”کفایت شعاری”

ہم کالموں میں زیادہ ذکر اپنے دوست عاقل خان صاحب ہی کا کیا کرتے ہیں اس لیے جب کبھی نام لیے بغیر صرف ”اپنا دوست” کہیں تو ”سادہ لوح” قارئین یہی گمان کرتے ہیں کہ یقینا وہ دوست ”عاقل” ہی ہوں گا، سو ہم ابتدا میں ازخود بتائے دیتے کہ ہمارے آج کے ممدوح ”عاقل” نہیں… کفایت بخاری صاحب ہیں اور کالم کا عنوان ہم نے خوب سوچ سمجھ کر کفایت شعاری رکھا ہے۔ یہ حیرت انگیز ”میچنگ” دراصل قدرت ہی کی تجویز کردہ ہے جس نے کفایت بخاری کے اندر کفایت شعاری کی صفت کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے۔

کفایت بخاری صاحب کا نام شروع ہی سے اتنا مختصر ہرگز نہیں تھا۔ یہ تو سراسر اُن کی اپنی کفایت شعاری کا نتیجہ ہے کہ نام کم ہوتا ہوتا اب اتنا سا رہ گیا ہے۔ جب وہ میٹرک میں ہمارے کلاس فیلو تھے اور ہم دونوں ایک ہی بینچ پر بیٹھا کرتے تھے تو اس وقت ان کا نام ”سید کفایت علی شاہ بخاری” تھا۔ ان کا تعلق چونکہ اٹک کے قریبی گاؤں کامرہ سے ہے لہٰذا بخاری کے بعد ”کامروی” کا اضافہ بھی جائز ہے۔ کلاس میں دوسرے لڑکے تو اپنے مختصر سے نام کو بھی مزید مختصر کرنے پر عمل پیرا تھے، مثلاً کسی کا نام ”آفتاب اقبال” ہوتا تو تعارف کراتے وقت صرف آفتاب بتایا کرتا، اسی طرح محمد خالد اپنے آپ کو صرف خالد بتاتا مگر بخاری صاحب سے کوئی نام پوچھتا تو ”بلا کم و کاست” اپنا مکمل نام سید کفایت علی شاہ بخاری ہی بتاتے۔

ہمیں اپنے بچپن میں چونکہ نام کے حوالے سے ایک ”تلخ” تجربہ ہو چکا ہے، اس لیے جب بھی کوئی ”طویل” نام سنتے ہیں اس کے ”عالمانہ رعب” سے خواہ مخواہ مرعوب ہو جاتے ہیں۔ ہماری بات کماحقہ سمجھنے کے لیے آپ کو ایک واقعہ سننا پڑے گا۔ ہوا یوں کہ ایک دفعہ ہمارے گاؤں کی ”چھوٹی” سی مسجد میں ایک ”عالمی کانفرنس” منعقد ہوئی۔ ہم اگرچہ بہت چھوٹے تھے لیکن سامعین کی تعداد بڑھانے کے لیے ہمیں بھی مسجد جانا پڑا۔ دراصل ہماری مسجد کے امام صاحب نے اہل محلہ سے کہہ رکھا تھا کہ کانفرنس میں انہوں نے ”سات آٹھ” علمائے کرام کو مدعو کر رکھا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ سامعین و حاضرین کی تعداد مہمان علماء کی تعداد سے بھی کم نکلے، لہٰذا سب لوگوں پر لازم ہے کہ اس دن مسجد میں اپنی حاضری یقینی بنائیں۔ بہرحال جب کانفرنس کا آغاز ہوا تو اسٹیج سکریٹری صاحب نے ابتدائی کلمات کے بعد ”ایک” عالم دین کو دعوت خطاب دیتے ہوئے اس کا ”نام” لیا تو ہمیں سخت حیرت ہوئی۔ نام اس قدر طویل تھا کہ اگر ہم چاہتے تو نام ”ختم” ہونے سے پہلے پہلے بڑے آرام سے دو چار رکعت نماز پڑھ لیتے۔ اسٹیج سکریٹری صاحب نے یوں فرمایا:
اب تشریف لائیں گے پیر طریقت، رہبر شریعت، محقق بے بدل، مجدد ملت، عارف کامل، محدث اعظم، خطیب عصر، امام المتقین، حجة الاسلام، شیخ الزاہدین، قطب الاقطاب، عالم لدنی، امام الاولیائ، علامہ زمان، عارف ربانی،……
معذرت خواہ ہیں کہ ہم صرف اتنا ہی یاد رکھ پائے ورنہ ”نام” ابھی جاری تھا۔

