غزہ انتظامی کمیٹی متحرک،صہیونی فوج کی الخلیل پر یلغار،انسانی بحران سنگین

قاہرہ/غزہ:غزہ پٹی کی انتظامی کمیٹی نے قاہرہ میں اپنے کام کا آغاز کردیا جسے غزہ میں استحکام کے قیام اور تعمیر نو کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ کمیٹی کی سربراہی ڈاکٹر علی شعث کر رہے ہیں۔

اجلاس کے دوران باضابطہ طور پر کمیٹی کو شہری امور اور اندرونی سیکورٹی کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں جبکہ غزہ کے استحکام، بحالی اور تعمیر نو کی نگرانی بھی اسی کے سپرد کی گئی ہے۔ یہ انتظام اس وقت تک جاری رہے گا جب تک فلسطینی اتھارٹی اپنے اصلاحاتی پروگرام کی تکمیل نہیں کرلیتی۔

افتتاحی اجلاس میں ڈاکٹر علی شعث نے قومی کمیٹی کے قیام کو ایک فیصلہ کن لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک الم ناک دور کے خاتمے اور ایک نئے باب کے آغاز کی علامت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ایک فلسطینی ادارہ ہے جو فلسطینیوں نے فلسطینیوں کے لیے قائم کیا ہے اور اسے فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن، فلسطینی اتھارٹی اور مختلف فلسطینی دھڑوں کی حمایت حاصل ہے۔

ڈاکٹر شعث نے زور دے کر کہا کہ غزہ کی تعمیر نو صرف بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد ایک ایسے معاشرے کی تشکیل نو ہے جو استحکام، وقار اور منصفانہ پائیدار امن سے وابستہ ہو۔یہ کمیٹی فلسطینی ماہرین اور پیشہ ور افراد پر مشتمل ہے جو عبوری انتظامیہ کی قیادت کریں گے۔

ارکان میں عبد الکریم عاشور بطور زرعی امور کے کمشنر، عمر شمالی مواصلات اور ڈیجیٹل خدمات کے کمشنر، عائد ابو رمضان معیشت، صنعت اور تجارت کے کمشنر، ڈاکٹر جبر الداعور تعلیم کے کمشنر، ڈاکٹر بشیر الریس مالیات کے کمشنر، ڈاکٹر عائد یاغی صحت کے کمشنرہونگے۔
سامی نسمان داخلہ اور اندرونی سیکورٹی کے کمشنر، عدنان ابو وردہ انصاف کے کمشنر، اسامہ السعداوی اراضی اور رہائش کے کمشنر، ہنا ترزی سماجی تحفظ کی کمشنر اور ڈاکٹر علی برہوم پانی، سہولیات اور مقامی اداروں کے کمشنر شامل ہیں۔

اپنے پہلے باضابطہ اقدام کے طور پر ڈاکٹر علی شعث نے قومی کمیٹی کے مشن کے اعلامیے کی منظوری دی جس میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کی روشنی میں کمیٹی غزہ کے عبوری مرحلے کو مستقل فلسطینی خوشحالی کی بنیاد بنانے کے لیے کام کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی سربراہی میں قائم امن کونسل کی ہدایات اور غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے کی معاونت سے کمیٹی کا ہدف صرف انفرااسٹرکچر کی بحالی نہیں بلکہ غزہ کی اجتماعی روح کی تعمیر نو بھی ہے۔ڈاکٹر شعث کے مطابق کمیٹی امن کے قیام، بجلی، پانی، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی خدمات کی بحالی اور جمہوریت، انصاف اور امن پر مبنی معاشرے کی تشکیل کے لیے پرعزم ہے۔

ادھرغزہ کی پٹی میں سرکاری میڈیا آفس نے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی قومی کمیٹی کو علاقے کے انتظامی اختیارات منتقل کرنے کے لیے مکمل تیاری ہے اور اختیارات حوالے کرنے کا عمل کو شروع کرنے کی ہر ممکنہ تیاری کرلی گئی ہے، تاکہ ادارتی کام میں شفاف اور منظم انتقال ممکن ہو اور شہریوں کو خدمات بلا تعطل فراہم کی جا سکیں۔

آفس نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا کہ قومی کمیٹی کا خیرمقدم سیاسی اور انتظامی حالات میں جاری ترقیوں کے تناظر میں کیا جا رہا ہے اور سیز فائر کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے اعلان کے ساتھ یہ اقدام عمل میں آ رہا ہے۔

دوسری جانب غزہ کی پٹی کے باشندوں کی مشکلات 100 روز تک جاری رہنے والے سیز فائر کے بعد بھی بڑھتی جا رہی ہیں، جہاں حالات کو انسانی طور پر انتہائی سخت قرار دیا گیا ہے اور فوری مداخلت کی اشد ضرورت ہے اور اس ضرورت کی بین الاقوامی ”ریڈ کراس” نے بھی تصدیق کی ہے۔

