جانے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ امریکا بھی بہت دفعہ گیا ہوں اور برطانیہ بھی بہت دفعہ گیا ہوں۔ میں نے کہا یار، سولائزیشن، جدید تہذیب، کوئی ایک بات بتا دو جو ابوجہل کی تہذیب میں نہیں تھی اور تم نے نئی کھڑی کی ہے۔ ایک بتا دو جو اُس دورِ جاہلیت میں نہیں تھی، تم نے کوئی نئی قدر ایجاد کی ہے جس کو جدت کی علامت کہتے ہو۔ سب ہم نے کوڑے دان میں پھینکی تھیں، تم نے اٹھا اٹھا کے اس کو سولائزیشن کے نام سے کھڑا کر دیا ہے۔ خاندانی نظام تتربتر ہو گیا ہے۔

یہ میں نے دوسرا پہلو عرض کیا ہے۔ میں تفصیلات میں نہیں جا رہا، مجھے سفر بھی کرنا ہے۔ پہلا میں نے کیا کہا، بیس کیا تھی؟ عقل اور خواہش۔ یہاں میں ایک بات ذرا شامل کروں گا۔ عقل جو ہے، میں نے کہا اللہ کی نعمت ہے۔ لیکن عقل معاون ہے، اتھارٹی نہیں ہے۔ عقل اس لیے ہے کہ ہم عقل استعمال کریں، اس لیے نہیں کہ عقل ہمیں استعمال کرے۔ ہمیں عقل استعمال کرنے کے لیے دی گئی ہے، عقل کے ہاتھوں استعمال ہونے کے لیے نہیں دی گئی۔ خواہش کی بھی حدود ہیں، ہر خواہش کی نفی نہیں ہے۔ انسان میں جو خواہشات اللہ نے رکھی ہیں، وہ ہیں۔ تو میں نے یہ کہا کہ پریکٹیکل مغرب نے کیا کیا ہے؟ خلاصہ عرض کر رہا ہوں کہ جاہلیتِ اولیٰ جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوادع کے خطبے میں جاہلیت قرار دے کر جاہلیت کے ٹائٹل کے ساتھ اس کی ساری قدروں کو پاؤں تلے روندا تھا، آج وہ سولائزیشن کے نام سے سوسائٹی میں کھڑی ہیں اور راج کر رہی ہیں۔

اچھا، اب اگلے مرحلے پہ آتا ہوں۔ اَلٹیمیٹ کیا ہوا ہے؟ وہ بیس تھی، یہ پریکٹیکل ہے۔ اَلٹیمیٹ کیا ہوا ہے؟ یہ بھی مغرب کی زبان میں عرض کروں گا۔ اب مغرب سر پہ ہاتھ رکھ کے بیٹھا ہے، مغرب کا دانشور سر پہ ہاتھ رکھے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھ رہا ہے کیا ہوا ہمارے ساتھ! گورباچوف کا نام سنا ہوا ہے۔ میخائیل گورباچوف۔ سوویت یونین جس کے ہاتھوں تتربتر ہوا ہے۔ مغرب کے بڑے دانشوروں میں ہے۔ اس کی کتاب پریسٹرائیکا پڑھیں۔ میں نے تو ترجمہ پڑھا ہے، میں تو اَن پڑھ آدمی ہوں انگریزی نہیں جانتا، لیکن آپ انگریزی پڑھ لیتے ہیں نا؟ پریسٹرائیکا منگوائیں، پڑھیں۔ اُس نے ویسٹ کے فیملی سسٹم کا رونا رویا ہے۔ دو تین جملے عرض کر دیتا ہوں۔ وہ پڑھنے کی چیز ہے۔ پریسٹرائیکا اس کی کتاب کا نام ہے، مغرب کے فیملی سسٹم کی تباہی کا رونا رویا ہے اس نے۔ اُس نے کہا، ہوا کیا تھا؟ خود گورباچوف کی زبانی عرض کر رہا ہوں۔ ہوا کیا تھا؟ کہتا ہے پہلی جنگِ عظیم میں قتلِ عام بہت ہوا، ہماری فیکٹریاں، ہمارے دفتر، رجال کار، افرادی قوت کی کمی پڑ گئی، دفتر ویران ہو گئے، رجال کار نہیں مل رہے، افرادی قوت نہیں مل رہی، اکثر قتل ہو گئے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں، ہم نے اپنے دفتر اور اپنی فیکٹریاں آباد رکھنے کے لیے عورت کو ورغلایا کہ یہ کام بھی تم نے کرنا ہے۔ دفتر میں بھی بیٹھنا ہے، گھر بچے بھی پالنے ہیں۔ تم نے ملازمت بھی کرنی ہے، بزنس بھی کرنا ہے، کاروبار بھی کرنا ہے۔ ورغلا کر اپنی افرادی قوت کے خلا کو پُر کرنے کے لیے ہم عورت کو بازار میں لائے، دفتر میں لائے، فیکٹری میں لائے۔ آج وہ فیکٹری میں بیٹھی ہے، گھر برباد ہو گیا ہے۔ کسی بھی مغربی دانشور سے ذرا علیحدگی میں بات کریں، فیملی سسٹم، سر پکڑے بیٹھے ہیں، کیا ہوا ہے؟ گورباچوف کا کہنا ہے، اب ہم اسے واپس لے جانا چاہتے ہیں، اب کون جاتا ہے؟ اب کوئی جاتا ہے؟ کہتا ہے، گھر، ہمارے رشتے ختم ہو گئے، ویران ہو گئے۔ (جاری ہے)