کرکٹ، سیاست اور عالمی طاقت کے توازن کی نئی بساط

کرکٹ برصغیر میں صرف کھیل نہیں اجتماعی نفسیات، سیاست، معیشت اور سفارت کاری کا مجموعہ ہے۔ پاک بھارت مقابلہ تو بالخصوص ایسا واقعہ ہوتا ہے جو پورے ٹورنامنٹ پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ اسی لیے جب یہ فیصلہ سامنے آیا کہ پاکستان 15 فروری کو کولمبو میں بھارت کے خلاف ٹی 20 ورلڈ کپ میچ نہیں کھیلے گا اور نہ ہی آگے چل کر کسی مرحلے پر بھارت کے مقابل آئے گا تو اس کے اثرات کھیل کے میدان سے کہیں آگے تک محسوس کیے جا رہے ہیں کیونکہ یہ محض ایک میچ کی منسوخی نہیں بلکہ عالمی کرکٹ کی طاقت کی ساخت کو چیلنج کرنے والا اعلان ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پاک بھارت میچ کسی بھی عالمی ایونٹ کی سب سے بڑی کمرشل پراپرٹی ہوتا ہے۔ براڈکاسٹنگ رائٹس، اسپانسرشپ، اشتہارات، ٹکٹوں کی فروخت، سیاحت اور ہاسپیٹیلٹی، سب اسی ایک میچ کے گرد گھومتے ہیں۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس ایک مقابلے کے نہ ہونے سے 45 سے 50 ارب ڈالر تک کا براہِ راست مالی نقصان ہو سکتا ہے جبکہ پسِ پردہ ہونے والی معاشی سرگرمی اس سے کہیں زیادہ تھی۔ بھارتی تجزیہ نگار بظاہر یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے نہ کھیلنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ اگر واقعی فرق نہ پڑتا تو اس قدر بے چینی، مباحثے اور سفارتی سطح پر رابطے نہ دیکھنے کو ملتے۔

عالمی کرکٹ میں بی سی سی آئی کا اثر و رسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ آئی سی سی کی پالیسیوں اور فیصلوں پر بھارتی بورڈ کے اثرات کی باتیں برسوں سے ہوتی رہی ہیں۔ بنگلہ دیش جیسی ٹیسٹ اسٹیٹس کی حامل ٹیم کو ورلڈ کپ سے باہر رکھنے کا فیصلہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ محض ایک ٹیم کی محرومی نہیں تھا بلکہ عالمی کرکٹ میں طاقت کے یکطرفہ استعمال کی علامت سمجھا گیا۔ شاید اسی لمحے اس ردِعمل کی بنیاد رکھ دی گئی تھی جو اب سامنے آ رہا ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی جانب سے واضح اعلان کہ پاکستان نہ صرف 15 فروری کا میچ بلکہ مستقبل میں کسی بھی مرحلے پر بھارت کے خلاف نہیں کھیلے گا، دراصل ایک سفارتی پیغام ہے۔

یہ پیغام بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی، اصولی موقف اور کھیل کو طاقت کی سیاست سے آزاد کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا یہ پراپیگنڈا بھی کر رہا تھا کہ پاکستان میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ اس شرط پر واپس لینے کا سوچ رہا ہے کہ بھارت پاکستان میں آ کر ون ڈے کرکٹ سیریز کھیلے۔ لیکن وزیرِ اعظم پاکستان نے واضح کر دیا کہ پاکستان حکومت نے بھارت کے ساتھ نہ کھیلنے کا فیصلہ بنگلہ دیش کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے کیا ہے۔ پی سی بی کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی کی جانب سے بھارتی میڈیا پر پاکستان کے فیصلے کا دفاع اور ماضی میں بی سی سی آئی کے رویّے کا ذکر بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ انگلینڈ کے سابق سٹار کھلاڑی کیون پیٹرسن کی حمایت نے اس موقف کو مزید وزن دیا ہے۔ اسکائی اسپورٹس کے پروگرام میں پیٹریسن کا کہناتھا کہ ‘کرکٹ کے ذریعے ہمیشہ پیار محبت کو فروغ ملتا ہے لیکن جب کرکٹ میچ اس حد تک پہنچ جائے کہ کھلاڑی آپس میں ہاتھ تک نہیں ملا سکے تو وہ پھر کھیل نہیں ہوتا۔ پوری دنیا کے ہر ایک کھیل کا یہ اصول ہے کہ میچ کے بعد کھلاڑی ہاتھ ملاتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے جو فیصلہ کیا ہے وہ ٹھیک ہی کیا ہے کیونکہ ایشیا کپ میں جو کچھ ہوا وہ کسی سے چھپا نہیں ہے۔کرکٹ سے بڑا کوئی بھی نہیں ہے۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کرکٹ کو سیاست کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ آئی سی سی کا کردار کرکٹ میں ختم ہورہا ہے۔ اگر آئی سی سی نے اپنا کردار ٹھیک نہیں کیا تو زیادہ دیر تک آئی سی سی اس کردار کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ یہ پہلا ورلڈ کپ دیکھ رہا ہوں جس میں صرف مسائل ہی نظر آرہے ہیں’۔

