ایران میں ایک سینئر عہدیدار نے اتوار کو انکشاف کیا کہ ملک میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران اموات کی تعداد پانچ ہزار تک پہنچ چکی ہے، جن میں تقریباً 500 سیکورٹی اہلکار شامل ہیں۔ اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر گفتگو میں دعویٰ کیا کہ دہشت گردوں اور مسلح فسادیوں نے معصوم ایرانیوں کو قتل کیا۔ عہدیدار کے مطابق سب سے شدید جھڑپیں اور سب سے زیادہ اموات ایران کے شمال مغربی کرد علاقوں میں ہوئیں جو پہلے ہی بدامنی اور تشدد کا شکار رہا ہے جہاں علیحدگی پسند بھی سرگرم ہیں۔
انہوں نے اسرائیل اور بیرون ملک پر مسلح گروہ پر مظاہرین کی مدد اور پشت پناہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اموات کی حتمی تعداد میں اب نمایاں اضافہ متوقع نہیں۔امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے مطابق حالیہ واقعات میں اموات کی مصدقہ تعداد 3,308ہے جب کہ 4,382کیسز کا اب بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔گروپ نے 24ہزار سے زیادہ گرفتاریوں کا دعوی بھی کیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مظاہروں کے دوران ہونے والی اموات کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔اپنے ایک حالیہ بیان میں انہوں نے کہاکہ امریکی صدر نے ایرانی قوم کو نقصان پہنچایا، اموات کی ذمہ داری انہی پر ہے۔ٹرمپ نے متعدد مواقع پر ایران کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکیاں دیں مگر ایک موقع پر تہران کی جانب سے مبینہ پھانسیوں کا منصوبہ ترک کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔
دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی۔ادھرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران میں قیادت کی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایران میں نئی قیادت تلاش کی جائے۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ خامنہ ای اپنے ملک کی تباہی کے ذمہ دار ہیں،ایران کو تشدد اورجبر کے ذریعے کنٹرول کر رہے ہیں، جس کے باعث ایرانی عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ خامنہ ای کو ان کی طرح ملک چلانا چاہیے تھا تاکہ ایران ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا،موجودہ ایرانی قیادت کی پالیسیاں نہ صرف ملک بلکہ خطے کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔

