صحابہ کرام و اہلِ بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے باہمی تنازعات و مشاجرات کے حوالے سے راقم الحروف کا ایک مضمون ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے مئی 1968ء کے دو شماروں میں شائع ہوا تھا جسے تھوڑے بہت رد و بدل کے ساتھ دوبارہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔ (ابوعمار زاہد الراشدی)
مشاجراتِ صحابہ کا موضوع اس قدر نازک اور پیچیدہ ہے کہ اسے زیر بحث لاتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ ایک طرف صحابہ کرام کا وہ مقدس گروہ ہے جس کی عدالت و دیانت، صداقت و امانت، اور شجاعت و استقامت بحث و تمحیص سے بالاتر ہے اور بارگاہِ رسالتۖ سے اس قدوسی گروہ کا تعلق کچھ اس نوعیت کا ہے کہ مجموعی حیثیت سے پورے گروہ یا اس میں کسی خاص طبقہ کی، یا انفرادی طور پر کسی ایک فرد کی عدالت و دیانت اور صداقت و شجاعت کو زیر بحث اور محلِ نظر قرار دینے سے براہ راست بارگاہِ رسالت کی صفتِ تزکیہ و تطہیر اس کی زد میں (خاکم بدہن) آجاتی ہے اور دوسری طرف تاریخِ اسلام کے نام سے ہمارے سامنے اس گروہ کے باہمی مناقشات و مشاجرات کے بارے میں روایات و قصص کا جو مواد پیش کیا گیا ہے اس کی روشنی میں اس جماعت پر صداقت و دیانت اور عدالت و دیانت جیسے الفاظ کا اطلاق ایک خوبصورت فریب سے زیادہ کوئی وقعت نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ اہل السنہ والجماعت نے مشاجراتِ صحابہ کی بحث میں ایک مبنی بر صداقت اور معقول موقف متعین کر کے اس سے زیادہ اس بحث میں غور و خوض کی ممانعت کردی ہے اور اس موقف کی حدود سے تجاوز کرنے کو ‘ضلال’ سے تعبیر فرمایا ہے۔ آج جب گلشنِ تاریخ سے گلچینی کے بلند بانگ دعویداروں کے دامن ابن سبا کی ذریت کے بوئے ہوئے کانٹوں کی بدتمیزی کا شکار ہوکر تار تار ہوتے نظر آتے ہیں اور بڑے بڑے شہسواران رہوارِ قلم کی شیخی اس سنگلاخ وادی میں کرکری ہوتی دکھائی دیتی ہے تو صحیح معنوں میں ائمہ اہل السنہ والجماعہ کی طرف سے مسلک اہل السنة والجماعة کی حدود سے تجاوز کی ممانعت کا پس منظر اور اس کا فلسفہ سمجھ میں آتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اہل السنہ والجماعہ کا مسلک اس قدر معقول اور معتدل ہے کہ اس کے بعد کسی مزید غور و خوض اور بحث و تمحیص کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی اور جن لوگوں کو معتزلہ کے ہشامیہ فرقہ اور خوارج و روافض کی باہمی نظریاتی جنگ کا علم ہے کہ ایک طرف ہشامیہ فرقہ مشاجراتِ صحابہ یعنی سیدنا عثمان کے خلاف بغاوت، جنگِ جمل اور محاربہ صفین کے وقوع ہی سے انکار کر کے تمام تر تاریخی روایات کو دیابُرد کرنے کے درپے تھا (بحوالہ شرح مواقف سیدشریف، والنبراس علیٰ شرح العقائد للفرہاروی) اور دوسری طرف روافض و خوارج کے بیشتر گروہ صحابہ کرام کے بغض و عناد کی وجہ سے ہر قسم کی رطب و یابس روایات کو سینے سے لگائے بیٹھے تھے۔ وہی لوگ اہل السنہ والجماعہ کے مسلک اعتدال کی حقیقی قدر و قیمت کو جان سکتے ہیں۔ آج چونکہ مشاجرات صحابہ کا موضوع ایک بار پھر زیر بحث لایا جا رہا ہے اور تاریخ کی رطب و یابس روایات کا سہارا لے کر نئی پود کے اذہان و قلوب کو مسموم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اس لیے یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ اس موضوع پر ائمہ کرام اور محققین اہل السنہ والجماعہ کے ارشادات کو قوم کے سامنے لایا جائے تاکہ پاکستان کے سواد اعظم اہل السنہ والجماعہ کے ”توارثی عقائد و نظریات” کی جڑوں پر کلہاڑے چلانے والوں کی مذموم کوششیں بے نقاب ہوسکیں۔
