موجودہ دور میں امام مسجد سے توقعات و ذمہ داریاں کیا کچھ ہیں؟ آج اس پر چند معروضات پیش کریں گے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں اللہ کے آخری پیغمبر تھے، وہیں ایک مکمل ریاست کے سربراہ بھی تھے اور اسی کے ساتھ ساتھ مسجد کے امام بھی۔ آپۖ صرف نماز کی امامت نہیں فرماتے تھے بلکہ اجتماعی، سیاسی، معاشرتی اور اخلاقی معاملات میں بھی امت کی رہنمائی کرتے تھے۔ آپۖ کا منبر صرف عبادت کی جگہ نہیں بلکہ فکری تربیت، سماجی اصلاح اور امت کی قیادت کا مرکز تھا۔ خلفائے راشدین نے بھی اسی سنت کو زندہ رکھا اور مسجد، منبر اور محراب کو ریاست و معاشرے کی رہنمائی کا محور بنائے رکھا۔
آج ہمارا موضوع یہی ہے کہ مساجد کے ائمہ کا انتخاب، کردار اور ذمہ داریاں کیا ہونی چاہئیں، اور موجودہ دور میں ان سے کیا تقاضے وابستہ ہو چکے ہیں۔ تاریخِ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ہر دور میں مساجد کے ائمہ کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ وہ صرف نماز پڑھانے والے نہیں ہوتے تھے بلکہ اساتذہ، قاضی، مصلح، سماجی رہنما اور عوام کے خیر خواہ مشیر بھی ہوتے تھے۔ بچوں کی ابتدائی تعلیم، نوجوانوں کی تربیت، گھریلو تنازعات کا حل، اخلاقی اصلاح اور اجتماعی شعور کی بیداری۔ یہ سب ائمہ مساجد کے فرائض میں شامل تھے۔ عباسی دور میں مساجد علمی مراکز ہوا کرتی تھیں۔ ائمہ مساجد کے ذمے صرف امامت نہیں بلکہ تعلیم و تدریس، فقہی تحقیق، نئے پیش آنے والے شرعی مسائل کا حل، اور معاشرتی اصلاح جیسے فرائض بھی ہوتے تھے۔ اسی دور میں فقہ حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی جیسے عظیم فقہی مکاتبِ فکر مدون ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسجد علم و تحقیق کا مرکز تھی۔ نماز کی امامت کے حوالے سے یہ بات نہایت اہم ہے کہ امام قرآنِ مجید کی درست اور خوبصورت تلاوت کرنے والا ہو۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم اس کا عملی کردار ہے۔ امام مسجد کا اخلاق، گفتار، طرزِ زندگی اور معاملات لوگوں کے لیے نمونہ ہوتے ہیں۔ مسجد کا امام دراصل پورے محلے اور معاشرے کا مرکز ہوتا ہے۔ لوگ اس کی طرف دیکھ کر دین کو سمجھتے اور پرکھتے ہیں۔ اگر امام کا کردار کمزور ہو تو لوگ دین سے بدظن ہو جاتے ہیں، اور اگر اس کا اخلاق بلند ہو تو لوگ خود بخود دین کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔
ائمہ مساجد کی ایک بنیادی ذمہ داری اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دینا ہے۔ مسلمانوں کو فرقہ واریت، تعصب اور باہمی نفرت سے بچانا، بھائی چارے، اخوت اور رواداری کی تعلیم دینا نہایت اہم فریضہ ہے۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں بعض مساجد میں منبر کو اختلاف اور تقسیم کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں امت کمزور اور منتشر ہو رہی ہے۔ آج کا سب سے بڑا چیلنج نوجوان نسل ہے۔ نوجوان دین سے بیزار ہو رہے ہیں، اور بعض اوقات دین کو پابندیوں اور سختیوں کا مجموعہ سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسے میں مساجد کے ائمہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نوجوانوں کو دین کا مثبت، متوازن اور عملی چہرہ دکھائیں، انہیں اسلام کا متحرک اور زندہ تصور دیں، اور ان کے سوالات کو سنجیدگی اور حکمت سے سنیں۔ لوگوں کی مشاورت اور رہنمائی بھی امام مسجد کے فرائض میں شامل ہے۔ گھریلو تنازعات، میاں بیوی کے اختلافات، والدین اور اولاد کے مسائل، وراثت کے جھگڑے اور سماجی ناچاقیاں—یہ سب وہ امور ہیں جن میں امام مسجد مصالحت کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر مساجد میں یہ کردار فعال ہو جائے تو معاشرے کے بے شمار مسائل وہیں حل ہو سکتے ہیں۔ معاشرے میں پھیلتے ہوئے سماجی مسائل جیسے نشہ، بے روزگاری، طلاق، جہیز، فضول رسومات اور مہنگی شادیاں بھی ائمہ مساجد کی توجہ چاہتے ہیں۔ منبر و محراب سے اگر ان مسائل پر حکمت اور دردِ دل کے ساتھ بات کی جائے تو لوگوں کی سوچ بدل سکتی ہے۔ مسجد صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ کمیونٹی سینٹر بھی ہے۔ یہاں فلاحی سرگرمیاں، تعلیمی ورکشاپس، تربیتی نشستیں، اور سماجی منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔ یتیموں، بیواؤں اور نادار افراد کی مدد کا نظام مساجد کے ذریعے بہتر طور پر چلایا جا سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب علماء اور ائمہ نے آواز دی، تو پوری قوم لبیک کہتی رہی۔ قدرتی آفات، حادثات اور ہنگامی حالات میں مساجد لوگوں کو منظم کرنے کا بہترین مرکز بن سکتی ہیں۔ راشن کی تقسیم، طبی کیمپس، خون کے عطیات، اور متاثرین کی مدد۔ یہ سب مسجد کے پلیٹ فارم سے ممکن ہے۔
عبادات سے متعلق رہنمائی بھی امام مسجد کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ نماز کی درست ادائیگی، اس کے فرائض، واجبات اور سنتیں سکھانا، روزے کے مسائل، زکوٰة و صدقات کے احکام، صدقہ فطر، قربانی، حج و عمرہ کی تربیت، یہ سب وہ امور ہیں جن میں لاپرواہی کی وجہ سے لوگ بڑے دینی نقصانات اٹھا لیتے ہیں۔ خصوصاً حج و عمرہ کے حوالے سے یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ بھاری اخراجات کر کے جاتے ہیں مگر درست طریقہ نہ جاننے کی وجہ سے بڑی کوتاہیاں کر بیٹھتے ہیں۔ اگر مساجد کو حج و عمرہ تربیت کا مرکز بنا دیا جائے تو یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہو سکتا ہے۔ آج کے دور میں ذہنی دباؤ، اضطراب، ڈپریشن اور خاندانی ٹوٹ پھوٹ عام ہو چکی ہے۔ ایسے حالات میں مساجد کے ائمہ کو صبر، شکر، توکل اور امید کا پیغام دینا ہوگا، اور لوگوں کو اللہ سے جوڑ کر ان کے بوجھ ہلکے کرنے ہوں گے۔
آخر میں ایک نہایت اہم پہلو کی طرف توجہ دینا ضروری ہے: ائمہ مساجد کا وقار اور معاشی تحفظ۔ جب معاشرہ ائمہ سے اتنی بڑی توقعات رکھتا ہے تو لازم ہے کہ انہیں وہ عزت، سہولت اور مالی استحکام بھی فراہم کرے جس کے وہ مستحق ہیں۔ کم تنخواہیں، معاشی پریشانیاں اور مسجد کمیٹیوں کی غیر ضروری مداخلت ائمہ کی صلاحیتوں کو محدود کر دیتی ہیں۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ مسجد دوبارہ معاشرے کا مرکز بنے، تو ہمیں ائمہ مساجد کو مضبوط، باوقار اور بااختیار بنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو مسجد، منبر اور محراب کو ایک بار پھر امت کی فکری و اخلاقی قیادت کا مرکز بنا سکتا ہے۔

