ایپسٹین فائلز۔ مغربی اشرافیہ کا گھناﺅنا چہرہ بے نقاب

رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
امریکی ارب پتی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کے گرد بنے خفیہ نیٹ ورک سے متعلق سامنے آنے والی دستاویزات، عدالتی ریکارڈ، صحافتی تحقیقات اور گواہیوں نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔
انسانیت کے خلاف ایسے گھناﺅنے جرائم کا انکشاف ہوا ہے جس کا تصور کوئی نارمل انسان نہیں کرسکتا۔ خود کو انسانیت کے علمبردار کہلانے والے مغربی حکمرانوں، اشرافیہ اور صاحب ثروت شخصیات کا وہ بدنما چہرہ سامنے آیا ہے جس سے دیکھ کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جائے۔ نوعمر بچوں اور بچیوں کی خرید و فروخت، ان کی بولی لگانا، ہوس کا نشانہ بنانا، پھر قتل کرکے ان کا خون پی جانا۔ اس قسم کے جرائم سے ان دستاویزات نے پردہ ہٹایا ہے۔ یہ معاملہ محض ایک فرد کے جرائم تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے طاقت، دولت اور عالمی سیاست کے اُن تاریک پہلووں کو بے نقاب کیا ہے جن پر برسوں سے پردہ پڑا ہوا تھا۔ ایپسٹین کا نام آج ایک ایسی علامت بن چکا ہے جو اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر مجرم کے تعلقات دنیا کے طاقتور ترین حلقوں سے ہوں تو کیا انصاف واقعی اپنا راستہ بنا پاتا ہے؟
جیفری ایپسٹین بظاہر ایک سرمایہ کار تھا، جس کی مالیاتی سرگرمیوں کی نوعیت ہمیشہ سے مشکوک رہی۔ اس کی کمپنی کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ دنیا کے انتہائی دولت مند افراد کے سرمائے کو منظم کرتی، سرمایہ کاری کرواتی اور خفیہ مالی معاملات میں سہولت فراہم کرتی تھی، مگر حیران کن طور پر نہ تو اس کے کلائنٹس کی مکمل فہرست کبھی سامنے آئی اور نہ ہی یہ واضح ہوسکا کہ ایپسٹین کے کاروبار کا اصل سرمایہ کہاں سے آیا۔ امریکی مالیاتی ماہرین اور صحافی برسوں سے یہ سوال اٹھاتے رہے کہ ایک ایسا شخص جس کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ تاریخ غیرمعمولی نہیں، آخر اتنے طاقتور حلقوں تک رسائی کیسے حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔تحقیقات کے مطابق ایپسٹین نے امریکا کے ساحل کے قریب ایک نجی جزیرہ خریدا، جو بعدازاں اس پورے نیٹ ورک کا مرکز بن گیا۔ متاثرین کی گواہیوں اور صحافتی رپورٹوں میں اس جزیرے کو ایسی جگہ کے طور پر بیان کیا گیا جہاں قانون کی عمل داری عملاً موجود نہیں تھی۔ یہاں آنے والے افراد میں سیاست دان، شاہی خاندانوں سے منسوب شخصیات، عالمی سرمایہ دار اور بااثر کاروباری لوگ شامل بتائے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس جزیرے پر وہ سب کچھ ہوتا تھا جو عام دنیا میں یا تو ممکن نہیں یا فوراً قانون کی گرفت میں آجاتا اور اسی وجہ سے یہ مقام طاقتور افراد کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔
مزید پڑھیں  :
ایپسٹین فائلز میں نام آنے پر بھارتی اپوزیشن نے مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا
اس نیٹ ورک میں ایپسٹین کی قریبی ساتھی یہودی عورت ’گیلاین ماکسویل‘ کا کردار بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکی عدالتوں میں پیش ہونے والے شواہد کے مطابق ماکسویل پر الزام تھا کہ وہ مختلف ممالک سے کم عمر لڑکیوں کی نشاندہی کرتی، انہیں ماڈلنگ، فلموں یا مالی آسودگی کے خواب دکھا کر ورغلاتی اور پھر ایپسٹین کے نیٹ ورک کے حوالے کر دیتی۔ بعدازاں انہی لڑکیوں کو بااثر افراد کے سامنے پیش کیا جاتا۔ ماکسویل کے خلاف مقدمے میں متعدد متاثرین نے گواہی دی جس کے بعد اسے انسانی اسمگلنگ اور نابالغوں کے استحصال کے الزامات میں سزا سنائی گئی۔ ایپسٹین کے خلاف پہلا بڑا انکشاف 1990ء کی دہائی کے وسط میں سامنے آیا جب چند متاثرہ لڑکیوں نے فلوریڈا میں پولیس کو شکایت درج کروائی۔ تاہم اس وقت یہ کیس آگے نہ بڑھ سکا اور مختلف وجوہات کی بنا پر دبا دیا گیا۔ ناقدین کے مطابق اس خاموشی کے پیچھے وہی طاقتور حلقے تھے جن کے مفادات اس نیٹ ورک سے وابستہ تھے۔ اب تو بہت سے مبصرین کھل کر کہنے لگے ہیں کہ دراصل اس کے پیچھے اسرائیل کی بدنام زمانہ دجالی و شیطانی خفیہ ایجنسی موساد کا کردار تھا۔ پہلے وہ موساد کا نام لینے سے ڈرتے تھے۔
