طالبہ نے وزیر اعلیٰ کے پی کو کیا کہا؟ پورے ہال میں واہ واہ

پشاور: نشتر ہال پشاور میں ینگ لیڈر کنونشن میں وزیراعلی سہیل آفریدی اور ایک طالبہ کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔
تقریب میں وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بطور مہمان خصوصی شریک تھے، اس دوران وہاں موجود ایک طالبہ نے وزیراعلی سے سوال کیا جس کے بعد ہال تالیوں سے گونج سے اٹھا۔
طالبہ نے کہا کہ آپ دیگر صوبوں میں جعلی حکومت ہونے کا الزام لگا رہے ہیں مگر آپ کی اصلی حکومت کے ہوتے ہوئے گذشتہ 15 برسوں کے دوران صوبے نے کیا ترقی کی؟
طالبہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جعلی حکومتیں ترقی کر رہی ہیں جبکہ ہمارا صوبہ پسماندہ ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے طالبہ سے پوچھا کہ آپ ترقی کسے کہتی ہیں؟ طالبہ نے جواب میں کہا کہ ہمارے صوبے میں ترقی صرف ایم این ایز اور ایم پی ایز کے گھروں میں ہوئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ شاید آپ کا تعلق کسی اور سیاسی جماعت سے ہے اسی لیے آپ کو ترقی نظر نہیں آرہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری حکومت نے نوجوانوں کو سوال کرنے کا شعور دیا اسی لیے آپ وزیراعلی کے سامنے کھڑی ہو کر سوال کر رہی ہیں۔
سہیل آفریدی نے طالبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کا تعلق اے این پی یا جماعت اسلامی سے ہے، این اے پی کی حکومت میں بم دھماکے تھے، یہ نشترہال بند تھا جبکہ ہماری حکومت نے نوجوانوں کے لیے یہ ہال دوبارہ کھولا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ترقی صرف لاہور اور کراچی نہیں ان کے مضافات دیکھیں وہاں حالات خراب ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پشاور میں ترقی ہو رہی ہے، 200 ارب روپے کی سکیمیں لائی جا رہی ہیں جبکہ سابق قبائلی اضلاع میں ایک ہزار ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔
سہیل آفریدی سے سوال کرنے والی طالبہ فاطمہ خان نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ وزیراعلی سے حقیقت پر مبنی ایک سوال پوچھا تو وہ جواب گول کر گئے۔
طالبہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ 15 برسوں کے دوران ہمارے صوبے میں ترقی نظر نہیں آرہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ صرف نوجوانوں میں نفرت پیدا کر رہے ہیں اور پھر انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے مظاہروں میں نوجوانوں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالا گیا اور آج تک کسی نے ان کا نہیں پوچھا۔ اگر یہ تحریک انصاف کی حکومت ہے تو یہ نوجوانوں کی ترقی کے لیے اقدامات کرتے۔
واضح رہے کہ نشتر ہال پشاور میں منعقد ہونے والے ینگ لیڈر پارلیمنٹیرینز کنونشن میں خیبر پختونخوا کے علاوہ پنجاب کے طلبہ و طالبات بھی شریک تھے۔