پاکستان سے ایران: ففتھ جنریشن وار کی نئی شکل

بھارتی را ایجنٹ اجے کمار بظاہر ایک این جی او (نام نہیں دیا جا رہا) سے وابستہ تھا اور اس کی شناخت ڈاکٹر اجے دتا کے نام سے تھی۔ یہ این جی او پسماندہ دیہات میں صاف پانی کے کنویں کھودنے کا کام کرتی تھی مگر اندرونِ خانہ یہ ایسا جال تھا جس کے لنکس لندن کے اکاؤنٹنٹ سے لے کر باکو (آذر بائجان) کے ایک پُراسرار شخص تک پھیلے تھے۔ اجے کمار نے محض چھ ماہ میں درجنوں مقامی رضا کار بھرتی کیے۔ وی لاگر، کوئی مترجم، کوئی ہمدرد سماجی کارکن۔ ہر شخص کو لگتا تھا کہ وہ انسانیت کی خدمت کر رہا ہے جبکہ درحقیقت وہ انڈیا کے لیے کام کر رہا تھا۔ باکو میں واقع ایک گودام جو کاغذوں میں اس این جی او کا امدادی ذخیرہ گاہ تھا دراصل ایک ہائی فریکوئنسی ڈیٹا سرور کا خفیہ دفتر تھا۔ اجے نے یہاں وہ جدید ترین آرٹیفیشل ٹیکنالوجی نصب کی تھی جو ہر روز ہزاروں سوشل میڈیا پوسٹس اسکین کرتی اور ان سے لوکیشن ٹیگ، مخصوص جملے، مخصوص ڈکشن اور اموشنل لینگویج کے پیٹرنز نکالتی۔ یہی پیٹرن انڈیکس اس قابل بناتے تھے کہ سوشل میڈیا پر سرگرم عناصر کی اصل شناخت اور مقام معلوم کیا جا سکے۔ اسی تکنیک سے ‘بی ایل اے’کے میڈیا سیل میں موجود چیچن آئی ٹی ماہر یوسف تاشیف کا پتہ چلا۔ ایک ایسا شخص جو مبینہ طور پر پاکستان کے ایک ہمسایہ ملک کے پاسپورٹ پر استنبول آتا جاتا رہا اور جو بیک وقت معلومات بھی فراہم کرتا تھا اور جدید اسلحے کی سپلائی کا اہم ذریعہ بھی۔

مارچ 2024ء میں ترکیہ کی بندرگاہ سے ایک شپنگ کنٹینر روانہ ہوا۔ کاغذوں میں درج تھا زرعی ڈرپ آلات۔ حقیقت میں یہ ایک خاص قسم کے سٹنگر میزائل کے الگ الگ پرزے تھے جنہیں کاٹ کر نئی پیکنگ میں چھپایا گیا تھا۔ اجے نے این جی او کے نام پر ہیومن ڈویلپمنٹ مشن کے دستاویزات تیار کیے اور تین جعلی افغان ڈرائیوروں کے ذریعے یہ کنٹینر زاہدان تک پہنچایا۔ اگلا مرحلہ کنٹینر کو بلوچ اسکریپ کے نام پر تربت کے ایک خفیہ ورکشاپ میں منتقل کرنا تھا، جہاں ان پرزوں کو فائرنگ میکانزم کے ساتھ اسمبل کیا جانا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اگر یہ تجربہ کامیاب ہوتا تو اگلا ہدف خدانخواستہ پاک نیوی کے ساحلی ریڈارز ہوتے جنہیں تباہ کرنامقصد تھا۔ پاکستانی پریمئر ایجنسی کے سائبر ونگ کو جب چیچن نیٹ ورک کی سرگرمیوں میں غیرمعمولی اضافہ دکھائی دیا تو اس نے ترکی کی خفیہ ایجنسی سے رابطہ کیا۔ ترک ایجنسی نے مرسین بندرگاہ سے نکلنے والے مشکوک کنٹینرز پر RFID ٹریکرز نصب کرنا شروع کیے۔ چار اپریل کی صبح وہی کنٹینر جب پاک ایران آذر بائیجان کی سرحدی حدود کے قریب پہنچا تو اچانک سیٹلائٹ لنک منقطع ہوگیا۔ اجے نے گاڑی رکوائی، کچھ لمحے گہری سانسیں لیں پھر جونہی ڈرائیور کی جانب مڑا، چاروں اطراف سے دھواں اور دھند کی آڑ میں کمانڈوز برآمد ہوئے۔ کچھ کے کندھوں پر سبزہلالی نشان، کچھ کے بازو پر ترک ستارہ اور فضا میں ایک واضح آواز گونجی، اجے کمار ڈراپ یور سیٹلائٹ فون۔ اجے نے لمحہ بھر کو ہچکچاہٹ دکھائی، پھر اپنی جیب سے سیٹلائٹ فون نکال کر زمین پر رکھ دیا۔ اسے پہلی بار لگا کہ یخ بستہ ہوا بھی پسینے میں بھیگ سکتی ہے۔ وہ جانتا تھا، کھیل ختم ہو چکا ہے۔

