بورڈ آف پیس۔ انصاف یا غلبہ؟

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی جانب سے غزہ کی تعمیرِنو اور اسرائیل وحماس کے مابین جنگ بندی کو مستقل شکل دینے کیلئے جس ادارے کا اعلان کیا گیا، وہ بظاہر امن کا پیامبر اور درحقیقت طاقت کے نئے بیانیے کا مظہر ہے۔ ٹرمپ کے الفاظ میں، ‘بورڈآف پیس’ کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو مستقل بنانا اور غزہ میں ایک عبوری حکومت کی نگرانی کرنا ہے۔ ‘بورڈآف پیس’ کا قیام ایک ایسے دور میں عمل میں آیا ہے جب عالمی سیاست میں اخلاقی اصول پس منظر میں اور مفادات پیش منظر میں ہیں۔ بظاہر اس بورڈ کا مقصد نہ صرف جنگ بندی کی نگرانی بلکہ فلسطینی علاقے میں ایک عبوری حکومت کی سرپرستی بتایا گیا ہے اور یہی پہلو اسے محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی اور تاریخی مسئلہ بنا دیتا ہے۔ غزہ، جو پہلے ہی محاصرے، بمباری اور انسانی المیوں کی علامت بن چکا ہے، اب ایک نئے عالمی تجربے کی آماجگاہ بننے جا رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ تعمیرِنو کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کس کی نگرانی میں، کن شرائط پر، اور کس کے مفاد میں؟ غزہ، جو پہلے ہی تاریخ کے سب سے طویل محاصروں، بے مثال تباہی اور انسانی کرب کی علامت بن چکا ہے، اب ایک نئے عالمی تجربے کی تجربہ گاہ بنایا جا رہا ہے۔ تعمیرِنو کی بات ضرور کی جا رہی ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ یہ تعمیر اینٹوں کی ہوگی یا اختیار کی؟ اور عبوری حکومت، اگر قائم ہوئی، تو وہ عوام کی نمائندہ ہوگی یا عالمی طاقتوں کی نگرانی میں چلنے والاایک انتظامی سایہ؟

پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کا بورڈ آف پیس میں شامل ہونا ایک طرف تو اس امید کی علامت ہے کہ شاید اس پلیٹ فارم کے ذریعے انسانی المیے میں کچھ کمی آئے، مگر دوسری طرف یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ عالمی سیاست میں شمولیت اکثر اختیار کا نہیں، بقا کا سوال بن جاتی ہے۔

