رمضان۔ روح کہاں کھو گئی؟

رمضان کا ذکر آتے ہی دل میں ایک عجیب سی روشنی اترتی ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نور بھی ہے، عطر بھی، خیر بھی ہے اور طہارت بھی۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا، جس میں لیلة القدر جیسی عظیم رات رکھی گئی، جس میں بدر کی فتح کی یادیں بسی ہوئی ہیں اور جس کے اختتام پر عیدالفطر کی مسکراہٹ ہمارا استقبال کرتی ہے۔ بظاہر یہ ہر سال آنے والا ایک موسمی مہمان ہے مگر حقیقت میں یہ انسان کے باطن کو جھنجھوڑنے والا ایک روحانی انقلاب ہے۔ رمضان صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں۔ یہ زندگی کی اصل حقیقت کو سمجھنے کا مہینہ ہے۔ اگر ساری زندگی جسم کی پرورش میں گزر جاتی ہے تو رمضان روح کی تربیت کے لیے آتا ہے۔ اگر دنیا تنازع اور کشمکش کا میدان بن جائے تو رمضان محبت اور ہم آہنگی کا سبق دیتا ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جو انسان کو یاد دلاتا ہے کہ روزہ صرف کھانے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ برائیوں سے رک جانے کا نام ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگوں کی یادوں میں ایک پرانا رمضان بھی آباد ہے۔ بچپن کا رمضان۔ وہ رمضان جس میں گلیاں بھی روزہ دار لگتی تھیں اور بازار بھی عبادت کی خوشبو دیتے تھے۔ پاکستان کے شہروں اور قصبوں میں کبھی ایسا ہی رمضان ہوا کرتا تھا۔ مغرب سے کچھ پہلے ہی بازاروں کی رفتار بدل جاتی، گھروں میں افطار کی تیاریاں ہوتیں اور محلے کی فضا میں ایک اجتماعی انتظار گھلا ہوتا۔ افطار کے وقت یوں محسوس ہوتا جیسے پورا معاشرہ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھا ہو۔

اسی سلسلے کی ایک تصویر آج بھی یادوں میں روشن ہے۔ جب ہم خود ابھی روزے رکھنے کی عمر کو نہیں پہنچے تھے، ہمارے علاقے میں کوہستان سے تعلق رکھنے والا ایک درویش مزاج شخص رہتا تھا۔ گرمیوں کے طویل اور تپتے رمضان میں وہ اپنی پرانی فور بائی فور جیپ لے کر دور پہاڑوں سے برف لاتا اور علاقے بھر میں تقسیم کرتا۔ اس زمانے میں گھروں میں فریج کہاں ہوتے تھے! ہم بچے بھی اس قطار میں شامل ہوتے، ہاتھوں میں برف کے وہ ٹکڑے شاپروں میں ڈال کر یوں تھامتے جیسے کوئی قیمتی تحفہ مل گیا ہو۔ آج سوچتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ لوگوں کے دلوں میں نیکی کا جذبہ کس قدر بے لوث اور کتنا وسیع ہوا کرتا تھا۔ اس رمضان کی ایک بڑی پہچان باہمی لحاظ تھا۔ تاجر دھوکا دینے سے بچتے، لوگ زبان کی حفاظت کرتے اور گھروں میں جھگڑے خودبخود کم ہوجاتے۔ گویا روزہ صرف معدے پر نہیں مزاج پر بھی اثر انداز ہوتا تھا۔ محلے کا ہر شخص اپنے پڑوسی کا خیال رکھتا تھا۔ اگر کسی کے گھر افطار کمزور ہوتی تو دوسرے گھر سے پلیٹ لازما پہنچتی۔ یہ وہ معاشرتی ہم آہنگی تھی جس نے رمضان کو ایک زندہ اجتماعی تجربہ بنا رکھا تھا۔

مگر آج سوال یہ ہے کہ کیا وہی رمضان اب بھی ہمارے معاشرے میں اسی شان سے موجود ہے؟ آج پاکستان میں رمضان کی رونق تو بہت بڑھ گئی ہے مگر اس کی روح کہیں مدھم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ بازار پہلے سے زیادہ روشن ہیں، ٹی وی نشریات پہلے سے زیادہ شور مچاتی ہیں، سوشل میڈیا پہلے سے زیادہ مصروف ہے مگر دل پہلے جیسے پُرسکون نہیں۔ مساجد آباد ہیں مگر اخلاقی تبدیلی اتنی نمایاں نہیں جتنی ہونی چاہیے۔ ہم نے روزے کو اکثر صرف نظام الاوقات بنا دیا ہے: سحری، افطار، تراویح اور پھر وہی پرانی زندگی۔ حالانکہ روزہ ایک اخلاقی تربیت گاہ ہے۔ اگر روزہ دار جھوٹ بولتا رہے، غصہ کرتا رہے، دھوکا دیتا رہے اور زبان سے دوسروں کو زخمی کرتا رہے تو یہ روزہ اپنی اصل تاثیر کھو دیتا ہے۔ بھوک برداشت کرنا آسان ہے مگر نفس کو قابو کرنا مشکل اور رمضان دراصل اسی مشکل کام کی مشق ہے۔

