چوتھی و آخری قسط:
(١) حجة الاسلام امام غزالی فرماتے ہیں کہ:
”پس ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حق میں نیک گمان رکھنا چاہیے اور ان کے بارے میں برا گمان نہیں کرنا چاہیے۔ اور جو واقعات اس قسم کے تاریخوں میں نقل کیے گئے ہیں جن سے اس حسنِ ظن پر زد پڑتی ہے تو اس کا بیشتر حصہ تعصب اور عناد کی وجہ سے ان مخالفوں نے خودبخود گھڑا ہے، جس کی کوئی اصل نہیں اور اگر کوئی واقعہ نقل کے لحاظ سے ثابت ہو جائے تو بھی اس کی تاویل کی جائے گی، اور ایسی کوئی خبر نہیں جس میں خطاء اور سہو کا احتمال نہ ہو اور صحابہ کرام کے افعال کو نیک عمل اور قصدِ خیر پر محمول کرنا چاہیے، اگرچہ کسی ایک آدھ معاملہ میں وہ صواب پر نہ ہوں۔ اور حضرت عائشہ اور حضرت معاویہ سے حضرت علی کی جو جنگ مشہور ہے، اس میں حضرت عائشہ کے بارے میں تو یہ اعتقاد رکھنا چاہیے کہ وہ قاتلینِ عثمان کے بپا کیے ہوئے فتنہ کو بجھانا چاہتی تھیں لیکن معاملہ ان کے ضبط اور کنٹرول سے نکل گیا، اور حضرت معاویہ کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا چاہیے کہ وہ تاویل اور اجتہاد کی بنا پر حضرت علی سے اختلاف رکھتے تھے۔ اور اس کے سوا جو حکایتیں بیان کی جاتی ہیں، ان میں صحیح اور باطل آپس میں خلط ملط ہو چکے ہیں۔ اور وہ روایات آپس میں بھی مختلف ہیں جن کا اکثر و بیشتر حصہ روافض، خوارج اور ان کے اربابِ فضول کی اختراع ہے جو ہر وقت من گھڑت اور جھوٹے قصے پھیلانے میں مصروف رہتے ہیں۔ پس مناسب بات یہ ہے کہ جب تک کوئی روایت اصولِ روایت و درایت کی روشنی میں صحیح ثابت نہ ہو جائے اس کی صحت کا صاف انکار کر دیا جائے اور جو روایت اصول کی کسوٹی پر صحیح ثابت ہو جائے لیکن وہ بظاہر حسنِ ظن کے خلاف ہو تو اس کی تاویل و توجیہ کی جائے۔ اور اے مخاطب! اگر تو کسی روایت کی تاویل و توجیہ کرنے سے عاجز رہے اور تجھ کو کوئی راستہ تاویل و توجیہ کا نظر نہ آئے تو یہ کہہ دے کہ ہو سکتا ہے اس کی کوئی تاویل ہو جو میری سمجھ میں نہیں آ سکی۔” (الاقتصاد فی الاعتقاد للغزالی)
آپ نے دیکھا کہ امام غزالی کا تقویٰ اور احتیاط کہ اپنی سمجھ کا قصور مان لو مگر صحابہ کرام پر بدگمانی نہ ہو، کیونکہ انہوں نے جو کچھ کیا اللہ کے لیے کیا اور حق سمجھ کر کیا۔
(٢) امام ابن حجر المکی ارشاد فرماتے ہیں کہ
”کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مشاجراتِ صحابہ کے سلسلہ میں روایات پیش کر کے صحابہ کرام میں سے کسی بزرگ پر تنقید و اعتراض کا دروازہ کھول دے اور عوام کو صحابہ کرام سے بدظن کرنے کا باعث بنے اور اس قسم کی حرکتیں وہ بدعتی اور جاہل قسم کے لوگ ہی کیا کرتے ہیں جو ہر وہ بات نقل کر ڈالتے ہیں جو تاریخ کے کسی حصہ سے ان کو دستیاب ہو جائے اور روایت کی سند وغیرہ پرکھے بغیر ہی اسے پیش کر دیتے ہیں۔” (تطہیر الجنان للمکی)
ایک دوسرے مقام پر امام ابن حجر فرماتے ہیں کہ:
