پنجاب کے کھیتوں میں اس سال آلو اتنا ہوا ہے کہ زمین کے سینے میں گویا خزانے دفن ہوگئے ہوں۔ مگر یہ خزانے اب ‘سونے’ کا نہیں رہا بلکہ زخم کا ہے۔ آلو کے ڈھیر، آلو کی فراوانی، آلو کے انبار، آلو کی بوریوں کا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ کسان کی آنکھیں نم ہیں۔ امید بھی ہے اس کے ساتھ ہار بھی ہے۔ کہتے ہیں اس سال پنجاب میں 12ملین میٹرک ٹن سے زائد آلو کی پیداوار حاصل ہوئی جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 25فیصد زیادہ ہے۔
بات دراصل یہ ہے کہ چند سال قبل ایسے مواقع آئے جب مارکیٹ میں عموماً 50سے 60روپے فی کلو بکنے والا آلو 150روپے سے 200روپے فی کلو تک جا پہنچا تھا۔ اب پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ دیگر ملکوں کی طرح حساس زرعی منصوبہ بندی نہیں ہے جو صحیح اندازہ لگا سکے کہ کتنی کھپت ہوگی کتنی برآمد کی جاسکتی ہے۔ مثلاً گزشتہ برس سے ہی پاک افغان تجارت پابندیوں کی زد میں ہے۔ ایسے میں برآمد کنندگان اور زرعی منصوبہ بندی کرنے والے عناصر کو آگاہ ہونا چاہیے تھا کہ آلو کی زائد پیداوار کسی بھی قسم کا معاشی اور سماجی مسئلہ پیدا کرسکتا ہے۔ جس کے لیے حساس زرعی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ہوا کیا؟ یہ کہ زائد پیداوار پر خوشیاں منائی گئیں۔ زرعی پیداوار زرعی ترقی کی تعریف ہوئی۔ حکومتی کامیابی کے بیانات، ٹی وی پر مسکراہٹیں اور اعداد وشمار کے گلدستے ایک طرف تھے۔ اور دوسری طرف کھیت میں منڈی میں تصویر التی ہوئی نظر آئی۔ آلو کی فراوانی کامیابی نہیں عذاب بن گئی۔ کسان کو ہر طرف سے نقصان کا سامنا کرنا پڑ گیا حتیٰ کہ کرایہ بھی اس کی جیب میں نہیں تھا۔ مزید نقصان سے بچنے کے لیے کسان اپنی ہی محنت کو زمین میں دبا رہا ہے۔ کسی اور ملک میں ایسا منظر وہاں کی حکومتوں کو ہلاکر رکھ دیتی ہیں۔ ہمارے ہاں صورت حال کچھ یوں ہی رہتی ہے۔ فصل زیادہ ہوجائے بحران، فصل کم ہو جائے بحران۔ لیکن کہیں بھی منصوبہ بندی کا فقدان کسی کو نظر نہیں آتا۔
آلو دنیا کی چند اہم ترین غذائی فصل ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ آلو چین، پھر بھارت میں پیدا ہوتا ہے، اس کے بعد روس، یوکرین، ساتویں نمبر پر بنگلادیش اور پاکستان اٹھارہویں نمبر پر نظر آتا ہے لیکن اس سال پاکستان کی پوزیشن بہتر ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ لیکن صرف پوزیشن بہتر ہونے سے کیا کسان کی جیب بہتر ہوگی۔ یا صرف رپورٹوں، پیداواری اعداد وشمار کے حوالے سے بہتری ہوچکی ہے۔ کسان پھر بھی پریشان کیوں ہے؟ اداس کیوں ہے؟ اس لیے کہ پاکستان میں وہ حفاظتی دیوار نہیں ہے جو دیگر ملکوں میں ہے۔ جہاں کسی بھی شے کی پیداوار بڑھنے کے ساتھ ہی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے جاتے ہیں۔ جیسے آلو کے کولڈ اسٹوریج پروسیسنگ انڈسٹری، فریذنگ یونٹس، چپس، فرنچ فرائز اسٹارچ اور فلیکس بنانے کی فیکٹریاں، فوری ایکسپورٹ کے معاہدے، حکومتی خریداری کا راتوں رات حرکت میں آنا، تاکہ کسان کو ہر قسم کے نقصان سے بچایا جاسکے۔ پاکستان میں پیداوار زیادہ ہو جائے تو حکومت فوراً کسان کے ساتھ کھڑی نظر نہیں آتی یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی پنجاب میں آلو کی پیداوار 12ملین ٹن سے زائد ہوگئی، منڈی سے برداشت نہ ہوا، قیمت دھڑام سے گری اور کسان زمین پر آگیا۔ اب جب کسان کو نقصان ہوتا ہے تو آیندہ سال کے لیے تہیہ کرلیتا ہے کہ آلو کم کاشت کرنا ہے اور پھر اگلے برس آلو کی کم پیداوار کے باعث اس کی قیمت آسمان پر چلی جاتی ہے۔ بالآخر پریشان عام شہری اور غریب عوام ہی ہوکر رہتے ہیں۔
گزشتہ دنوں یہ خبر آئی کہ قازقستان جوکہ پہلے ہی پاکستان سے آلو درآمد کرتا رہا ہے۔ سا مرتبہ 50ہزار ٹن آلو خریدنے میں دلچسپی ظاہر کر رہا ہے لیکن ہمارے یہاں برآمدی مراحل بڑے ہی سست ترین ہیں۔ دیگر ملکوں میں ایسا مرحلہ آنا تو فوری لاجسٹکس کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ ان کی کوالٹی سرٹیفائڈ سسٹم تیزتر ہوتا ہے۔ کیا پاکستان کے وہ سفارت خانے جہاں آلو درآمد کیا جاتا ہے۔ پنجاب میں آلو کی زائد پیداوار پر حرکت میں آتے ہیں؟ قازقستان کو اگر آلو بروقت مل جاتا ہے تو جلد ہی مزید ڈیمانڈ کرے گا۔ اس کے علاوہ سری لنکا آلو کا بڑا خریدار رہے۔ دیگر وسطی ایشیائی ممالک ہیں جوکہ آلو درآمد کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ لیکن اس وقت پاکستان کو آلو کی زائد پیداوار کو سامنے رکھتے ہوئے دنیا بھر میں اس کی فوری طلب کی مارکیٹ تلاش کرکے فوری طور پر برآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ مختلف ممالک کے سفیر اور تجارتی اتاشی اپنے ملکوں میں آلو کے درآمد کنندگان کی فہرست نکالیں۔ آلو کے امپورٹر سے رابطے کریں۔ پاکستان کے برآمد کنندگان سے براہ راست رابطے کرایے جائیں۔ قازقستان جیسے خریداروں کے لیے فوری معاہدے، ترسیل سے متعلق تمام معاملات طے کرکے اس پر فوری عمل کیا جائے۔ کیونکہ اس سال اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوسکا تو اگلے برس کسان کم سے کم آلو بوئے اور پیداوار کم ہوگی اور پھر حکومت آلو درآمد کرنے پر مجبور ہوگی۔ یہ زرعی معیشت کی وہ خاموش چیخ ہے جسے سن کر کسان فیصلے کر رہا ہے کہ اگلے برس آلو کم بونا ہے۔