مشاجرات کے باب میں بنیادی طور پر تین اُمور بحث طلب ہیں اور تینوں امور پر ائمہ نے تفصیلی روشنی ڈالی ہے: پہلے نمبر پر یہ کہ مشاجراتِ صحابہ میں مابہ النزاع کونسا سوال تھا؟ دوسرے نمبر پر یہ کہ فریقین کی اصولی حیثیت کیا تھی؟ اور تیسرے نمبر پر یہ کہ مشاجرات کے بارے میں تاریخ کی پیش کردہ روایات کی کیا حیثیت ہے؟ اب ہم شق وار تینوں اُمور پر ائمہ اہل السنہ والجماعہ کے ارشادات پیش کریں گے۔
(١) مشاجراتِ صحابہ میں مابہ النزاع کیا امر تھا؟
(١) عقائد اہل السنہ والجماعہ کے نامور امام علامہ کمال بن ہمام اور ان کی مایہ ناز تصنیف ‘المسایرہ’ کے شارح علامہ کمال بن شریف فرماتے ہیں کہ: ”حضرت معاویہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے مابین جو محاربہ واقع ہوا، وہ حضرت عثمان کے قاتلوں کو ان کے ورثاء کے سپرد کرنے کے سوال پر تھا اور اس کی بنیاد اجتہاد پر تھی۔ یہ حضرت معاویہ کی طرف سے خلافت کی جنگ نہ تھی۔ کیونکہ حضرت علی کی رائے یہ تھی کہ قاتلینِ عثمان اس وقت بہت زیادہ ہیں اور لشکرِ اسلامی میں خلط ملط ہوچکے ہیں، اس لیے اگر ان پر فوری طور پر ہاتھ ڈالا گیا اور انہیں ورثائے عثمان کے سپرد کیا گیا تو امارت و خلافت کا سوال نئے سرے سے اضطراب میں پڑ جائے گا۔ اس واسطے حضرت علی اس سپردگی میں اس وقت تک مہلت اور تاخیر چاہتے تھے جب تک انہیں نظم و نسق پر پورا کنٹرول حاصل نہیں ہو جاتا۔” (المسایرہ)
(٢) امام عبد الوہاب شعرانی ارشاد فرماتے ہیں:”حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین جو محاربہ رونما ہوا وہ خلافت کی جنگ نہ تھی جیسا کہ بعض لوگوں کو خواہ مخواہ اس کا وہم ہوا ہے۔ بلکہ یہ جنگ حضرت عثمان کے قاتلوں کو ان کی برادری کے سپرد کرنے کے سوال پر واقع ہوئی تھی۔ کیونکہ حضرت علی اس سپردگی میں تاخیر چاہتے تھے اور ان کی رائے یہ تھی کہ اگر فی الفور ان پر ہاتھ ڈالا گیا تو امارت کا مسئلہ اضطراب میں پڑ جائے گا اور اس چیز نے اس رائے کو اور زیادہ وزنی کردیا تھا کہ جنگِ جمل کے موقع پر حضرت علی نے قاتلینِ عثمان کو لشکر سے نکل جانے کا حکم دیا تھا جس پر یہ لوگ آپ کے قتل کے درپے ہو گئے تھے اور حضرت معاویہ کی رائے یہ تھی کہ قاتلوں کو ورثاء عثمان کے سپرد کرنے میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے تاکہ ورثاء جلد از جلد حضرت عثمان کا قصاص لے سکیں۔ پس حضرت علی اور حضرت معاویہ دونوں اپنے اپنے اجتہاد پر تھے اور ان کی باہمی جنگ سے یہی مراد ہے۔” (الیواقیت والجواہر)
(٣) حجة الاسلام امام غزالی المتوفی ٥٠٥ھ کا ارشاد ہے: ”اور اہل السنہ والجماعہ کا عقیدہ یہ ہے کہ سب صحابہ کو پاک سمجھا جائے اور ان کی اسی طرح تعریف و ثناء کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے اور حضرت معاویہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے درمیان جو جنگ ہوئی وہ خلافت کی جنگ نہ تھی بلکہ ان بزرگوں کی اجتہادی آراء میں اختلاف پر مبنی تھی۔ کیونکہ حضرت علی کا اجتہاد اور ان کی رائے یہ تھی کہ قاتلینِ عثمان کو اگر فی الفور ورثاء عثمان کے سپرد کیا گیا تو امارت کا معاملہ مضطرب ہو جائے گا۔ کیونکہ قاتلین کا گروہ تعداد میں زیادہ ہونے کے علاوہ لشکر میں خلط ملط ہو چکا تھا۔ اس لیے حضرت علی اس سپردگی میں تاخیر کو بہتر سمجھتے تھے۔ لیکن حضرت معاویہ کی رائے یہ تھی کہ اگر ان لوگوں کو کچھ بھی مہلت دی گئی تو اتنے بڑے گناہ کے ہوتے ہوئے ان سے قصاص لینے میں تاخیر کرنے سے خلفاء کے خون کی قدر و قیمت گھٹ جائے گی اور روز روز اس قسم کے لوگ خونریزی پر تلے رہیں گے۔” (احیاء العلوم ص ٩٩ ج١) (جاری ہے)

