تیسری قسط:
(٢) امام عبد الوہاب شعرانی فرماتے ہیں کہ: ”صحابہ کرام سب کے سب باتفاق اہل السنہ والجماعہ عادل ہیں۔ جنگِ جمل و صفین واقعہ سے قبل بھی وہ عادل تھے اور بعد میں بھی عادل ہی رہے۔ یہ اعتقاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ ان کے آپس کے جھگڑے اجتہاد کے سبب سے تھے کیونکہ مختلف فیہ امور اجتہادی مسائل تھے اور دونوں فریقوں نے اپنے اپنے اجتہاد پر عمل کیا۔ اب ”کل مجتہد مصیب” (ہر مجتہد حق پر ہوتا ہے) کا قاعدہ مدنظر رکھ کر سب کو حق پر قرار دیا جائے۔ یا ”المصیب واحد والمخطی معذور بل ماجور” (درست فیصلہ ایک کا ہوتا ہے اور دوسرا معذور بلکہ ماجور ہوتا ہے) کے قاعدہ کے پیش نظر ایک فریق کو حق پر اور دوسرے کو خطا پر سمجھا جائے۔ اس سے عدالتِ صحابہ پر کوئی زد نہیں پڑتی۔” (الیواقیت والجواہر )
(٣) حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی کا ارشاد ہے کہ: ”شیخ ابو شکور سالمیہ نے اپنی کتاب ”تمہید” میں تصریح کی ہے کہ حضرت معاویہ اور صحابہ کرام میں سے ان کے وہ رفقاء جو جنگ میں ان کے ساتھ تھے، اگرچہ خطا پر تھے، لیکن ان کی یہ خطا اجتہادی تھی اور ابن حجر نے الصواعق المحرقہ میں لکھا ہے کہ حضرت علی سے حضرت معاویہ کا نزاع اجتہاد پر مبنی تھا۔ اور اس کو انہوں نے اہل السنہ والجماعہ کے عقائد میں شمار کیا ہے۔” (مکتوبات دفتر اول)
ایک اور مقام پر حضرت مجدد صاحب فرماتے ہیں کہ: ”جمہور اہل السنہ والجماعہ کا دلائل کی روشنی میں یہ عقیدہ ہے کہ مشاجراتِ صحابہ میں حق حضرت علی کے ساتھ تھا اور ان کے مخالفین نے خطاء کا راستہ اپنایا تھا لیکن چونکہ یہ خطا اجتہادی ہے اس لیے ملامت اور اعتراض سے مبرا اور بالاتر ہے اور اہل سنہ والجماعہ محاربینِ علی کے حق میں صرف خطاء کے لفظ کا اطلاق کرتے ہیں، کیونکہ اس میں تاویل کی گنجائش ہے، اس کے بغیر ان پر کسی لفظ کا اطلاق روا نہیں رکھتے۔” (مکتوبات حصہ ششم دفتر دوم)
(٤) امام شرف الدین نووی شارح مسلم شریف فرماتے ہیں کہ ”اور جو محاربات صحابہ کرام کے دور میں رونما ہوئے ان میں ہر گروہ کے لیے ایسے شبہات موجود تھے جن کی بنا پر وہ گروہ اپنے آپ کو حق پر کہتا تھا اور سارے کے سارے عادل اور محاربات کے سلسلہ میں اپنے اپنے طرز عمل کے مؤدل تھے اور ان محاربات میں سے کوئی چیز بھی ان صحابہ کرام کی عدالت پر اثر انداز نہیں ہوتی، کیونکہ وہ سارے مجتہد تھے جنہوں نے اجتہادی مسائل میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا تھا۔” (شرح مسلم)
ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات سے حسبِ ذیل امور واضح ہوتے ہیں کہ اہل السنہ والجماعہ کے عقیدہ کے مطابق حضرت عثمان کے قاتلوں کو ان کے ورثاء کے سپرد کرنے میں تاخیر یا تعجیل کا مسئلہ ایک اجتہادی معاملہ تھا۔ اس اجتہادی مسئلہ میں حضرت علی نے اپنے اجتہاد کے مطابق ”تاخیر تسلیم” کو اصوب سمجھا اور حضرت معاویہ نے اپنے اجتہاد کی روشنی میں ”تعجیل تسلیم” کو مناسب خیال فرمایا۔ دونوں بزرگوں کے پاس اپنے اپنے اجتہاد کو صحیح سمجھنے کے لیے شبہات کی کوئی نہ کوئی بنیاد ضرور موجود تھی، جس کی بنا پر ہر گروہ اپنے آپ کو حق پر کہتا تھا۔
اس اجتہادی اختلاف میں حضرت علی کا اجتہاد اپنے نتیجہ کے لحاظ سے صواب اور حضرت معاویہ کا اجتہاد خطاء تھا۔اس اجتہادی اختلاف اور حضرت معاویہ اور ان کے ساتھیوں کی خطائے اجتہادی کے سلسلہ میں لفظ خطاء سے زیادہ اور کوئی لفظ استعمال نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی ان کو اس خطاء پر ملامت کی جا سکتی ہے اور نہ ان پر اعتراض کیا جا سکتا ہے۔ الغرض اہل السنہ والجماعہ کے عقیدہ کی رو سے جنگِ جمل کی ابتدا سے واقعہ تحکیم تک جو کچھ واقعات رونما ہوئے ان کی بنیاد اجتہاد پر تھی اور اجتہادی مسئلہ میں اگر دو مجتہد مختلف رائے قائم کریں تو اپنے اپنے اجتہاد کی رو سے تو وہ دونوں حق پر ہوتے ہیں، لیکن نفس الامر میں ایک حق پر ہوتا ہے اور دوسرا خطاء پر، لیکن یہ خطاء بھی قابلِ ملامت نہیں ہوتی بلکہ اس پر اللہ تعالیٰ اجر عطا فرماتے ہیں۔
اس لیے صحابہ کرام میں سے اجتہادی مسائل میں خطاء کر جانے والوں پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں، جیسے بعد کے چاروں امامانِ فقہ حضرت ابوحنیفہ، حضرت امام شافعی، حضرت امام احمد بن حنبل اور حضرت امام مالک میں بیسیوں مسائل میں اختلاف ہے، مگر چونکہ یہ اہلِ اجتہاد تھے، اس لیے چاروں مذاہب کو اصولاً حق پر سمجھا جاتا ہے۔ ایک کو حسنِ ظن کی وجہ سے حق پر سمجھا جا کر اس کی پیروی کی جاتی ہے، دوسرے کو اس کے اجتہادی خطاء پر ملامت نہیں کیا جاتا بلکہ مستحقِ اجر قرار دیا جاتا ہے۔
(٣) تاریخی روایات کی صحیح حیثیت
واقعاتی صورت حال یہ ہے کہ مشاجرات میں مابہ النزاع امور اجتہادی مسائل تھے، جن میں مجتہدین کا آپس میں اختلاف ہوگیا، اور اس اختلاف سے باغیوں کے گروہ نے سازشوں اور حیلوں کے ذریعہ پوری طرح فائدہ اٹھا کر صحابہ کرام کے دو مقدس گروہوں کو آپس میں ایک دوسرے سے ٹکرا دیا۔ یہ وہی سبائی گروہ تھا جس نے حضرت عثمان کو شہید کرایا اور پھر حضرت علی کے لشکر میں گھل مل گئے، اپنی سازشوں سے اسلام کو کمزور کرنے اور اہل اسلام کو باہم لڑانے کے سوا ان کا کوئی مقصد نہ تھا،البتہ ایک سوال یہ ہے کہ اس مسلک اور عقیدہ پر پختگی سے قائم رہنے کی صورت میں ان بے شمار تاریخی روایات کا کیا بنے گا جو اس عقیدہ کے بالکل الٹ ایک بالکل دوسرا ہی نقشہ پیش کرتی ہیں؟ اس کے جواب میں اب ہم ائمہ کرام کی عبارات پیش کرتے ہیں تاکہ تاریخی روایات کی صحیح حیثیت واضح ہو سکے۔ (جاری ہے)

