QTTA معاہدہ اور وسطی ایشیائی ممالک

افغانستان کے ساتھ گزشتہ تین ماہ سے سرحدات بند ہونے کے بعد ایک تیس سالہ پرانے ٹرانزیٹ معاہدے کا خیال سب کو آیا جس پر کام شروع ہوچکا ہے۔اسی تناظر میں چند روز قبل اسلام آباد میں پاکستان اور چین کے حکام کے درمیان ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں ‘کواڈریلیٹرل ٹریفک ان ٹرانزٹ ایگریمنٹ’ (QTTA) کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں تک تجارتی رسائی کو مزید موثر بنانے پر غور کیا گیا۔ یہ تزویراتی معاہدہ پاکستانی بندرگاہوں کو سی پیک کے راستوں کے ذریعے چین سے ہوتے ہوئے وسطی ایشیا سے جوڑتا ہے جس پر گزشتہ کئی برسوں سے جاری رہنے والی تجارت میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ بعض ضروری تکنیکی ایڈجسٹمنٹس جن پر کام تیزی سے جاری ہے، مکمل ہونے کے بعد یہ راستہ وسطی ایشیا کے لیے پاکستانی سمندری بندرگاہوں تک پہنچنے کا مختصر ترین اور سب سے موثر ترین لنک بن جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اس روٹ کی فعالیت سے نہ صرف علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان وسطی ایشیا کے لیے ایک اہم تجارتی حب کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گا۔

کواڈریلیٹرل ٹریفک ان ٹرانزٹ ایگریمنٹ (QTTA) چین، پاکستان، کرغزستان اور قازقستان کے درمیان 1995ء کا ایک معاہدہ ہے جس میں تجارت اور اوورلینڈ ٹرانزٹ کی سہولت فراہم کی گئی ہے جو وسطی ایشیا کو گوادر جیسی پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) سے منسلک اس کا مقصد علاقائی روابط کو بڑھانا ہے۔ حالیہ کوششوں کے ساتھ سرحدی طریقہ کار کو ہموار کرنے اور کارکردگی کو بڑھانے کے لیے TIR سسٹم کے استعمال پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ QTTA کی اہم تفصیلات:
٭دستخط کنندگان اور تاریخ: پاکستان، چین، کرغزستان اور قازقستان نے 9 مارچ 1995ء کو دستخط کیے تھے۔
٭ اس معاہدے کا بنیادی مقصد: خشکی سے گھرے وسطی ایشیائی ممالک کو قراقرم ہائی وے کے ذریعے گرم پانیوں (گوادر پورٹ) تک مختصر ترین، مؤثر رسائی فراہم کرنا تھا، لیکن اسے اس طرح فعال نہیں کیا جاسکا ، اب اس کی ضرورت پاک افغان بارڈر بند ہونے کے بعد شدت سے محسوس کی گئی ،جس پر اسلام آباد سمیت ، بشکیک اور آستانہ میں غور کیا جارہا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اسے آپریشنل کیا جائے۔ اس معاہدے کی آپریشنل حیثیت کو 1995ء میں دستخط کے دوران اسے بنیادی ڈھانچے کے مسائل (قراقرم ہائی وے پر لینڈ سلائیڈنگ) کی وجہ سے طویل مدتی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حالیہ اقدامات کا مقصد روٹ کو مکمل طور پر فعال کرنا ہے، بشمول TIR (ٹرانسپورٹس انٹرنیشن روٹیرز) سسٹم کو اپنانا ہے جس میں پاکستانی ادارے این ایل سی کا کردار بنیادی ہوگا۔

