درسِ محبت کا خواب

(سیدہ آمنہ محمد الیاس)
دنیا کا یہ تعلیمی سفر اب آخری موڑ پر آ ٹھہرا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت نے آہستہ سے قدم روک لیے ہوں اور دل نے ماضی کی دہلیز پر کھڑے ہوکر یادوں کے دریچے کھول دیے ہوں۔
کتبِ حدیث کی وہ نورانی قرات جو کبھی روح کی سب سے بڑی آسودگی تھی، آج دل چاہتا ہے کہ ان بابرکت لفظوں کو اور زیادہ …. اور دیر تک…. اور ٹوٹ کر پڑھ لیا جائے۔ کیا خبر یہ ساعتیں پھر لوٹیں یا نہ لوٹیں، کیا بخاری، ترمذی، مسلم کے یہ مقدس الفاظ پھر کبھی یوں ہی ہماری زبانوں پر مہک بن کر اُتر سکیں گے….؟ یا یہ سب کچھ بس یادوں کی روشن لکیر بن کر دل کے افق پر ٹھہر جائے گا؟ مگر دل کے نہاں خانے سے ایک صدا اُبھرتی ہے: اِن شاءاللہ ہاں…. ایک دن ضرور آئے گا…. ایک سچا دن…. ایک ایسا دن جو زوال سے ماورا ہوگا۔ جب ہم جنت کی پُرنور بزم میں آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو زانوئے تلمذ تہہ کیے بیٹھے ہوں گے۔ دل دھڑک رہا ہوگا، نگاہیں جھکی ہوں گی اور آواز لرز لرز کر عرض کرے گی: آقا جان صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اہلِ صفہ کو بھی تو اپنے علم و محبت سے سیراب کیا کرتے تھے۔ تو ہمیں بھی محروم نہ رکھیے۔ ہمیں بھی اپنے ارشاداتِ عشق کا کوئی باب عطا فرما دیجیے۔
مزید پڑھیں  :
بدلتی ہوئی دنیا اور جنریشن گیپ

پھر ہم خاموش ہوجائیں گے؛ ادب کے پیکر…. عشق کے اسیر۔ ہیرے کی جلد میں ملبوس بخاری ہاتھوں میں تھامے، سر جھکائے، نم آنکھوں کے ساتھ بخاری کے پُرنور اوراق کھولیں گے اور ہمارے گرد حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین روحانی مہک بن کر جمع ہوں گے۔ فرشتے صف باندھے کھڑے ہوں گے، رضوان، خازنِ جنت، خاموش عقیدت کے ساتھ ایک گوشے میں بیٹھے ہوں گے اور اہلِ جنت اپنی بالکنیوں سے اس منظر کو رشک، محبت اور حیرت سے دیکھ رہے ہوں گے اور پھر آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم ہماری محبت کو محسوس فرما کر وہی آسمانی مسکراہٹ لبوں پر سجا کر اِرشاد فرمائیں گے:
اقروا کما کنتم تقرون فی الدنیا
اللہ اکبر….! کیا ہی ساعت ہوگی وہ؛ جنت کا مدرسہ…. آہاااااں! محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی محفلِ درس…. اور دورے والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صحاحِ ستہ کی قرات میں محو ہوں گے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہمیشہ کی طرح عاجزی کا پیکر بنے سر جھکائے، وفا اور محبت سے لبریز نگاہوں کے ساتھ حضور علیہ السلام کو دیکھتے جا رہے ہوں گے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ غیرتِ ایمانی کے جلال میں اگر کوئی طالبہ قولِ رسول میں زبر زیر کی ہلکی سی لغزش کرے تو فوراً فرمائیں گے: ”یہ میرے نبی کے الفاظ ہیں! یہاں لغزش کی کوئی گنجائش نہیں!“ طالبہ گھبرا جائے گی تو اماں جان حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا شفقت کے ساتھ آگے بڑھیں گی، دلجوئی کریں گی، حوصلہ دیں گی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ منظر دیکھ کر تبسم فرما اٹھیں گے اور اسی لمحے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا طالبہ کے قریب آ کر محبت بھری تھپکی دیں گی: ”شاباش! ہمت نہ ہارو…. تم وہ بیٹیاں ہو جو دنیا میں میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پڑھتی تھیں۔“
طالبہ پھر لرزتی ہوئی آواز میں قرات شروع کرے گی: ”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم….“ …. اور سارا مجمع ادب سے سر جھکا لے گا۔ ایک گوشے میں شہداءِ بدر و اُحد مسرت اور فخر کے ساتھ یہ منظر دیکھ رہے ہوں گے۔ ایک سمت حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ دیگر صحابہ ؓ  کے ساتھ اور دوسری جانب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا صحابیات کے جھرمٹ میں رحمت بھری نگاہوں سے تکتی ہوں گی، جیسے کہہ رہی ہوں: ”میری بیٹیاں…. نبی جی کے علم کو دل میں بسائے جنت تک آ پہنچی ہیں۔“ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مبارک لبوں سے ایک حدیث اِرشاد فرمائیں گے اور کہیں گے: ”یہ حدیث میں نے جبرئیل سے سنی…. اور تم نے مجھ سے!“ یااللہ…. انوار کا وہ عالم کیسا ہوگا…. بس وہی لمحہ ہوگا….مکمل، ابدی، لازوال، جہاں نہ کوئی جدائی ہوگی، نہ فراق کا دکھ۔ بس حضور ہوں گے اور درسِ محبت…. درسِ جنت۔تصور ہی اتنا حسین ہے تو دیدار کا عالم کیا ہوگا….!! اللہم لا تحرمنا ذالک ۔آمین یاربَّ العالمین!