اس دوران فرانس نے علاقے میں نئی غذائی امداد کی ترسیل کا اعلان کیا ہے۔کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ غزہ کے باشندے انتہائی مشکل انسانی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تشدد کو ختم کیا جائے اور انسانی امداد کو فوری اور پائیدار انداز میں پہنچانے کو یقینی بنایا جائے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سخت موسمی حالات مقامی لوگوں کی مشکلات کو مزید پیچیدہ اور ان کی روزانہ کی بقا کی جدوجہد کو شدید کر رہے ہیں۔ااسی تناظر میں فرانسیسی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ لوہاور بندرگاہ سے ایک کنٹینر شپ روانہ ہوئی ہے جس میں تقریباً 383 ٹن غذائی امداد ہے جو غزہ کی جانب جا رہی ہے۔

وزارت صحت کے بیان کے مطابق یہ امداد غزہ کے 42 ہزار سے زائد بچوں کے لیے ہے جن کی عمریں چھ ماہ سے دو سال کے درمیان ہیں اور وہ غذائی کمی کا شکار ہیں۔

علاوہ ازیںقابض اسرائیلی انتظامیہ نے مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں حرم ابراہیمی شریف کے ڈائریکٹر معتز ابو سنینہ اور ایک اور اہلکار کو حرم سے 15 دن کے لیے بے دخل کرنے کے نوٹسز جاری کیے ہیں۔ یہ اقدام قابض اسرائیل کی مسلسل پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد حرم اور وہاں کام کرنے والے اہلکاروں کی رسائی محدود کرنا ہے۔

صہیونی حکام کی مذہبی غنڈہ گردی کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی مسلمان اسر ا و معراج کی عبادات میں مصروف ہیں۔گذشتہ سال سے قابض اسرائیل نے حرم ابراہیمی کے مشرقی دروازے سے مسلمانوں کی واپسی روک رکھی ہے جو گذشتہ برسوں میں ہونے والی سازش کا حصہ ہے۔

حرم ابراہیمی کے ڈائریکٹر معتز ابو سنینہ نے العربی الجدید سے گفتگو میں کہا کہ وقف کی انتظامیہ کو گزشتہ جمعہ شام حرم مکمل طور پر سنبھالنا تھا تاکہ اسرا اور معراج کی مناسبت سے مذہبی مراسم منعقد کیے جا سکیں لیکن قابض اسرائیل نے حرم کے مشرقی حصے کی واپسی سے انکار کر دیا جس پر وقف کی انتظامیہ نے اسے نامکمل طور پر قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

ابو سنینہ نے بتایا کہ اس انکار کے بعد وقف کے اہلکاروں اور اسرائیلی اہلکاروں کے درمیان سخت زبانی جھڑپیں ہوئیں جس کے دوران انہیں تقریباً ایک گھنٹہ حراست میں رکھا گیا اور قابض فوج نے ان کے شناختی کارڈ ضبط کر کے تصاویر کھینچیں، بعد میں انہیں آزاد کیا گیا۔

قابض اسرائیل نے پیر کے روز بھی غزہ پٹی میں سیز فائر معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رکھیں، جہاں مسلسل سویں روز فضائی اور توپ خانے کی بمباری اور فائرنگ کے نتیجے میں دو فلسطینی بچے شہید ہو گئے۔

ان جارحانہ کارروائیوں نے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا جس سے شہری آبادی میں شدید خوف اور بے چینی پھیل گئی۔ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی کہ رفح کے علاقے العلم میں قابض اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے 15 سالہ فلسطینی بچہ شہید ہو گیا۔

طبی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ خان یونس کے مشرق میں واقع التحلیہ کے قریب قابض اسرائیلی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بننے والا 17 سالہ نوجوان حسین ابو سبلہ بھی شہید ہو گیا۔اسی دوران قابض اسرائیلی طیاروں نے خان یونس کے مشرق میں واقع بنی سہیلہ شہر میں شارع صلاح الدین پر واقع محلہ الرقب الغربی پر انخلاء کے پمفلٹس گرائے جس سے شہریوں میں مزید خوف و ہراس پھیل گیا۔

ادھر مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیلی فورسز نے جنوبی غزہ پٹی میں خان یونس شہر کے مشرقی علاقوں میں رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے مسمار کیا جبکہ اسی علاقے میں موجود فوجی گاڑیوں کی جانب سے شدید فائرنگ بھی کی گئی۔

اس کے ساتھ ساتھ قابض اسرائیلی جنگی طیاروں نے خان یونس کے مشرقی علاقوں پر دو فضائی حملے کیے جو 10 اکتوبر سے سیز فائر معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد سے روزانہ کی بنیاد پر جاری حملوں کے سلسلے میں ایک نیا خطرناک اضافہ ہے۔

غزہ پٹی کے وسطی علاقے میں ایک قابض اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے البریج پناہ گزین کیمپ کے شمال مشرقی علاقوں پر فائرنگ کی جس کے باعث وہاں رہنے والے خاندانوں میں شدید خوف پھیل گیا۔

ادھرفلسطینی اسیران میڈیا کے دفتر نے بتایا ہے کہ اس وقت قابض اسرائیلی زندانوں میں قید فلسطینی صحافیوں کی تعداد 40 تک جا پہنچی ہے۔اسیران میڈیا سینٹر نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ دو صحافی تاحال جبری گمشدگی کا شکار ہیں اور ان کے انجام کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں، یہ دونوں صحافی نضال الوحیدی اور عبد الواحد ہیں جن کا تعلق غزہ پٹی سے ہے۔