کئی برس تک یہ معاملہ پس منظر میں چلا گیا، یہاں تک کہ 2007ء اور 2008ء میں تحقیقی صحافیوں نے دوبارہ اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی۔ ان صحافتی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آنے والے شواہد نے امریکی میڈیا میں ایک طوفان برپا کر دیا۔ دستاویزات، گواہیوں اور متاثرین کے بیانات نے واضح کیا کہ معاملہ چند انفرادی جرائم کا نہیں بلکہ ایک منظم نظام کا ہے۔ عوامی دباو بڑھا تو حکام کو کارروائی کرنا پڑی، تاہم یہاں بھی انصاف کا سفر غیرمعمولی موڑ اختیار کرگیا۔ ایپسٹین اور استغاثہ کے درمیان ایک متنازع معاہدہ ہوا جس کے تحت اس نے چند نسبتاً کم سنگین الزامات تسلیم کیے اور بدلے میں بڑے جرائم سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔ اسے صرف تیرہ ماہ کی سزا سنائی گئی اور حیران کن طور پر اسے دن کے وقت جیل سے باہر رہنے کی اجازت بھی حاصل رہی جسے امریکی عدالتی تاریخ کی سب سے نرم سزاوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ فیصلہ اس وقت بھی شدید تنقید کی زد میں آیا مگر اصل ہلچل اس وقت مچی جب کچھ برس بعد نیویارک میں ایپسٹین کے خلاف نئے شواہد سامنے آئے۔ کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور استحصال سے متعلق الزامات دوبارہ عدالت میں پہنچے اور 2019ء میں ایپسٹین کو ایک بار پھر گرفتار کرلیا گیا۔ اس مرحلے پر یہ امید کی جا رہی تھی کہ اب وہ طاقتور شخصیات بھی قانون کی گرفت میں آسکتی ہیں جن کے نام پسِ پردہ لیے جا رہے تھے۔ لیکن یہ مرحلہ بھی انجام تک نہ پہنچ سکا۔ گرفتاری کے کچھ ہی عرصے بعد جیفری ایپسٹین جیل میں مردہ پایا گیا۔ سرکاری موقف کے مطابق اس نے خودکشی کی مگر حالات و واقعات نے اس دعوے کو مشکوک بنا دیا۔ اس وقت جیل میں تعینات گارڈز کا غائب ہونا، نگرانی کے کیمروں کا بند ہونا اور پوسٹ مارٹم پر اٹھنے والے سوالات نے عالمی سطح پر شکوک کو جنم دیا۔ بہت سے مبصرین کا کہنا ہے کہ ایپسٹین کی موت کے ساتھ ہی وہ واحد شخص خاموش ہوگیا جو اس پورے نیٹ ورک کے راز کھول سکتا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ جزیرے پر جگہ جگہ کیمرے نصب تھے اور امکان ظاہر کیا گیا کہ ان ریکارڈنگز کا مقصد طاقتور افراد کو بلیک میل کرنا تھا۔ تاہم ایپسٹین کی موت کے بعد یہ ڈیٹا یا تو غائب ہوگیا یا ناقابلِ رسائی بنا دیا گیا۔ اس صورتحال نے یہ سوال مزید مضبوط کر دیا کہ آیا ایپسٹین واقعی اس نظام کا اصل معمار تھا یا محض ایک مہرہ جبکہ اصل طاقت کہیں اور موجود تھی۔
ایپسٹین کیس کے تناظر میں سامنے آنے والی فہرستوں جنہیں عمومی طور پر ’ایپسٹین لسٹ‘ کہا جاتا ہے، نے بھی عوامی بحث کو جنم دیا۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان فہرستوں میں شامل ہر شخص کو مجرم قرار دینا نہ قانونی طور پر درست ہے اور نہ صحافتی اصولوں کے مطابق۔ بعض افراد کا نام صرف ملاقات، سفر یا تعلق کی بنیاد پر درج ہے جبکہ الزامات صرف ان پر ثابت ہوتے ہیں جن کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہوں۔ یہی فرق اس کیس کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ مجموعی طور پر ایپسٹین کا معاملہ جدید دنیا میں طاقت اور انصاف کے تعلق پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ یہ کیس اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جب دولت، سیاست اور اثر و رسوخ یکجا ہوجائیں تو قانون کی عمل داری کس حد تک کمزور پڑسکتی ہے۔ ایپسٹین کی موت نے اگرچہ ایک باب بند کردیا مگر اس کے پیچھے چھپے سوالات آج بھی زندہ ہیں۔ یہ کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی اور شاید آنے والے برسوں میں مزید دستاویزات اور شواہد اس پردے کو مزید اٹھائیں، جس کے پیچھے طاقتور حلقوں کی ایک ایسی دنیا چھپی ہے جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتی ہے۔ بہرحال جو کچھ ابھی تک سامنے آیا ہے وہ ناقابل تصور ہے۔ اس نے مغربی تہذیب کے گھناﺅنے چہرے کو بے نقاب کردیا ہے۔