کراچی: شہر قائد میں درجنوں انسانی جانیں نگل جانے والی گل پلازہ کی ہولناک آتشزدگی سانحے میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
گزشتہ ماہ ایم اے جناح روڈ پر واقعہ گل پلازہ میں لگنے والے بھیانک آتشزدگی کے سانحے میں اب تک کی بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے تحت سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے جوڈیشنل انکوائری کمیشن کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔
جسٹس آغا فیصل کو سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے ایک رکنی جوڈیشل انکوائری کمیشن کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کی ہدایت پر باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیشن گل پلازہ کی تعمیراتی منظوری، لیز کی قانونی حیثیت کی تحقیقات کرے گا۔ اس کے علاوہ بلڈنگ پلان کی خلاف ورزی اور ایمرجنسی انخلا میں رکاوٹوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ کمیشن آگ بجھانے کے انتظامات اور فائر سیفٹی آڈٹ کی کوتاہیوں کا تعین کرے گا اور شاپنگ سینٹر میں آگ لگنے کی وجوہات، حالات اور ریسکیو آپریشن کی رفتار کا معائنہ کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں کمیشن 8 ہفتوں میں تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرے گا۔ سخت اقدامات اور موثر تحقیقات کی بدولت حقائق منظر عام پر لائیں گے
وزیر داخلہ سندھ نے کمشنر کراچی کو انکوائری کمیشن کیلیے سیکریٹریٹ سپورٹ فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ متاثرین گل پلازہ کی داد رسی میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کرے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 17 جنوری کی شب گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ دو روز سے زائد تک بھڑکتی رہی۔ اس آگ نے 80 سے زائد خاندانوں کے چراغ بجھا دیے، بیشتر لاشیں انتہائی سوختہ حالت میں ملیں۔ جب کہ متعدد کا تاحال پتہ نہیں چل سکا۔

