عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر پاکستان کی درخواست پر دوسرے مرحلے کی سماعت مکمل کرلی۔کارروائی پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل IX اور ضمیمہ G کے تحت شروع کی گئی تھی۔ ان کارروائیوں میں پاکستان نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی تشریح اور اس کے اطلاق کا تعین کرے۔
دو روزہ سماعت کے دوران پاکستان کی نمائندگی اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، سید محمد مہر علی شاہ، پاکستانی کمشنر برائے سندھ طاس سید حیدر شاہ، نیدر لینڈ لینڈ میں تعینات پاکستانی سفیر جمال ناصرنے کی۔
پاکستان کی نمائندگی کرنے والوں میں سر ڈینیل بیتھ لیہم ، پروفیسر فلیپا ویب، ڈاکٹر کیمرون مائلز، مس شارلوٹ ویسٹ بروک، عبداللہ طارق اور پیٹر جے رے اور ڈاکٹر گریگوری ایل مورس بھی شامل تھے۔
بھارت نے سماعت میں شرکت کی دعوت کا کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی کوئی پیش ہوا ثالثی عدالت کی صدارت امریکا کے پروفیسر سین ڈی مرفی نے کی۔ثالثی عدالت کے دیگر اراکین میں بیلجیم کے پروفیسر ووٹر بائی ٹریئٹر، امریکا کے پروفیسر جیفری پی مائنیئر، اردن کے جج عون شوکت الخصاونہ، اور آسٹریلیا کے ڈاکٹر ڈونلڈ بلیک مور شامل ہیں۔ثالثی عدالت کے فیصلے کے مطابق پی اے سی کارروائی کے سیکرٹریٹ کے طور پر کام کر رہی ہے۔