”واجب اور ضروری امور میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ جب کوئی شخص ”مشاجراتِ صحابہ” کے بارے میں کوئی روایت سنے تو اسے قبول کرنے سے رک جائے اور محض کسی مؤرخ کی کتاب میں اس روایت کے موجود ہونے یا کسی شخص سے وہ روایت سن لینے ہی کی بنا پر اس روایت میں بیان کردہ قصہ کو صحابہ کرام میں سے کسی کی طرف منسوب نہ کر دے بلکہ یہ ضروری ہے کہ وہ اس روایت کی چھان بین کرے، اس کی اسناد پرکھے اور جب تک وہ روایت پوری طرح صحیح ثابت نہ ہو جائے اسے تسلیم نہ کرے اور جب وہ روایت صحیح ثابت ہو جائے تو اس میں تاویل کرے اور اس کی توجیہ بیان کرنے کی پوری کوشش کرے۔” (الصواعق المحرقہ)
(٣) حضرت ملا علی القاری فرماتے ہیں کہ
”علامہ ابن دقیق العید نے اپنے عقائد میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے، جو روایات مشاجراتِ صحابہ کے بارے میں نقل کی گئی ہیں، ان میں باطل اور جھوٹی روایات بھی ہیں، ان کی طرف التفات نہیں جائے گا اور جو روایت صحیح ثابت ہو جائے اس کی ہم کوئی مناسب تاویل کریں گے۔” (شرح فقہ اکبر)
ان ارشادات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ مؤرخین کی کتابوں میں جو روایات بیان کی گئی ہیں ان میں غلط اور صحیح دونوں قسم کی روایات موجود ہیں۔ غلط روایات رافضیوں، خارجیوں اور دوسرے گمراہ لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑ کے تاریخ میں گھسیڑی ہیں۔ غلط اور صحیح روایات میں تمیز کرنے کے لیے روایت کی سند کو پرکھ کر اصول و ضوابط کی روشنی میں اس کے راویوں پر باقاعدہ جرح و تنقید کی جائے گی۔جو شخص تاریخی روایت کو محض کسی کتاب میں موجود ہونے کی بنا پر قبول کر لیتا ہے اور اس کی سند کو پرکھنے اور راویوں پر جرح و تنقید کو ضروری خیال نہیں کرتا وہ جاہل اور بدعتی ہے۔
بحمد اللہ تعالیٰ ہم نے مشاجراتِ صحابہ کے سلسلہ میں تینوں بنیادی امور (١) مابہ النزاع (٢) فریقین کی اصولی حیثیت اور (٣) تاریخی روایات کی اصل حقیقت پر ائمہ اہل السنہ والجماعہ کے واضح اور روشن ارشادات پیش کر دیے ہیں جن سے واضح ہو جاتا ہے اور دو بزرگوں کے ارشادات پر اس مضمون کا اختتام کرتے ہیں:
(١) امام غزالی فرماتے ہیں کہ:”واعظوں اور ان جیسے دوسرے لوگوں پر حضرت حسین کی شہادت اور مشاجراتِ صحابہ کے بارے میں ایسی روایات کا بیان کرنا حرام ہے جن سے صحابہ پر اعتراض و تنقید کا دروازہ کھلتا ہو اور عوام میں ان کے بارے میں برے خیالات پیدا ہونے کا احتمال ہو۔” (بحوالہ الصواعق المحرقہ)
(٢) علامہ ابن عابدین شامی فرماتے ہیں کہ: ”ہم پر یہ واجب ہے کہ ہم صحابہ کرام کا احترام اور ان کی تعظیم کریں، ان پر اعتراض و تنقید کو حرام سمجھیں اور ان کے باہمی مشاجرات کے بارے میں سکوت اختیار کریں، کیونکہ یہ سارے مشاجرات اجتہاد کی بنیاد پر تھے۔ یہ اہلِ حق اہل السنہ والجماعہ کا مذہب ہے، جس شخص نے اس راستہ کو چھوڑ کر دوسرا طریقہ اختیار کیا وہ یا تو ضال اور مبتدع ہے، اور یا زیادہ غلو کرنے کی وجہ سے کافر ہے۔” (رسائل ابن عابدین)