اس معاہدے کے اگرکلیدی پروٹوکول کو دیکھا جائے تو اس کے مطابق کسٹم کے طریقہ کار، ڈرائیوروں کے لیے ویزا نظام اور بین الاقوامی روڈ ٹرانزٹ پرمٹ پر معاہدے شامل ہیں۔ لیکن چائنہ کی جانب سے ویزوں کے اجرا اور کئی دیگر مسائل کی وجہ سے اس راہداری اور معاہدے پر عمل نہیں ہوسکا جس پر پہلی بار سنجیدگی سے کام شروع ہوا ہے ، جو کہ خوش آئند ہے۔ اس رہداری کے فعال ہونے سے وقت کی بچت بھی ہوگئی اور اخراجات بھی کم ہونگے۔ افغانستان کے تجارتی راستے بند ہونے سے ازبکستان اور تاجکستان کی تجارت بھی متاثر ہوئی ہے، اسی وجہ سے اس کی توسیع میں تاجکستان اور ازبکستان نے تجارت کو فروغ دینے کے معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے تاکہ اگر مستقبل قریب میں افغانستان کی صورتحال برقرار رہی تو ان ممالک کے پاس متبادل روٹ موجود ہو۔ اس روٹ کو فعال کرنے کچھ چیلنجز ضرور درپیش ہیں لیکن ناممکن نہیں ہیں۔ روٹ کو انفراسٹرکچر، سیکورٹی اور بہتر لاجسٹکس کی ضرورت کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ معاہدہ وسطی ایشیا اور مشرق وسطی/افریقہ کے درمیان تجارت کو مضبوط بنانے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ 2026ء کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ جاری ایڈجسٹمنٹ سے راہداری کو بہتر بنانے کی توقع ہے۔

اس معاہدے کو فعال کرنے کے لئے کئی اداروںکے درمیان کنیکٹویٹی کی اہم ضرورت ہے بالخصوص پاکستان کی جانب سے این ایل سی کا کرادر انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا، لیکن انہیں ابھی تک انٹرنیشنل روٹ پر کس طرح کام کرنا ہے اس کا ادراک ہی نہیں ہے۔ ستائیس سو کلومیٹر کا کرایہ این ایل سی سات ہزار چار سو ڈالرز مانگ رہی ہے جو کہ بہت زیادہ ہے جبکہ دوطرفہ اخراجات تین ہزار ڈالرزسے زیادہ نہیں آتے ۔ اگر تھوڑی منصوبہ بندی کی جائے تو قازقستان، ازبکستان، کرغیز ستان سے واپسی کا سامان مل سکتا ہے۔ TIR کی لایئسنس ہونے کے باوجود ڈرائیوروں کے ویزوں کے مسائل سے دوچار ہے۔ وقت آگیا ہے کہ این ایل سی کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ وسطی ایشیائی ممالک سے بارٹر معاہدوں پر زور دیا جائے ۔

ایسی کئی مصنوعات ہیں جس کی ضرورت پاکستان سمیت عالمی منڈیوں میں ہے۔ این ایل سی آلو کے ایکسپورٹرز کو سبسڈیز دے تاکہ آلو کا کاشت کاروں کو تباہی سے بچایا جاسکے ۔ اسی طرح چاول ،گارمنٹس سمیت دیگر شعبوں کو سبسڈی دیکر وسطی ایشیائی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کو پروموٹ کیا جائے اور وسطی ایشیائی ممالک کی مصنوعات کو افریقہ تک لے جانے کی منصوبہ بندی کی جائے۔ دنیا علاقائی سطح پر منسلک ہوچکی ہے۔ پاکستان سمیت وسطی ایشیائی ممالک کے منسلک ہونے کا وقت ہے اور QTTAکا یہ روٹ اس میں نئے راہداری کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان کے ساتھ ساتھ ان متبادل روٹس کو فعال کیا جائے تاکہ تاجر،تجارت اور عوام کا نقصان نہ ہو۔سوال یہ ہے کہ کیا اس روٹ کو فعال کرنے کے لئے این ایل سی کو جدید خطوط پر استوار کیاجائے گا؟ کیا سبسڈیز دی جائیں گی؟یا پھرتیس سال بعد بھی اس معاہدے میں روکاٹیں ختم نہیں ہوںگی؟، وقت آگیا ہے کہ چین کو اس حوالے سے مزید آسانیا ں فراہم کرنے پر تیار کیا جائے،سوال سی پیک کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ پاکستان کی کنکیٹویٹی کا ہے۔