ہمارے ہاں ایک اور تبدیلی نمایاں ہے اور وہ ہے رمضان کا بڑھتا ہوا شور۔ پہلے راتوں میں ایک سکون ہوتا تھا جو عبادت کے لیے سازگار فضا بناتا تھا۔ اب سحری سے پہلے تک بلند آواز پروگرام، گلیوں میں غیر ضروری ہنگامہ اور ڈیجیٹل مصروفیات نے اس خاموش روحانیت کو متاثر کیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جسم تو روزہ رکھ لیتا ہے مگر دل کو وہ خلوت نصیب نہیں ہوتی جس میں ایمان کی حرارت بڑھتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ معاشرہ مجموعی طور پر زیادہ مادہ پرست ہو چکا ہے۔ مہنگی افطار پارٹیاں، فضول اسراف اور دکھاوے کی روایتیں اس مہینے کی سادگی کو دھندلا دیتی ہیں۔ حالانکہ رمضان کا اصل حسن سادگی، ہمدردی اور انکسار میں ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں امیر کو غریب کی بھوک کا احساس ہونا چاہیے تھا مگر بعض اوقات افطار دسترخوان اس احساس کو مزید کم کر دیتے ہیں۔

اِس صورتِ حال میں ہمیں رک کر ایک بنیادی سوال پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا رمضان بدل گیا ہے یا ہم بدل گئے ہیں؟ شاید حقیقت یہی ہے کہ مہینہ تو وہی ہے مگر ہماری نگاہ بدل گئی ہے۔ بچپن میں دل صاف ہوتا ہے، اس لیے رمضان کی برکتیں زیادہ محسوس ہوتی ہیں۔ جیسے جیسے زندگی کی گرد دل پر جمتی ہے ویسے ویسے روحانی حساسیت کم ہوتی جاتی ہے۔ رمضان کی روشنی ہر سال اترتی ہے مگر ہم اسے جذب کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کے اندر فرشتہ صفت بھی ہے، شیطانی میلان بھی اور درندگی کا پہلو بھی۔ روزہ دراصل اسی لیے فرض کیا گیا کہ انسان اپنے اندر کے حیوانی اور شیطانی رجحانات کو قابو میں لا کر فرشتہ صفت کو ابھارے۔ اگر پورا مہینہ گزر جائے اور ہمارے اخلاق میں نرمی، زبان میں سچائی، معاملات میں دیانت اور دل میں رحم پیدا نہ ہو تو ہمیں اپنے روزے کا محاسبہ ضرور کرنا چاہیے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں سماجی دباؤ، معاشی مشکلات اور سیاسی کشیدگی عام ہے، رمضان ایک اجتماعی شفا بن سکتا ہے بشرطیکہ ہم اسے صرف رسم نہ بنائیں بلکہ اصلاح کا موقع سمجھیں۔ اگر اس مہینے میں خاندانوں کے جھگڑے کم ہوجائیں، بازاروں میں دیانت بڑھ جائے اور زبانوں سے کڑواہٹ کم ہوجائے تو یہی رمضان کی حقیقی کامیابی ہوگی۔ رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف دوڑ کا نام نہیں، رک کر اپنے اندر جھانکنے کا نام بھی ہے۔ یہ مہینہ ہمیں اپنے دل کے گرد لپٹی ہوئی مادی زنجیروں کو ڈھیلا کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ سحر کی تنہائی، افطار کی شکرگزاری اور تراویح کی خشوع بھری ساعتیں دراصل اسی اندرونی سفر کے پڑا ہیں۔ آج بھی اگر ہم چاہیں تو وہی پرانا، خوشبو بھرا رمضان واپس لا سکتے ہیں، اپنے شہروں میں نہیں تو کم ازکم اپنے گھروں میں، اپنے رویوں میں، اپنی زبانوں میں۔ رمضان باہر سے نہیں آتا وہ دل میں اُترتا ہے۔ جب دل نرم ہوتا ہے تو گلیاں بھی روشن لگتی ہیں اور جب دل سخت ہو جائے تو ہزار قمقمے بھی روشنی نہیں دے پاتے۔

رمضان اب بھی وہی ہے، نور مآذن میں بھی جھلملاتا ہے اور دلوں کے دریچوں پر بھی دستک دیتا ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ کیا ہم نے اپنی نگاہ کو پھر سے اتنا پاک کیا ہے کہ اس روشنی کو پہچان سکیں؟ آئیے اس رمضان اپنے دل کے در وا کریں، شاید کھویا ہوا رمضان ہمارا منتظر ہے۔