ایران کیخلاف مشترکہ حکمتِ عملی، امریکا اور اسرائیل کا چین کو تیل کی فروخت روکنے کا منصوبہ

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
اس حکمت عملی میں چین کو ایرانی تیل کی برآمدات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جبکہ دوسری جانب واشنگٹن کی جانب سے سفارت کاری کی ناکامی کی تنبیہ کے درمیان جوہری مذاکرات بھی جاری ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکی حکام کے حوالے سے ویب سائٹ ایکسیس نے نقل کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاھو نے ایران پر معاشی دباؤ میں اضافے، بالخصوص چین کو تیل کی فروخت روکنے کے حوالے سے اتفاق کیا۔
مزیڈ پڑھیں :
امریکا کی ایران کیخلاف ممکنہ کارروائی، خطہ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر

ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی پر پوری قوت سے عمل درآمد جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ یہ مہم جاری جوہری مذاکرات کے ساتھ ساتھ چلے گی، جبکہ سفارت کاری کی ناکامی کی صورت میں کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتی کو بھی تقویت دی جائے گی۔
حکام کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاھو اس حتمی ہدف پر متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جائے، تاہم اس کے حصول کے طریقہ کار پر دونوں میں اختلاف پایا گیا۔
بنجمن نیتن یاھو کا موقف ہے کہ ایران کے ساتھ کسی اچھے معاہدے تک پہنچنا ناممکن ہے اور انہوں نے کسی بھی دستخط شدہ معاہدے پر تہران کی پاسداری کے حوالے سے شک کا اظہار کیا۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مہمان کو بتایا کہ وہ معاہدے کا ایک موقع دیکھ رہے ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ کیا یہ ممکن ہے، ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے معاہدے کے امکانات کا جائزہ لینے کو کہا۔ دونوں مشیروں نے بتایا کہ گذشتہ تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی تسلی بخش معاہدے تک پہنچنا مشکل ہے، تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ ایرانیوں کے لہجے میں اب تک لچک دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ وہ سخت موقف برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات جاری رکھیں گے۔