شادی کے لیے عمر کی حد بندی، ایک سنجیدہ رائے

یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ اسلام نے نکاح کے لیے کوئی متعین عمر مقرر نہیں کی بلکہ شریعت نے نکاح کو فطری تقاضوں اور معاشرتی مصلحتوں سے جوڑا ہے، نہ کہ اٹھارہ کی عمر سال سے۔ تاہم یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ فقہِ اسلامی نے نکاح کے باب میں محض جواز ہی نہیں بلکہ اہلیت، ذمہ داری اور مصلحت جیسے اصولوں کو بھی بنیادی حیثیت دی ہے۔ احناف کے نزدیک بلوغت سے پہلے لڑکا یا لڑکی خود نکاح کرنے کے مجاز نہیں بلکہ یہ اختیار ولی کو حاصل ہے جبکہ جمہور فقہاء کے ہاں بلوغت کے بعد بھی عورت کا نکاح ولی کی اجازت سے مشروط ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شریعت نے کم عمری کے نکاح کو ایک حساس اور نازک معاملہ سمجھا ہے جس میں محض شرعی جواز نہیں بلکہ فریقین کے مفاد اور نقصان کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کم عمری میں نکاح کے جواز سے ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ کہیں بچیوں کو گھریلو خدمت کے نام پر، کہیں دو خاندانوں کی صلح کی خاطر اور کہیں خالص ذاتی مفاد کی بنیاد پر ایسے فیصلے مسلط کر دیے جاتے ہیں جن کے نتائج بعد ازاں نفسیاتی، جسمانی اور معاشرتی تباہی کی صورت میں سامنے آتے ہیں اور سب سے زیادہ بوجھ عورت کے حصے میں آتا ہے۔ یہ بالکل ٹھیک ہے کہ شرعاً بلوغت کے بعد اور اٹھارہ سال سے پہلے نکاح فی نفسہ جائز ہے مگر کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے یہ سوچا ہے کہ اس کے نتیجے میں ان لڑکے لڑکیوں کے تعلیم، صحت، رضامندی، ذہنی بلوغت اور فیصلہ سازی جیسے بنیادی حقوق کس حد تک سلب ہو جاتے ہیں؟ المیہ یہ ہے کہ ہم جواز پر تو بحث کرتے ہیں مگر نتائج پر انصاف کی نگاہ ڈالنے سے گریز کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر ریاست عوامی مفاد کے پیش نظر نکاح کے لیے کم از کم عمر مقرر کرتی ہے تو اسے اسلام مخالف اقدام قرار دینا کسی طرح بھی قرین انصاف معلوم نہیں ہوتا۔ فقہ اسلامی کا ایک متفقہ اصول ہے:
تصرف الامام علیٰ الرعیة منوط بالمصلحة
(حاکمِ وقت کے اقدامات کا دارومدار رعایا کی مصلحتوں سے جڑا ہوتا ہے۔ الاشباہ والنظائر) یہ اُصول اس بات کی صریح اجازت دیتا ہے کہ ریاست مباح امور کو عوامی مفاد کے پیش نظر منظم یا محدود کر سکتی ہے۔

شادی عام حالات میں ایک سنت ہی ہے فرض یا واجب نہیں۔ اسی لیے فقہاء نے واضح لکھا ہے کہ اگر کوئی مرد یا عورت کسی مجبوری، مصلحت یا ذاتی وجہ سے عمر بھر شادی نہ کرے تو وہ شرعاً گناہگار نہیں ہوتا۔ تاریخ اسلام میں ایسی باوقار شخصیات کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ لہٰذا شادی کی عمر مقرر کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی حلال کو حرام کر دیا گیا ہے بلکہ یہ ایک مباح عمل کو اجتماعی مصلحت کی خاطر محدود کرنا ہے جس کی شریعت میں کئی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً:اسلام میں شکار جائز ہے لیکن بہت سے مسلم ممالک میں جنگلی اور آبی حیات کے تحفظ کے لیے اس پر وقتی یا دائمی پابندیاں عائد ہیں جنہیں علماء نے درست قرار دیا ہے۔ اگر یہ پابندیاں اسلام سے متصادم نہیں تو کم عمری کی شادی پر انتظامی حد بندی کیوں ناقابلِ قبول سمجھی جائے؟اسی اصول کی بنیاد پر اسلامی فقہ اکیڈمی (المجمع الفقہ الاسلامی) جو عالمِ اسلام کا معتبر ترین فقہی ادارہ ہے) نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا ہے:
یجوز لاولی الامر اَن یحدد سناً ادنی للزواج اذا اقتضت المصلحة العامة ذلک، ویجوز اشتراط اذن القاضی فی زواج القاصرات
(اولی الامر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عوامی مصلحت کے پیش نظر شادی کے لیے کم از کم عمر مقرر کرے اور کم عمر بچیوں کے نکاح کو قاضی کی اجازت سے مشروط کرے) دیکھیے قرارات المجمع الفقہ الاسلامی۔ اسی طرح شیخ عبداللہ بن بیہ، شیخ وہبہ زحیلی اور شیخ یوسف القرضاوی جیسے جلیل القدر معاصر علماء بھی اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ مقاصدِ شریعت (حفظِ نفس، حفظِ نسل، حفظِ عقل) کے تحت ریاست مباح امور کو منظم کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اٹھارہ سال سے پہلے شادی کی ممانعت یا تحدید کا قانون متعدد اسلامی ممالک میں پہلے سے نافذ ہے اور وہاں کے علماء نے اسے نہ صرف قبول کیا بلکہ عوامی فلاح کے لیے ضروری قرار دیا۔ کہیں پڑھا تھا کہ عثمانی دور حکومت میں اس کی حد پندرہ سال مقرر کی گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیٹی کے لیے کم عمری کی شادی پسند کرتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر یہی چیز ہم پورے معاشرے کے لیے کیوں پسند کرتے ہیں، خصوصاً ایسے والدین کے لیے جو شعوری، معاشی یا سماجی دباؤ کے تحت اپنی اولاد کے بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے؟ ذرا اپنے اردگرد، اپنے خاندان اور اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو بنتِ حوا کی مظلومیت کے درجنوں نہیں سینکڑوں واقعات سامنے آ جائیں گے جو اکثر ‘شرعی جواز’ کے پردے میں انجام پاتے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ زیرِ بحث بل کو محض اسلام مخالف کہہ کر رد کرنے کے بجائے، اگر واقعی اس کے پس پردہ کوئی غیراسلامی یا مغربی ایجنڈا کارفرما ہے تو اسے علمی دلائل کے ساتھ بے نقاب کیا جائے۔ ورنہ ایک ایسے قانون کی مخالفت جس میں نہ کسی حلال کو حرام کیا گیا ہے اور نہ حرام کو حلال بلکہ صرف عوامی مفاد کا تحفظ مقصود ہے، دین کے مزاج سے ناواقفیت کے اظہار کے سوا کچھ نہیں۔ (نوٹ۔ اِس موضوع پر دیگر اہلِ علم کی تحریروں کا بھی خیرمقدم کیا جائے گا۔ ادارہ)