بھارت یورپی یونین فریڈ ٹریڈ ایگریمنٹ جسے مدر آف آل ڈیلز کا نام دیا گیا ہے، اس نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستانی منصوبہ ساز اسے بڑی توجہ اور غور سے دیکھ رہے ہیں۔ ایکسپورٹرز خاص کر جن کی پراڈکٹس یورپی یونین کو جاتی ہیں، ان کے لئے اس میں نئے چیلنج، خطرات اور پریشانیاں چھپی ہیں۔ ان کاروباری اداروں نے اس نئی چیلنجنگ صورتحال پر غوروفکر شروع کر دیا ہے۔ متبادل آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
مدر آف آل ڈیل ہے کیا؟
بھارت اور یورپی یونین فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی رو سے ایک دوسرے کی پراڈکٹس کو زیرو ٹیرف سہولت دی جائے گی۔ یہ ڈیل پچھلے پندرہ بیس سال کے طویل مذاکرات کے بعد ممکن ہو پائی ہے۔ یہ ڈیل لگ بھگ دو ارب افراد کی منڈی بناتی ہے جہاں محتاط اندازے کے مطابق ستائیس کھرب ڈالر کا کاروبار ہوگا، یہ گلوبل جی ڈی پی کا پچیس فیصد اور عالمی تجارت کا ایک تہائی بنتا ہے۔ انڈیا کی ٹیکسٹائل، ملبوسات، لیدر سامان اور جوتے، کیمیکلز، جیولری اور نگینوں، سی فوڈ وغیرہ کو ٹیرف زیرو ہونے سے بڑا فائدہ پہنچے گا۔ رپورٹس کے مطابق انڈیا کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات ایکسپورٹس پر اس وقت ٹیرف بارہ فیصد تھا جو اب صفر ہو جائے گا۔ لیدر سامان اور جوتوں پر سترہ فیصد ٹیرف فوری صفر ہو جائے گا جبکہ جیولری اور نگینوں پر پہلے چار فیصد ٹیرف تھا، اب وہ بھی زیرو ہو جائے گا، یہی کچھ سی فوڈ اور کیمیکلز وغیرہ کے ساتھ ہوگا۔
پاکستانی ایکسپورٹر کیوں پریشان ہیں؟
دراصل پاکستان کی ایکسپورٹ کا بڑا حصہ یورپی یونین کو جاتا ہے۔ یورپ پاکستان کے ایکسپورٹ مال کی دوسری بڑی منڈی ہے۔ (پہلے نمبر پر امریکا آتا ہے)۔ تازہ ترین معاشی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی یورپی یونین (EU) کو برآمدات کا حجم تقریباً 9ارب ڈالر سالانہ ہے۔ پاکستان کی کل عالمی برآمدات کا تقریباً 28فیصد حصہ اکیلے یورپی یونین کو جاتا ہے۔ یورپی یونین کو ہونے والی ایکسپورٹ زیادہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس ہے، اس کے باعث پاکستانی ایکسپورٹس پر زیرو پرسینٹ ٹیکس ہے، یعنی پاکستانی سامان پر کوئی کسٹم ڈیوٹی عائد نہیں۔ پاکستان کی یورپی یونین کو ہونے والی ٹوٹل ایکسپورٹ کا تقریباً 75فیصد سے 76فیصد حصہ صرف ملبوسات، بیڈ لینن، تولیے اور ریڈی میڈ گارمنٹس پر مشتمل ہے۔ دیگر اشیاء میں چمڑے کی مصنوعات، سرجیکل آلات، چاول اور کھیلوں کا سامان (فٹ بال وغیرہ) شامل ہے۔ یورپی یونین کے 27ممالک میں سے پاکستان کی سب سے زیادہ تجارت ان ممالک سے ہوتی ہے: جرمنی: تقریباً 1.7ارب ڈالر، نیدرلینڈز: تقریباً 1.6ارب ڈالر۔ اسپین: تقریباً 1.4ارب ڈالر، اٹلی: تقریباً 1.1ارب ڈالر جبکہ مشرقی یورپ میں چند سو ملین ڈالر کے چاول وغیرہ بھی ایکسپورٹ کئے جاتے ہیں۔
مدر آف آل ڈیل پاکستان کو کیا نقصان پہنچا سکتی ہے؟
1۔ ہوم ٹیکسٹائل (Home Textiles) سب سے زیادہ خطرہ پاکستانی ٹیکسٹائل کو ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت اس شعبے میں بہت مضبوط ہے اور اس کی کاٹن کی کوالٹی بہترین مانی جاتی ہے۔ اب تک بھارت پر دس فیصد کے قریب ڈیوٹی تھی، پاکستانی مال پر کوئی ٹیکس نہیں تھا، اس لئے ہماری مصنوعات قدرے سستی تھیں۔ اب جبکہ بھارت کی مصنوعات بھی سستی ہو جائیں گی تو یورپی خریدار قیمت اور کوالٹی کی بنیاد پر بھارت کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
2۔ ریڈی میڈ گارمنٹس۔ پاکستان کے ڈینم (Denim) اور نِٹ ویئر (Knitwear) کا یورپ میں بڑا نام ہے، لیکن بھارت کی ‘گارمنٹ انڈسٹری’ کا حجم اور تنوع پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ اس لئے یہ خدشہ ہے کہ بعض بڑے یورپی برانڈ جیسے ایچ اینڈ ایم اور زارا وغیرہ جو پاکستان سے مال اٹھاتے تھے، اب بھارت سے سستی اور زیادہ ورائٹی والی مصنوعات کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔
3۔ چمڑے کی مصنوعات (Leather Goods)۔ پاکستان کے دستانے (Gloves) اور چمڑے کے لباس یورپی منڈی میں مقبول ہیں۔ اب بھارتی لیدر گڈز کو زیرو ٹیرف مل جانے سے مقابلہ سخت ہو جائے گا کیونکہ بھارت نے حالیہ برسوں کے دوران اپنی لیدر انڈسٹری میں جدید ٹیکنالوجی پر بہت کام کیا ہے۔
کن شعبوں میں پاکستان مضبوط ہے؟
ماہرین کے مطابق پاکستان کے پاس اب بھی کچھ ایسے شعبے ہیں جہاں بھارت کا اثر کم ہے جیسے باسمتی چاول: پاکستان کا باسمتی چاول اپنے ذائقے اور خوشبو کی وجہ سے یورپ میں الگ پہچان رکھتا ہے۔ اسی طرح سیالکوٹ کے سرجیکل آلات کا معیار اور قیمت فی الحال بھارت کے لیے چیلنج کرنا مشکل ہے جبکہ فٹ بال اور کھیلوں کے سامان میں بھی پاکستان کی برتری ہے۔ سیالکوٹ میں دنیا کا بہترین فٹ بال بنتا ہے۔ اس شعبے میں بھارت مقابلہ نہیں کر سکتا۔
جی ایس پی پلس ایک یک طرفہ اور رسکی معاہدہ ہے!
