پرائیویٹ اسکول اسٹوڈنٹس کے والدین کیلئے بڑا ریلیف

نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا، اسکول انتظامیہ اب والدین کو کسی مخصوص دکان یا وینڈر سے خریداری کرنے پر مجبور نہیں کر سکے گی۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم و خواندگی سندھ نے صوبے بھر کے نجی اسکولوں کے خلاف بڑا ایکشن لیتے ہوئے اسکول کی حدود میں درسی کتب، یونیفارم اور اسٹیشنری کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا، نئے قواعد کے تحت اسکول انتظامیہ اب والدین کو کسی مخصوص دکان یا وینڈر سے خریداری کرنے پر مجبور نہیں کر سکے گی۔ محکمہ تعلیم نے درج ذیل اہم ہدایات جاری کی ہیں:

محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ اسکولوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ تعلیمی سال کے آغاز پر کتابوں اور اسٹیشنری کی مکمل فہرست فراہم کریں تاکہ والدین اپنی مرضی سے کھلی مارکیٹ سے سستی خریداری کر سکیں۔

اسکول کے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس (کاپیاں) خریدنے کی شرط کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے جبکہ اسکول کے اندر کسی بھی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیاء بیچنا اب قانوناً جرم ہوگا۔

ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوٹ نے خبردار کیا ہے کہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی، اس میں نہ صرف بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے بلکہ اسکول کی رجسٹریشن کی منسوخی پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

والدین اور سول سوسائٹی کے ارکان نے حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا اس فیصلے سے تعلیم سے وابستہ اخراجات میں کمی آئے گی اور والدین پر پڑنے والا اضافی مالی بوجھ کم ہوگا، جس سے تعلیم عام کرنے میں مدد ملے گی۔