(شیخ الہند اکادمی واہ کینٹ کی ایک نشست میں کی جانے والی گفتگو)
مغربی فکر و فلسفہ، جس پر مغرب کے سارے سسٹم کی، سارے نظام کی، سارے قوانین کی؛ فلسفہ تو وہی ہوتا ہے جس پر سب کا مدار ہوتا ہے؛ اگر میں قرآن پاک کے حوالے سے بات کروں تو قرآن پاک نے ایک آیت کریمہ میں ساری کہانی بیان کر دی ہے۔ مغرب کے فکر و فلسفہ کی بیس کیا ہے؟ قرآن پاک کہتا ہے ”ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس” (النجم)۔ دو بنیادیں ہیں: ایک ظن، اور ایک خواہش۔ ”ان یتبعون الا الظن” یہ نہیں پیروی کرتے مگر ظن کی۔ وما تھوی الانفس اور جو انسانوں کا جی چاہتا ہے اس کی۔ عقل اور انسانی خواہش، اجتماعی۔ ایک فرد کی خواہش، ایک سوسائٹی کی خواہش، وہ بھی خواہش ہے، وہ بھی خواہش ہے۔ اور ظن؟ ایک بات میں اس سے پہلے عرض کرنا چاہوں گا۔
عقل اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ پاک نے نعمت دی بھی ہے، استعمال کرنے کا حکم بھی دیا ہے، غور و فکر کی دعوت بھی دی ہے، اور انسان کا اپنے معاملات طے کرنے میں، چلانے میں بہت بڑا معاون بھی بنا ہے۔ عقل استعمال ہوتی آ رہی ہے لیکن عقل کبھی بھی یقین کا فائدہ نہیں دیتی، نہ شخصی عقل، نہ اجتماعی عقل۔ عقل نے جتنے فیصلے کیے ہیں آج تک سب میں پیشرفت ہوئی ہے، نظرثانی کرنا پڑی ہے، اور سوچ پہ کہیں بریک نہیں ہے۔
عقل کیا ہے؟ کمپیوٹر ہے۔ عقل بہت اچھا کمپیوٹر ہے، اللہ پاک نے ہر انسان کو دیا ہے۔ جو سوسائٹی فیڈ کرتی ہے اس کے مطابق نتیجہ دیتا ہے یہ۔ اپنی طرف سے کچھ نہیں دیتی عقل۔ عقل ایک صلاحیت کا نام ہے۔ ایک بہت اچھا کمپیوٹر ہے۔ سوسائٹی فیڈ کرتی ہے۔ بچہ پیدا ہوتا ہے، کمپیوٹر خالی ہے، فیڈنگ شروع ہو گئی، گھر سے شروع ہوئی، سوسائٹی سے، سکول سے، کالج سے، فیڈنگ ہوتی جاتی ہے، اس کے مطابق پھر وہ نتائج دیتا جاتا ہے۔ کسی کمپیوٹر میں آپ جو پروگرام فیڈ کریں گے اس کے مطابق نتیجہ آئے گا۔ یہ نہیں کہ فیڈ آپ نے کچھ اور کیا ہوا ہے، نتیجہ کوئی اور دے وہ۔ کوئی بھی کمپیوٹر ہے، خود کچھ نہیں دیتا، جو اس میں فیڈنگ ہوتی ہے، جو پیکج یا پروگرام، جس لیول کا، اس کے مطابق اس نے نتیجہ دینا ہے۔
آج تک عقل نتیجہ دیتی چلی آ رہی ہے اور قیامت تک دیتی رہے گی۔ لیکن یہ بات کہ عقل کا کوئی فیصلہ حتمی ہو، ممکن نہیں ہے۔ آپ بیسیوں دائرے دیکھ لیں۔ آج سے پچاس سال پہلے کا فیصلہ اور تھا، اْس سے پچاس سال پہلے کا فیصلہ اور تھا، آج کا اور ہے، آج سے پچاس سال بعد کا اور ہو گا۔ کیوں؟ معلومات میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا، نتائج بدلتے جائیں گے۔ جوں جوں معلومات میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا، نتائج قائم رہیں گے یا بدلتے رہیں گے؟ اور معلومات میں اضافے کا دروازہ بند ہو گیا ہے؟ اور بند ہو سکتا ہے؟ عقل زیادہ سے زیادہ ظنِ غالب کا فائدہ دیتی ہے۔ اور بہت اچھی نعمت ہے، ہمیں فیصلوں تک پہنچنے میں بہت بڑی معاون ہوتی ہے، لیکن قرآن پاک کیا کہتا ہے؟ ایک فیکٹر یہ ہے کہ عقل کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ یقین تو ممکن ہی نہیں۔ ظنِ غالب، جو یقین سے ایک درجہ نیچے ہوتا ہے۔
آپ کے ہاں منطقی کیا بات کرتے ہیں؟ وہم، خیال، ظن، یقین۔ یہ پہلے تین درجے عقل کے ہیں، آخری درجہ وحی کا ہے۔ وہم بھی عقل میں آتا ہے، وہ خیال کی شکل میں ذرا قرار پکڑ لے تو کیا ہو جاتا ہے؟ خیال ہو جاتا ہے۔ اور برابر ہو جائے تو شک ہو جاتا ہے۔ اور غالب ہو جائے تو ظنِ غالب۔ پھر آگے یقین۔ پہلے تینوں چاروں درجے عقل کے ہیں، اور عقل ہی دیتی ہے۔ لیکن اللہ رب العزت نے یہ فرمایا کہ عقل زیادہ سے زیادہ کیا کرتی ہے؟ ظنِ غالب ہے۔ (زنِ غالب نہیں، ظنِ غالب۔ ویسے تو آج کل زنِ غالب ہی ہے۔ لیکن میں ظنِ غالب کی بات کر رہا ہوں کہ عقل ظنِ غالب کا فائدہ دیتی ہے۔)
دوسری بات فرمائی ”وما تھوی الانفس”۔ جو انسانوں کے جی چاہتے ہیں وہ۔ آج پورے فلسفے کی بنیاد کیا ہے؟ سوسائٹی جو سوچتی ہے، سوسائٹی جو چاہتی ہے۔ آج کے تمام تر فلسفے کی بنیاد دو پہیوں پر ہے: سوسائٹی کیا سوچتی ہے، سوسائٹی کیا چاہتی ہے۔ سوسائٹی کی خواہش اور سوسائٹی کی سوچ کو معلوم کرنے کا ذریعہ ووٹ ہے۔ ووٹ خود کوئی سسٹم نہیں ہے، جمہوریت خود کچھ نظام نہیں ہے۔ سوسائٹی کی خواہش بتاتی ہے جمہوریت، سوسائٹی یہ چاہتی ہے۔ سوسائٹی کی سوچ بتاتی ہے، سوسائٹی یہ سوچتی ہے، سوسائٹی یہ چاہتی ہے۔
اللہ رب العزت نے یہ دونوں بنیادیں بیان کر کے فرمایا: ”ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس” کہ لوگ جو کام کرتے ہیں نا، یا ظنِ غالب کی پیروی کرتے ہیں، یا خواہش۔ یہ اگلا مسئلہ ہے، فرد کی خواہش بھی خواہش ہے، طبقے کی خواہش بھی خواہش ہے، قوم کی خواہش بھی خواہش ہے، سماج کی خواہش بھی خواہش ہے۔ خواہش کے درجات ہیں۔ آگے فرمایا۔ ایک ہی آیت ہے۔ یہ ظنِ غالب کی پیروی کرتے ہیں اور سوسائٹی کی خواہش کی پیروی کرتے ہیں، یا سوسائٹی کیا چاہتی ہے۔ لیکن یقین اور ہدایت تو اللہ (کی طرف سے) ”ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس ولقد جاء ھم من ربھم الھدیٰ” (النجم ) ہدایت اور یقین وہاں سے آتا ہے۔
