(گزشتہ سے پیوستہ)
مذہبی ووٹ کا تقسیم ہونا جماعت کے خلاف گیا
دوسری طرف روایتی مذہبی ووٹ بھی تقسیم ہوا۔ دیوبندی روایتی مذہبی ووٹ کی پارٹی جے یو آئی بنگلادیش تو خیر باقاعدہ بی این پی کی اتحادی تھی جبکہ اسلامی اندولن پارٹی سے اتحاد کی جماعت نے خاصی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔ اسلامی اندولن نے 2سے زائد نشستوں پر الیکشن لڑا، 3سیٹیں بھی جیتیں، مگر تھوڑا بہت ووٹ بہت سی جگہوں پر خراب کیا۔ یہی حال خلافت مجلس اور بنگلادیش خلافت مجلس کا رہا۔ یہ بھی مذہبی جماعتیں ہیں، اسلامی نظام نافذ کرنا ان کا نعرہ ہے۔ ایک نے 2سیٹیں جیتیں، دوسری کو ایک ملی مگر ان کا ووٹ بینک بھی جماعت کے کام نہ آیا۔ دینی مدارس میں کچھ ووٹ رکھنے والی دیگر جماعتوں فرائض اندولن اور ذاکر پارٹی نے بھی اکیلے الیکشن لڑا جبکہ حفاظتِ اسلام بنگلادیش اور بنگلادیش نظامِ اسلام پارٹی نے تو جے یو آئی بنگلادیش کی طرح بی این پی کا ساتھ دیا۔ اگر یہ روایتی مذہبی ووٹ بینک اکٹھا ہوکر ایم ایم اے اسٹائل میں (2002ء الیکشن کی طرح) جماعت کو سپورٹ کرتا تو 30سے 40حلقوں میں جہاں مارجن کم ہے، وہاں جماعت اسلامی کو فائدہ ہو سکتا تھا۔
پاکستان کی غیر جانبداری
بھارتی میڈیا اور عوامی لیگ کے حلقے ہمیشہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ پاکستان ہر الیکشن میں بی این پی اور بیگم خالدہ ضیا کی سپورٹ بلکہ فنانس بھی کرتا ہے۔ ظاہر ہے یہ الزام ہی تھا غیرتصدیق شدہ، مگر بہرحال پاکستان کی چوائس عوامی لیگ کے بجائے فطری طور پر بی این پی رہی۔ اس بار پاکستان مکمل طور پر غیر جانبدار تھا کیونکہ جو بھی جیت کر آتا، اس کے ساتھ خوشگوار دوستانہ تعلقات ہی ہونے تھے۔ یہ البتہ ممکن ہے کہ پاکستان میں بی این پی کی طرف کچھ جھکاؤ ہو، اس لیے کہ پاکستانی منصوبہ ساز اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکا، یورپی یونین اور چین کی چوائس جماعت اسلامی نہیں ہوسکتی، وہ بی این پی کو ترجیح دیں گے۔ یہ بھی نظر آ رہا تھا کہ بی این پی جیت رہی ہے۔ ایسے میں اس کی مخالفت اور جماعت اسلامی بنگلادیش کی حمایت کوئی عقلمندی نہیں تھی۔ دوسرا یہ بھی ہے کہ جماعت اسلامی بنگلادیش پر پرو پاکستان ہونے کا پرانا الزام ہے۔ اگر یہ جیت جاتی تو اسے اپنی غیر جانبداری ثابت کرنے کے لیے کچھ زیادہ ٹف ہونا پڑتا۔ بی این پی کی نسبت جماعت اسلامی پاکستان کے حوالے سے زیادہ محتاط، سخت اور مضبوط نیشنلسٹ موقف اپناتی تاکہ خود پر پرو پاکستان ہونے کا لیبل نہ لگ سکے۔ س لیے آخری تجزیے میں پاکستان کو بی این پی زیادہ سوٹ کرتی ہے۔
الیکشن میں مذہبی جماعتوں کی کارکردگی