یہ ہے وہ تلخ تجربہ جس نے ہمارے ذہن میں ”طویل” ناموں کا ایک رعب بٹھا دیا۔ مگر ہمارا گمان ہے کہ کفایت بخاری صاحب کو ان کے رعب دار نام کی طوالت نے کچھ ایسی مشکلات سے دو چار کیا کہ انہوں نے مجبوراً اسے مختصر کرنے ہی میں عافیت جانی۔ ہمارے ذہن میں مشکلات کی جو ممکنہ صورتیں آتی ہیں اُن میں سے ایک ممکنہ صورت یہ ہے کہ شاید کسی محفل میں کئی ایک لوگوں نے باری باری ان سے ان کا نام پوچھ لیا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ بہت سارے لوگوں کو اس قدر طویل نام بار بار سنانا کافی ”محنت طلب” کام ہے جسے کرتے ہوئے آدمی کے منہ کا تھک جانا بالکل قدرتی امر ہے۔ کفایت بخاری صاحب کا منہ بھی تھک گیا ہوگا اور انہوں نے اپنی ”عافیت” اسی میں جانی ہوگی کہ آئندہ تکلیف سے بچنے کیلیے نام کو مختصر کر لیا جائے، دانشمندی کا تقاضا یہی ہے۔ دوسرا امکان ذرا مزید مضحکہ خیز ہے وہ یہ کہ ممکن ہے کسی موقع پر بخاری صاحب اپنے کسی ”بے صبرے” مخاطب کو ”مکمل” نام سناتے سناتے ابھی اختتام تک پہنچے ہی نہ ہوں کہ وہ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ کر کسی اور کام میں مصروف ہوگیا ہو اور بخاری صاحب اپنا سا منہ لے کر رہ گئے ہوں۔ ایک تیسرا امکان یہ بھی ہے کہ بخاری صاحب کو کہیں کسی ”زود فراموش” قسم کے شخص سے واسطہ پڑ گیا ہو، جسے اپنا مکمل نام سنا کر جیسے ہی وہ ”فارغ” ہوئے ہوں اس شخص نے اپنے ذہن پر زور دیتے ہوئے پوچھ لیا ہو… حضرت ذرا دوبارہ بتا دیجیے گا کہ نام کا آغاز کیسے ہوا تھا…؟

بہرحال نام مختصر کرنے کا اصل سبب کیا ہے یہ تو بخاری صاحب خود ہی بتا سکتے ہیں۔ آپ چاہے اسے ہماری ”خوش فہمی” ہی پر محمول کریں، ہم بہرحال یہی سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی کفایت شعاری والی صفت کے ماتحت اپنا نام مختصر کیا ہے۔
کفایت بخاری صاحب بولنے کے اعتبار سے بھی کافی کفایت شعار واقع ہوئے ہیں۔ اگر آپ ان کی زبانی کچھ سننے کی خواہش رکھتے ہوں تو بعض اوقات اس مقصد کے حصول کے لیے پہلے ان کے منہ میں اپنے الفاظ ڈالنے پڑ جاتے ہیں۔ ہاں یہ بات الگ ہے کہ ان کاشدید مخالف بدقسمتی سے ان کے سامنے آ گیا ہو، اسے بخاری صاحب سے کچھ ”سننے” کیلیے قطعاً کوئی تردد نہیں کرنا پڑتا مگر اس موقع پر بھی وہ کفایت شعاری سے کام لینا نہیں بھولتے اور الفاظ کے سارے نقطے ”حذف” کر کے فریق مخالف کو بالکل ”بے نقط” سناتے ہیں۔ وہ بیچارہ خود ہی بعد میں نقطے لگاتا رہتا ہے۔ اسی طرح اگر انہیں اپنے کسی مخالف پر چھ حرف بھیجنے کی ضرورت پیش آ جائے تو کمال کفایت شعاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پر صرف ”تین حرف” ہی بھیجتے ہیں۔

عاقل خان صاحب اور بخاری صاحب کے بیچ البتہ ایک قدر ”مشترک” بھی ہے، وہ یہ کہ ہم ان دونوں ہی کو ”بڑا اُستاد” مانتے ہیں۔ آپ جانتے ہونگے کہ ”استاد” دو طرح کے ہوتے ہیں۔ پہلا ”استاد” وہ ہے جو ہماری زبان کا ایک ”روزمرہ” شمار ہوتا ہے۔ عموماً جب ہم کسی چالاک شخص کو ”برملا” چالاک کہنے سے بچنا چاہتے ہوں تو یوں کہہ دیتے ہیں کہ…” یار تم بڑے استاد ہو”۔ عاقل خان صاحب کو ہم اسی تناظر میں ”بڑا استاد” کہا کرتے ہیں مگر کفایت بخاری صاحب کو بڑا استاد کہتے ہوئے ”کم از کم” ہمارے ذہن میں یہ بات نہیں ہوتی۔ وہ چونکہ ایک ”اسکول ٹیچر” ہیں اور ٹیچر کے لیے ”استاد” کا لفظ ہی مستعمل ہے لہٰذا سب لوگ انہیں ”استاد” ہی کہتے ہیں اور اسکول ان کا ”ہائی” ہے، اس لیے ہم انہیں چھوٹے کی بجائے ”بڑا استاد” کہنا مناسب سمجھتے ہیں۔ ویسے آپس کی بات ہے عاقل خان کو بخاری صاحب میں دوسرے والی ”استادی” بھی دیکھنے کو مل گئی ہے۔ وہ ایسے کہ ہزاروں طلبہ کا استاد ہونے اور کئی حضرات کو پی ایچ ڈی کے مقالہ مکمل کرانے کے باوجود بخاری صاحب منکسر المزاج بن کر اپنے آپ کو محض ایک ”طالب علم” کہتے ہیں، لیکن پھر وہی بخاری صاحب ہر مہینے کی پہلی تاریخوں میں تنخواہ لیتے وقت ”استاد” بن جاتے ہیں۔ (جاری ہے)