شعور، تحت الشعور اور لاشعور

شعور کے لغوی معنی عقل، تمیز، خیال، پہچان اورہوشمندی کے ہیں۔ بچہ، جب نوجوانی کی سرحد کو پار کرلیتا ہے، وہ کچھ نا کچھ سوجھ بوجھ، سوچ سمجھ، فہم و فراست اور عقل و دانش کی باتیں کرنا سیکھ جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ وہ شعور کی عمر کو پہنچ گیا ہے۔ شعور کسی خاص عمر کا محتاج نہیں ہوتا، کوئی بچہ کم عمری میں ہی ذہانت اور ہوشیاری کی باتیں کرنے لگتا ہے اور کوئی بیس بائیس سال کا ہو کر بھی بچگانہ، بدھوپن اور بیوقوفی کی باتوں کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شعور و آگہی کی پیدائش کا پیمانہ عمر نہیں بلکہ تعلیم، والدین کی طرف سے پند و نصائح، اساتذہ کی جانب سے ذہنی تربیت، آس پاس کے ماحول، دوستوں کی صحبت اور سیاسی و سماجی شخصیات کے طرز فکرکے اثرات ذہنی شعور کی تخلیق کرتے ہیں۔

حال میں شعور کے معاملے میں ایک بحث اس وقت سے زور شور سے چل نکلی ہے جب سے صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سے ایک تقریب میں فاطمہ نامی طالبہ کے اس سوال کے جواب میں کہ ان کے صوبے میں مقابلتاً وہ ترقیاتی کام ہوتے نظر نہیں آرہے جو ملک کے دیگر صوبوں میں (جن کی حکومتوں کو بقول ان کے جعلی کہا جاتا ہے) دکھائی دے رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے جواباً طالبہ سے دو باتیں کہیں ۔ ایک یہ کہ ان کے خیال میں اس طالبہ کا تعلق اے این پی یا ان کی مخالف پارٹی سے ہوگا، اس لیے اسے صوبے میں ترقی ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ دوسری جو بات وزیراعلیٰ نے کہی اس کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ ان کی حکومت، پارٹی قیادت نے لوگوں کو جو شعور دیا ہے اُس کی وجہ سے کسی کو سوال کرنے کی آزادی حاصل ہوئی ہے۔ جناب وزیر اعلیٰ کی اس توجیہ پر کہ انہوں نے لوگوں کو شعور یعنی بیداری دی ہے۔ یہ بات ترقی کے ضمن میں متاثر کن دکھائی نہیں دے رہی۔ بظاہر یہ کہنا ان کے تحت الشعور میں مخفی موجود انتشار کے پھیلاؤ کی لاشعوری کوشش ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قطع نظر اس بات کے کہ دوسرے صوبوں میں ان کے صوبے کے مقابلے ترقی ہو رہی ہے یا نہیں، شعوردینے کا مطلب ہرگزیہ نہیں ہے کہ ان کے صوبے میں ترقی کے کام ہورہے ہیں۔ ترقی کا مطلب عام فہم الفاظ میں لوگوں کے لیے تعلیمی سہولیات، ہسپتال اور شفاخانوں کا قیام، روڈز اور عمارتی اسٹرکچرزکی تعمیر، صنعتوں کا قیام، روزگارکی فراہمی، عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے اقدامات، کھیلوں کے میدانوں اور عوام کے لیے ٹرانسپورٹ کی فراہمی جیسے اقدامات کو تعمیر و ترقی سے تعبیرکیا جاتا ہے۔ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور خوشحالی کے اقدامات کرنا بھی ترقی کے لیے لازم قرار پاتے ہیں۔ ان تمام سہولتوں اور مراعات کی فراہمی کے بغیرصرف شعور دینا کافی نہیں ہوتا۔ اگر معیار زندگی بہتر بنانے کے کام نہ ہو رہے ہوں تو خالی شعور سے پیٹ نہیں بھرتا اور نہ روزگارملتا ہے۔ شعور سے صحت و تعلیم سے محروم افراد کے مسائل حل نہیں ہوتے۔ فقط آزادی گفتار، نہ تو صنعتوں کے قیام کی ضامن ہوتی ہے اور نہ شاہراہوں کی تعمیراور ذرائع رسل و رسائل کی فراہمی اور ترقی کی بنیاد بنتی ہے۔