جماعت اسلامی کا تذکرہ تو ہر جگہ ہو رہا ہے، اس نے 70کے لگ بھگ سیٹیں جیتی ہیں تاہم، دیگر چھوٹے مذہبی دھڑوں نے بھی معمولی سا شیئر لیا ہے، مگر ان کے حوالے سے یہ اہم ہے کہ انہیں پہلے کبھی اتنا بھی نہیں ملا۔ اسلامی اندولن پارٹی کو 3سیٹیں ملی ہیں، یہ خالص دیوبندی مذہبی جماعت ہے مگر جے یو آئی بنگلادیش سے زیادہ سخت اور شدید موقف کی حامی۔ اسے انتہائی رائٹ ونگ پارٹی کہہ سکتے ہیں۔ خلافت مجلس پارٹی کو 2سیٹیں ملی ہیں، یہ خلافت کو نظام بنانے اور اسلامی شریعت کے ماڈل کی حامی ہے۔ اسے پہلی بار 2سیٹیں ملی ہیں۔ بنگلادیش خلافت مجلس پارٹی کو ایک سیٹ ملی ہے، یہ الگ دھڑا ہے مگر یہ بھی خلافت اور اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں۔ انہیں پہلی بار سیٹ ملی۔ ان تمام مذہبی جماعتوں بشمول جماعت اسلامی کی سیٹیں اور ووٹ اکھٹا کیا جائے تو بہرحال یہ خاصا بڑا اور مضبوط بلاک بنتا ہے۔ اس اعتبار سے بنگلادیشی سیاست میں مذہبی ووٹ بنک بڑھا ہے، مذہبی جماعتوں کا شیئر بھی۔
مستقبل کا نقشہ
جماعت اسلامی اپوزیشن کا کردار نبھانے کے لیے تیار ہے۔ وہ الیکشن پر اعتراض کرے گی، اپنی سیٹیں چھینے جانے کی بات بھی کرے گی، عدالتی قانونی چارہ جوئی بھی ہوگی، مگر جماعت سڑکوں پر آکر سسٹم ڈسٹرب نہیں کرے گی۔ وہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا بھرپور کردار ادا کرنے کو ترجیح دی گی۔ البتہ جماعت اسلامی کو یہ خدشہ ضرور ہے کہ بی این پی بھی کہیں مطلق العنان حکومت کے اعتبار سے سافٹ عوامی لیگ نہ بن جائے۔ اس حوالے سے وہ مستعد رہیں گے، نظر رکھیں گے اور رائے عامہ ہموار کرتے رہیں گے۔ یہ البتہ امکان ہے کہ جین زی پارٹی این سی پی زیادہ جارحانہ اور اگریسیو موقف اپنائے۔ یہ جماعت اسلامی کے اتحادی تھی، یہ بھی انتخابی دھاندلی کے الزام لگا رہے ہیں، مگر یہ ممکن ہے اپنے مخصوص اگریسیو انداز کی وجہ سے سڑکوں پر آجائیں۔ ایسی صورت میں ان کا جماعت اسلامی سے فاصلہ بڑھ جائے گا۔ یہ خدشہ بھی ہے کہ بی این پی کا طلبہ ونگ چھاترو دل یونیورسٹی کیمپسز میں زیادہ جارحانہ اور زور زبردستی والا طرزعمل اپنائے، اس کی جماعت اسلامی کے طلبہ ونگ اسلامی چھاترو شِبر اور این سی پی طلبہ ونگز کی جانب سے شدید مزاحمت ہوگی۔ بنگلادیش میں اگر احتجاج شروع ہوا تو اس کی ابتدا یونیورسٹی کیمپسز سے ہونے کا امکان ہے۔ بی این پی کے طارق رحمان وزیراعظم آسانی سے بن جائیں گے، انہیں البتہ اپنی حکومت میں شفافیت لانے کی ضرورت ہوگی۔ ماضی میں ان پر کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں، تاہم اب وہ زیادہ میچور ہو چکے ہیں، شاید پہلے جیسی غلطیاں نہ کریں۔ آج کا بنگلادیش ماضی سے مختلف بھی ہے۔ اس کا ادراک طارق رحمان کر پائیں گے یا نہیں، اس کا اندازہ چند ماہ میں ہو جائے گا۔