یہاں ایک اور پہلو بھی ذہن میں رکھنا ہو گا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ اس وقت انڈر ورلڈ مافیا کے بھی شدید دباؤ میں ہے۔ کرکٹ پر جوئے کو بھارتی انڈر ورلڈ مافیا ہی کنٹرول کرتا ہے۔ پاک بھارت میچ پر قریباً تین سو ارب ڈالر تک جوئے کا تخمینہ لگایا جا رہا تھا۔ اتنی بڑی رقم سے دستبرداری آسان کام نہیں ہے۔ اس لحظ سے بی سی سی آئی دوہری مشکل کا شکار ہے۔ ایک طرف میچ نہ ہونے کی صورت میں بطور میزبان اسے بھاری نقصان کا سامنا ہے جبکہ دوسری طرف مستقبل میں آئی سی سی پر اس کی اجارہ داری ختم اور کردار کم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ پاکستان بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوا ہے۔ آگے چل کر کرکٹ کھیلنے والے دیگر ممالک بھی اس بلاک کا حصہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دوسری طرف کولمبو میں ہونے والا یہ میچ سری لنکا کے لیے مالی طور پر زندگی کی علامت سمجھا جا رہا تھا۔ ٹکٹوں کی واپسی، فلائٹس کی منسوخی اور سیاحت کے شعبے پر ممکنہ منفی اثرات نے سری لنکن بورڈ کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کی طرف سے دو صفحات پر مشتمل خط کے ذریعے پاکستان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ یہ میچ ضرور کھیلے۔

مگر سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ جب بنگلہ دیش کے خلاف ووٹنگ ہو رہی تھی تو کیا سری لنکا کی طرف سے اس ممکنہ صورت حال پر غور کیا گیا تھا؟ اس نے بھی تو بنگلہ دیش کے خلاف ہی ووٹ دیا تھا۔ اس طرح کے اصولی فیصلوں کے نتائج کبھی کبھی دیر سے سامنے آتے ہیں۔ یقینا سری لنکا کو بھی اب اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہو گا۔مبصرین کا خیال ہے کہ موجودہ صورت ِحال عالمی کرکٹ کو دو بلاکس میں تقسیم کرنے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ ایک طرف وہ ممالک ہیں جو بی سی سی آئی کے اثر و رسوخ سے نالاں ہیں اور دوسری طرف وہ جو اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کا کھل کر سامنے آنا شاید ایک بڑے رجحان کی ابتدا ہو۔ اگر دیگر کرکٹ بورڈز نے بھی اسی نوعیت کے تحفظات کا اظہار کیا تو آئی سی سی کے موجودہ ڈھانچے پر سوالات اٹھنا ناگزیر ہو جائیں گے۔پاکستان نے نیدرلینڈ کے خلاف اپنا پہلا میچ جیت کر ٹی 20 ورلڈکپ کا کامیاب آغاز کردیا ہے۔ امید ہے پاکستان آسانی سے کوارٹر فائنل میں پہنچ جائے گا۔ اصل دلچسپ صورتِ حال اس وقت پیدا ہو گی جب ممکنہ طور پر پاکستان اور بھارت سیمی فائنل یا فائنل میں مدِمقابل ہوں گے اور پاکستان وہ میچ کھیلنے سے بھی انکار کرے گا۔ اس سوچ نے بی سی سی آئی اور آئی سی سی حکام کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔

پاک بھارت میچ ہمیشہ ”کرکٹ ڈپلومیسی” کی علامت رہا ہے مگر اس بار کرکٹ سفارتی دباؤ کے خلاف مزاحمت کی علامت بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان کی کھیل کے میدان میں عدم شرکت ایک خاموش مگر مضبوط پیغام ہے کہ کھیل کو محض کمرشل اور سیاسی مفادات کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔ یہ واقعہ محض ایک میچ کی منسوخی نہیں بلکہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا عالمی کرکٹ واقعی غیرجانبدار ہے؟کیا چھوٹے بورڈز کی آواز سنی جاتی ہے؟کیا کھیل طاقتور ممالک کے مفادات کا آلہ بنتا جارہا ہے؟ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوجائے گا کہ یہ فیصلہ وقتی ہلچل تھا یا عالمی کرکٹ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کا آغاز ثابت ہوتا ہے۔ کبھی کبھی کھیل نہ کھیلنا بھی ایک بڑا کھیل ثابت ہوتا ہے۔