میں عرض کیا کرتا ہوں، قرآن پاک نے ساری یہ جو فکری جنگ ہے نا، سب کی بنیاد یہ بیان کر دی۔ یہ تو آپ کے بھی علم میں ہے، آج کے فیصلے کس پہ ہوتے ہیں؟ سوسائٹی کیا چاہتی ہے جی۔ ”تھوی الانفس” کیا ہے؟ سوسائٹی کیا چاہتی ہے، سوسائٹی کیا سوچتی ہے۔ سوسائٹی کی سوچ کا نتیجہ کیا ہے؟ ظن۔ لیکن ہدایت اور یقین کہاں سے آتا ہے؟ ”ولقد جاء ھم من ربھم الھدیٰ”۔ یہ تو میں نے بیس بیان کی ہے۔
پریکٹیکل کیا ہوا ہے؟ مغربی فلسفہ، یہ ہیومنٹی کا فلسفہ آج کل جو ہے، اس کو آپ کچھ بھی کہہ لیں، اس نے عملاً کیا کیا ہے؟ اس پر ایک حدیثِ مبارکہ عرض کرنا چاہوں گا۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، حجة الوداع کا جو خطبہ ہے، خطبات کا مجموعہ، میں نوجوانوں سے کہا کرتا ہوں یار ایک دفعہ سٹڈی کر لو اس کو۔ مطالعہ نہیں ”سٹڈی”۔ گہرائی سے پڑھ لو ذرا، بہت سی باتیں سمجھ میں آجائیں گی۔ اس خطبہ حجة الوداع میں ایک جملہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منیٰ میں کھڑے ہو کر۔ وہ بڑا خطبہ ارشاد فرما رہے ہیں۔ ”کل امر الجاہلیة موضوع تحت قدمی” آج جاہلیت کی ساری قدریں میرے پاؤں کے نیچے ہیں۔ یہ حضورۖ نے اپنی تئیس سالہ محنت کے نتیجے کا اعلان کیا ہے۔ اور یہ کہہ کے کیا ہے کہ ”ھل بلغت؟” میں نے بات پوری کر دی ہے؟ جی، کر دی ہے۔ یا اللہ! تو بھی گواہ ہو، میں نے اپنا پیغام پہنچا دیا ہے۔ ”فزت و رب الکعبة” ربِ کعبہ کی قسم میں اپنے مشن میں کامیاب ہو گیا ہوں۔ اور جملہ کیا فرمایا؟ ذرا غور فرمائیں: ”کل امر الجاہلیة موضوع تحت قدمی”۔ جاہلیت کی ساری قدریں آج کہاں ہیں؟ میرے پاؤں کے نیچے ہیں۔ یعنی میں جاہلیت کی قدروں کو روند کر آگے بڑھ رہا ہوں۔
اس پہ ذرا غور یوں فرمائیں کہ وہ جاہلیت، حضورۖ کے پاؤں کے نیچے کیا تھا؟ ذرا دیکھ لینا چاہیے۔ جب حضورۖ منیٰ میں ڈیڑھ لاکھ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یہ فرما رہے ہیں کہ جاہلیت کی ساری قدریں آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں، تو ذرا نظر ڈالنی چاہیے، کیا کیا تھا؟
صفا پہاڑی پہ پہلا اعلان کیا تھا ”ایھا الناس”۔ عربوں کو نہیں کہا تھا، قریشیوں کو نہیں کہا تھا۔ ”ایھا الناس” کہا تھا۔ اس وقت سے لے کر۔ منیٰ کتنے فاصلے پر ہے؟ دس کلو میٹر ہے۔ صفا پہاڑی کی پہلی آواز سے لے کر اِس حجة الوادع کے آخری خطبے تک۔ عرب معاشرہ، چونکہ پہلا دائرہ وہ تھا، کون کون سی قدریں ختم ہوئی ہیں؟ ذرا ایک فہرست بنا لیں۔ (جاری ہے)