بورڈ آف پیس براہِ راست سلامتی کونسل کو جواب دہ نہیں اور اس کے اختیارات ایک فرد کے گرد مرکوز ہیں۔ بورڈ آف پیس کی نہ کوئی مقررہ مدت ہے اور نہ اس کا دائرہ اختیار غزہ تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں تشویش جنم لیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو ادارے مدت کے بغیر قائم کیے گئے، وہ جلد یا بدیر اقتدار کے قلعے بن گئے۔ بورڈ آف پیس کی غیرمعینہ حیثیت اسے ایک ایسے تجربے میں بدل دیتی ہے جس کا انجام پیش گوئی سے باہر ہے۔ یہ ادارہ، اپنی ساخت میں کسی عالمی فورم سے زیادہ ایک نجی کلب کا تاثر دیتا ہے، جہاں شمولیت، اخراجات اور اثر ورسوخ سب ایک ہی مرکز سے پھوٹتے ہیں۔ یہ بورڈ، جس کی کوئی معیاد مقرر نہیں، محض شراکت داری نہیں بلکہ شخصی اصول پر بنایا گیا ہے۔ تنخواہیں، اخراجات اور مستقل رکنیت سب ٹرمپ کی صوابدید سے جڑے ہیں۔ یہ صورتحال امریکی صدارت کو عالمی سیاست میں غیرمعمولی تقویت دیتی ہے اور یہی امر دنیا بھر میں تشویش کا سبب بن رہا ہے۔ بورڈ آف پیس کے چارٹر میں ٹرمپ کو جو غیرمعمولی اختیارات دیے گئے ہیں۔ ویٹو، تقرری، برطرفی، تحلیل اور جانشینی۔ وہ کسی بھی جمہوری یا کثیرالقومی ادارے کے تصور سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ اختیارات ادارے کو نہیں، شخص کو مضبوط کرتے ہیں۔ جہاں چیئرمین مطلق العنان حیثیت کا حامل نظر آتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے بعض عہدیدار یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ بورڈ آف پیس کا ماڈل دیگر تنازعات پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے حلقے اسے اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور یہ تصور عالمی نظام کیلئے ایک گہرا سوال بن چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے بعض عہدیداروں کا یہ اشارہ کہ یہ ماڈل دیگر تنازعات میں بھی استعمال ہو سکتا ہے، اس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ ‘بورڈآف پیس ‘ ایک متوازی عالمی نظام کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ خود ٹرمپ کے بیانات اس بورڈ کے کردار پر شکوک کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ ایگزیکٹو بورڈ کے ارکان میں ٹرمپ کے ذاتی دوست، سابق برطانوی وزیرِاعظم، داماد، اور امریکی کارپوریٹ دنیا کے نمائندے شامل ہیں۔ یہ فہرست غیر جانبداری سے زیادہ قربت کا پتہ دیتی ہے اور ٹرمپ سے وفاداری کا دائرہ کار مضبوط نظر آتا ہے۔ اقوامِ متحدہ، اپنی تمام کمزوریوں کے باوجود، ایک اصول کی نمائندہ ہے۔ یہ اصول کہ دنیا صرف طاقت سے نہیں، بلکہ قانون سے چلنی چاہیے۔ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803، جس میں غزہ کی عبوری نگرانی کیلئے واضح مدت اور جواب دہی کا نظام موجود ہے، اسی اصول کی مثال ہے۔

پھر بورڈ آف پیس کا قیام اس پس منظر میں ہو رہا ہے جب امریکا نیٹو کو غیرمؤثر قرار دے رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے درجنوں اداروں سے علیحدگی اختیار کر چکا ہے اور اپنی خارجہ پالیسی کو طاقت، دباؤ اور سودے بازی کی بنیاد پر استوار کر رہا ہے۔ یہ سب مل کر ایک ایسے سامراجی وژن کی تشکیل کرتے ہیں جس میں امن، اقتدار کا تابع بن جاتا ہے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جو ادارے مدت اور احتساب کے بغیر قائم ہوتے ہیں، وہ جلد یا بدیر طاقت کے قلعے بن جاتے ہیں۔ بورڈ آف پیس کی غیرمعینہ حیثیت اسے ایک ایسے ادارے میں بدل دیتی ہے جو امن کی بجائے اثر ورسوخ کو دوام دے سکتا ہے۔ ایک سابق سفارتکار کے بقول، چونکہ بورڈ کے چیئرمین خود صدر ٹرمپ ہیں، اس لیے ان کے لین دین پر مبنی طرزِ سیاست میں غیرجانب دار انصاف کی توقع رکھنامشکل ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا اس بورڈ میں تمام ممالک کی حیثیت یکساں ہوگی یا نہیں۔ ایک سینئر سفارتکار کے مطابق، ٹرمپ کے لین دین پر مبنی رویے میں انصاف کی امید رکھنا سادہ لوحی ہے۔ اس بورڈ میں رکنیت، جس کے اختیارات غیر واضح اور مستقبل غیریقینی ہیں، انڈیا کیلئے خطرناک ہو سکتی ہے۔

پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کو جنگ بندی، انسانی امداد اور غزہ کی تعمیرِنو سے جوڑا ہے۔ یہ نیت اپنی جگہ قابلِ فہم ہے، مگر رکنیت کی مدت اور مالی شرائط کے ابہام نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ چارٹر کی مبہم شرائط یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ کیا نیک نیتی، غیر واضح نظام میں محفوظ رہ سکتی ہے؟ کئی ممالک نے اسے اپنی اہمیت کے اعتراف یا امریکی دباؤکے تحت قبول کیا ہے۔ ماہرینِ خارجہ امور کے مطابق، بورڈ کے چارٹر میں یہ واضح نہیں کہ رکن ممالک کن شرائط کے پابند ہوں گے، چارٹرکی تشریح کا اختیار کس کے پاس ہوگا اور اختلاف کی صورت میں کیا راستہ اختیار کیا جائے گا۔

یہ بورڈ ایک ایسے وقت میں وجود میں آیا ہے جب امریکا نیٹو سے غیرمطمئن، اور اقوامِ متحدہ کے کئی اداروں سے دستبرداری خارجہ پالیسی کو سودے بازی میں بدل چکی ہے، یہ سب ایک سامراجی ذہنیت کی نشانیاں ہیں۔ انڈیا کے معتبر اخبار دی ہندو کے مطابق، نہ اصول اور نہ عملی تقاضے اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ ایسا فیصلہ عجلت میں کیا جائے، انڈیا کو خوف یا ناراضگی کے ڈر سے فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔

ادھر لیک شدہ چارٹر کے مطابق، بعد کی ترامیم میں غزہ کا ذکر تک ختم کر دیا گیا اور بورڈ کو دیگر تنازعات تک پھیلانے کی تجویز شامل کی گئی، جو اقوامِ متحدہ کے متبادل کا تاثر مضبوط کرتی ہے۔ پاکستان کا اس بورڈ میں شامل ہونا انڈیا کے لیے ایک واضح اشارہ ضرور ہے، خصوصاً اس صورت میں اگر مستقبل میں کشمیر جیسے تنازعات کو بھی اس فورم پر لایا گیا۔ خصوصاً کشمیر کے تناظر میں، جہاں ٹرمپ ثالثی کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔ یہاں سوال امن کا نہیں، اطاعت کا بنتا جا رہا ہے۔ امن اگر سوال کرنے کی آزادی چھین لے، تو وہ امن نہیں، ظلم ہے۔

بورڈ آف پیس’ بظاہر امن کا استعارہ ہے، مگر اس کے باطن میں طاقت کی وہی پرانی سیاست سانس لے رہی ہے جس نے دنیا کو بارہا زخم دیے ہیں۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ امن وہی پائیدار ہوتا ہے جو انصاف کی بنیاد پر قائم ہو، نہ کہ طاقت کے سائے میں۔ اب سوال یہ ہے کہ تاریخ کس کے حق میں فیصلہ دے گی؟ تاریخ ہمیں باربار یہ سبق دیتی ہے کہ وہی ادارے دیرپا ہوتے ہیں جو قانون کے تابع ہوں، نہ کہ افراد کے۔ انڈیا ہو یا پاکستان، گلوبل ساؤتھ ہو یا مغربی دنیا۔ یہ فیصلہ سب کو کرنا ہے کہ وہ امن کو اصول کی بنیاد پر چاہتے ہیں یا طاقت کی نگرانی میں۔ آخر میں، میں یہی عرض کروں گا کہ امن کوئی عطیہ نہیں، کوئی معاہدہ نہیں، کوئی بورڈ نہیں، امن ایک اخلاقی عہد ہے۔ اور جب تک یہ عہد انصاف، شفافیت اور جواب دہی کے بغیر قائم کیا جائے گا، تاریخ اسے قبول نہیں کرے گی اور اگر یہ طاقت کے تسلسل کا ذریعہ بنا، تو تاریخ اسے بھی اپنے کٹہرے میں کھڑا کرے گی۔ فیصلہ آج نہیں، مگر فیصلہ ہوگا اور وہ فیصلہ تاریخ کرے گی۔