جی ایس پی پلس کا فری ٹریڈ ایگریمنٹ سے کوئی موازنہ نہیں۔ بھارت اور یورپی یونین کے مابین دوطرفہ فری ٹریڈ معاہدہ ہوا ہے جس کا کچھ فائدہ یورپی یونین کی ایکسپورٹس کو بھی پہنچے گا، خاص کر ان کی گاڑیاں اور بعض دیگر شعبوں میں سامان اب بغیر کسی ٹیکس کے انڈین منڈی میں پہنچے گا۔ اس لئے یہ ڈیل یورپی یونین کے لیے بھی اہم ہے جبکہ پاکستان کو حاصل شدہ جی ایس پی پلس ایک یکطرفہ معاہدہ ہے جو کسی بھی وقت منسوخ ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس کی مدت 2023ء میں ختم ہو رہی تھی، لیکن یورپی کمیشن نے اسے 2027ء تک بڑھا دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگلے دو سال تک ہمارے پاس یہ رعایت موجود ہے۔ تاہم یہ رعایت مفت نہیں ملتی۔ پاکستان کو 27بین الاقوامی کنونشنز (انسانی حقوق، لیبر حقوق، ماحولیات اور گڈ گورننس) پر عمل درآمد کی رپورٹ دینی ہوتی ہے۔ اگر پاکستان ان ستائیس کنونشنز پر عمل درآمد میں سست روی دکھاتا ہے، تو یورپی یونین کے پاس اب بھارت کی صورت میں ایک ایسا تجارتی پارٹنر موجود ہے جو ان کی منڈی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔
اگلا اہم مرحلہ
اب دیکھنا یہ ہے کہ فروری 2026ء میں جب یورپی یونین کی مانیٹرنگ ٹیم پاکستان آئے گی تو وہ جی ایس پی پلس کی شرائط پر کتنی سختی دکھاتی ہے۔ اگر سیاسی حالات یا انسانی حقوق کی بنیاد پر کوئی منفی رپورٹ آئی تو یہ نو ارب ڈالر کی ایکسپورٹ شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے پاس متبادل آپشنز کیا ہیں؟
یورپ میں بھارت کے بڑھتے ہوئے قدموں کے بعد اب پاکستان کے لیے امریکا اور چین کی منڈیوں کی اہمیت دوگنی ہو گئی ہے۔ امریکا میں پاکستانی ٹیکسٹائل (خاص طور پر ڈینم اور تولیے) کی بہت مانگ ہے۔ اگر پاکستان وہاں اپنی مارکیٹ کو مزید 2سے 3ارب ڈالر تک بڑھا لے تو یورپی یونین کے ممکنہ نقصان کا ازالہ ہو سکتا ہے۔ پاکستانی خلیجی ممالک میں نئی منڈیاں ڈھونڈنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر غور و فکر جاری ہے تاکہ پاکستان کی خوراک اور لائیوسٹاک کی برآمدات بڑھ سکیں۔
پاکستانی ایکسپورٹر چین میں پوٹینشل دیکھ رہے
چین کی مارکیٹ بہت زیادہ مسابقتی ہے اور وہاں کوالٹی کے معیار بہت سخت ہیں، تاہم چین اب اپنی معیشت کو مینوفیکچرنگ سے سروسز کی طرف منتقل کر رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ اب کپڑے اور سستی مصنوعات خود بنانے کے بجائے باہر سے منگوائے گا۔ پاکستان کے پاس چاول، سمندری خوراک (Seafood) اور تانبے (Copper) کی برآمدات بڑھانے کا بڑا موقع ہے۔ چین اب پاکستانی ٹوٹا چاول (Broken Rice) اور باسمتی کا بڑا خریدار بن چکا ہے۔ پچھلے سال پاکستان نے چین کو تقریباً 600ملین ڈالر سے زائد کا چاول برآمد کیا۔ گوشت اور بیف (Meat & Beef) حال ہی میں پاکستان نے چین کو اُبلا ہوا گوشت (Heat-treated Meat) برآمد کرنے کے اجازت نامے حاصل کیے ہیں۔ یہ ایک اربوں ڈالر کی مارکیٹ ہے جس میں پاکستان ابھی داخل ہو رہا ہے۔ مچھلی اور جھینگے (Shrimps) کی چین میں بہت زیادہ مانگ ہے۔ گوادر بندرگاہ کے فعال ہونے سے اس شعبے میں بڑی تیزی آئی ہے۔ پاکستان سے چیری اور خشک کھجوروں کی چین برآمد کے لیے بھی خصوصی کوریڈورز بنائے جا رہے ہیں۔ اگر سی پیک کا دوسرا مرحلہ کامیاب ہو جاتا ہے تو پاکستان کا چین پر انحصار صرف قرضوں تک نہیں رہے گا بلکہ ہم وہاں سے ڈالر کما سکیں گے۔ اگر یورپی یونین بھارت کی وجہ سے ہماری ٹیکسٹائل مارکیٹ کو متاثر کرتا ہے تو سی پیک کے ذریعے تیار ہونے والی غیر روایتی مصنوعات (گوشت، تانبا، آئی ٹی) اس کمی کو پورا کر سکتی ہیں۔ تاہم یورپی یونین میں پاکستانی ایکسپورٹ پراڈکٹ کو اب انڈیا کی پراڈکٹس سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