دوسری جانب قابض اسرائیل کی فوج اور اندرونی سکیورٹی ادارے شاباک نے ایک مشترکہ بیان میں جنوب مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں ایک وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے دوران کرفیو نافذ کیا گیا سڑکیں بند کر دی گئیں اور گھروں پر بڑے پیمانے پر چھاپے مارے گئے۔

بیان میں بتایا گیا کہ گذشتہ شب سے قابض اسرائیلی فورسز نے جبل جوہر کے محلے پر یلغار کر رکھی ہے جہاں ان کے بقول نام نہاد بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسلحہ ضبط کیا جا رہا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ کارروائی آئندہ دنوں تک جاری رہے گی اور شہر کے اندر فوجی گاڑیوں کی بھرپور نقل و حرکت جاری رہے گی۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ یلغار کے ساتھ ہی قابض اسرائیلی فورسز نے میدانی سطح پر گرفتاریوں کی مہم شروع کر دی، متعدد اندرونی سڑکیں بند کر دی گئیں اور فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں جن میں بعض محلوں میں کرفیو بھی شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق قابض اسرائیل نے الخلیل کے جنوبی علاقے میں مکمل کرفیو نافذ کر دیا اور سڑکوں کو مٹی کے بند لگا کر بند کرنا شروع کر دیا۔قابض اسرائیلی چینل 12 نے فوجی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ جاری کارروائی کے تحت فوج نے الخلیل شہر میں سینکڑوں فوجیوں اور خصوصی یونٹس کو تعینات کیا ہے۔

چینل کے مطابق اس کارروائی کا مقصد بڑی مقدار میں اسلحہ ضبط کرنا بتایا جا رہا ہے۔قابض اسرائیل کے آبادکاروں نے پیر کے روز شمال مشرقی رام اللہ کے فلسطینی دیہات میں رہنے والے شہریوں کے خلاف اپنی جارحانہ کارروائیوں میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔

یہ حملے ایک مسلسل پالیسی کا حصہ ہیں جن کا مقصد مقامی آبادی کو تنگ کرنا اور قابض اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ان کی زمینوں پر قبضہ جمانا ہے۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ آبادکاروں نے رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع المغیر گاؤں میں شہریوں کے گھروں کے قریب اپنی مویشی چھوڑ دیے جس کے نتیجے میں زرعی زمینوں اور گھروں کے اردگرد کے علاقوں کو شدید نقصان پہنچا۔

ذرائع کے مطابق یہ حملے زمین پر ایک نیا مسلط شدہ واقعہ قائم کرنے کی منظم کوششوں کا حصہ ہیں جہاں املاک کو نقصان پہنچا کر اور مسلسل دباؤ ڈال کر اہل علاقہ کو اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے تاکہ گاؤں کے گرد قائم استعماری چوکیوں کو وسعت دی جا سکے۔

اسی تناظر میں آبادکاروں نے رام اللہ کے شمال میں واقع عطارہ گاؤں کی زمینوں پر قائم ایک استعماری چوکی میں کرفان لا کر رکھ دیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد اس چوکی کو مضبوط بنانا اور اس کا دائرہ پھیلانا ہے جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ مرحلے میں اسے ایک مستقل استعماری بستی میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

نشانہ بننے والے دیہات کے رہائشیوں نے بتایا کہ اس قسم کے حملے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر دہرائے جا رہے ہیں اور ان کے خلاف کوئی مؤثر روک تھام موجود نہیں۔

حماس نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی فاشسٹ جیلوں میں قید فلسطینی اسیران کو غیر انسانی حالات منظم تشدد اور مسلسل اذیت ناک سلوک کا سامنا ہے اور دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر حرکت میں آئے تاکہ اسیران کی حمایت کی جا سکے اور ان کی تکالیف کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

حماس نے پیر کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ عبرانی میڈیا کی جانب سے دنیا کو دکھائے جانے والے وہ مناظر جن میں صہیونی مجرم دشمن کی جیلوں میں اسیران پر ڈھائی جانے والی سفاکیت نمایاں ہے پورے انسانی ضمیر کے لیے کھلا چیلنج ہیں اور یہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدات کی صریح توہین کی بدترین مثال ہے۔

حماس نے زور دے کر کہا کہ آج اسیران محض خلاف ورزیوں کا سامنا نہیں کر رہے بلکہ جیلوں کے اندر ایک مکمل انسانی جرم ان کے خلاف انجام دیا جا رہا ہے۔

بیان میں ہمارے بہادر اسیران کے خلاف جاری غیر انسانی حالات اور وحشیانہ سلوک پر عالمی خاموشی کی شدید مذمت کی گئی بالخصوص ایسے وقت میں جب قابض اسرائیل کے حکام ان کے اہلکار اور ان کے صحافی ان جرائم پر فخر کا اظہار کرتے ہیں جو انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