شعور کے بارے میں یہ بات پورے وثوق سے نہیں کہی جا سکتی کہ یہ ہمیشہ مثبت اور خیرکے معاملات پہ منتج ہوتا ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ بسا اوقات سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کی طرف سے دیا گیا شعور راستے سے بھٹکا دیتا ہے۔ شعور ،سوچ اورغلط کاری کی طرف بھی راغب کرتا ہے۔ ترقی کے لیے شعور کا صحیح ہونا از حد ضروری ہے۔ بالخصوص ہمارے یہاں سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی طرف سے جس طرح کے منفی سیاسی رجحانات اور تصورات کی تشہیر و تائید کی جاتی ہے، اس کے فوری اثرات سادہ لوح عوام کے ذہنوں پر اس طرح راسخ ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے لیڈرز کے دکھائے گئے راستے سے سرمو انحراف کے لیے تیار نہیں ہوتے اور اس نظریے کی اندھادھند تقلید شروع کر دیتے ہیں جو ان کو شعور کے طور پر دیا گیا ہوتا ہے۔ اگر صحیح اور درست راستے کی ترغیب ہو، جو ملک و قوم کے مفاد میں ہو تو اس کے اچھے ثمرات ملتے ہیں جبکہ بے سمت اورغلط راستوں کا انتخاب کیا جائے تو ملک گمراہی اورنقصانات کا شکار ہوجاتا ہے۔ جن افراد کے ذہنوں پر اپنے رہنمائوں کی تقاریر اور نظریات کی گہری چھاپ پڑ جاتی ہے اور وہ کوئی بھی ایسا کام کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں جو ملک و قوم کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ ہمارے سامنے منفی شعور کی ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جن میں سیاسی قائدین کے بہکاوے میں آکر لوگ ملک کے خلاف کارروائیوں پہ مجبور ہوئے ہیں۔ نو مئی کے واقعات اس ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔

ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ سیاسی سرکشی، اداروں اور حکومتوں کے خلاف مظاہروں، جلوسوں، ہڑتالوں، جلاؤ گھیراؤ، منافقت، رخنہ اندازی، توڑ پھوڑ، پہیہ جام ہڑتالوں سڑکیں بند، اشجار و عمارات کو جلانا، اداروں پہ حملہ آور ہونا اور مخالفین کو برے ناموں سے پکارنا، کسی کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹ مبالغہ آرائی اور بہتان تراشی کا سہارا لینا ہماری سیاست کے وہ گناہ ہیں جن کا سہارا لیکر عوام کے کے ذہنوں میں یہ زہر انڈیلا گیا کہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے ایسے جارحانہ اقدامات کئے جائیں کہ حکومت تنگ آ کر ان کے مطالبات پورے کرنے پر مائل ہو جائے۔ یہ حکمت عملی کہ پہلے مزاحمت اور پھر مفاہمت بھی اسی منفی ذہنیت کی عکاس ہے کہ پہلے حکومت اور اداروں کو نقصان پہنچایا جائے اور پھر اپنے مذموم مقاصد کے لیے رعایتیں طلب کی جائیں۔ اس طرح کی شعوری کوششیں کسی طرح بھی حب الوطنی کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ یہی وہ ذہن سازی ہے جو شعور کے نام پر موجودہ جوان نسل کو بگاڑنے میں کردار ادا کررہی ہے۔ ایسا شعور دینے والے سیاسی لوگ نہ تو سیاست دان کہلانے کے مستحق ہوتے ہیں اور نہ اقتدار ملنے پر اچھے حکمران ہونے کی صفات رکھتے ہیں۔ ہمارا ماضی اس امر کی گواہی دیتا ہے۔