اجے کمار کی گرفتاری نے کئی پردے چاک کیے۔ خفیہ اداروں کی مشترکہ تفتیش سے جو حقائق سامنے آئے وہ خطے کی تزویراتی منظرنامے کو لرزا دینے کے لیے کافی تھے۔ باکو میں پائے جانے والے 400سے زائد جعلی بلوچ اور چیچن اکاؤنٹس کا ڈیٹا بیس مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، جس سے را کا علاقائی پروپیگنڈا نیٹ ورک مفلوج ہو گیا۔ مرسین سے زاہدان اور پھر تربت تک کی اسلحہ اسمگلنگ کی راہداری بند ہو گئی۔ دہلی اور لندن کے بینک چینلز میں موجود فنڈنگ نیٹ ورک کو منجمد کیا گیا اور یوسف تاشیف کی دوہری شناخت بے نقاب کر کے اسے بین الاقوامی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ اجے کے لیپ ٹاپ اور ڈرائیوز سے برآمد ہونے والا ڈیٹا ثابت کرتا تھا کہ وہ صرف پروپیگنڈا یا ہتھیاروں تک محدود نہیں تھا۔ اس کے پاس ایسے AI الگورتھمز تھے جو ممکنہ احتجاجی نعروں اور مظاہروں کی پیشگوئی کر کے ان کے لیے پہلے سے ویڈیو مواد تیار کرتے تھے، جو بعد میں سوشل میڈیا پر آرگینک تحریک کے لیبل کے ساتھ وائرل کیے جاتے۔ یہ مواد خاص طور پر بلوچستان، خیبرپختونخوا اور قفقاز میں ہدف بناکر پھیلایا جاتا تھا۔

یہ وہ کہانی ہے جو بعض سوشل میڈیا پیجز پر وائرل ہے۔ پروپاکستان اور پرو ملٹری اکاونٹس بھی اسے چلا رہے ہیں۔ ممکن ہے کوئی اسے نہ مانے مگر مجھے تو اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ قرین قیاس اور جو اس وقت انٹرنیشنل کانسپرینسی پیٹرن سامنے آرہے ہیں، ان کے عین مطابق ہے۔ دراصل آج کل کئی ممالک میں این جی اوز بطور کور استعمال ہو رہی ہیں۔ زیادہ تر بظاہر ان این جی اوز کا استعمال ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کے لئے ہے مگر درحقیقت یہ مختلف نوعیت کی ریکروٹنگ اور ڈیٹا کولیکشن کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ ایسے کئی پیٹرن ایک زمانے میں چین نے بے نقاب کئے، پھر ترکی میں بھی اسی نوعیت کی سازشیں کی گئیں۔ طیب اردوان حکومت نے اسی لیے اپنے قوانین سخت کئے اور این جی اوز کو انویسٹی گیشن کی چھلنی سے گزارا۔ ایران اسرائیل جنگ میں بھی ایرانی حکومت کو پتہ چلا کہ بہت سا گند اسی نوعیت کی این جی اوز نے پھیلا رکھا تھا اور مبینہ طور پر ان میں سے کئی انڈین اوریجن کی تھیں۔

یہ این جی اوز زیادہ تر سرحدی اور تنازع زدہ خطوں میں سرگرم ہوجاتی ہیں۔ ہر این جی او ایسی نہیں ہوتی۔ بہت سی شاندار کام بھی کر رہی ہیں مگر خطرہ وہ این جی اوز ہیں جن کے پیچھے کوئی اور ہے۔ ایسی این جی اوز ڈیٹا ایکسس اور نیٹ ورک ریچ کے لئے ہوتی ہیں نہ کہ براہ راست آپریشن کے لیے۔ یہ بھی اہم پہلو ہے کہ ایسے معاملات میں لاعلم رضاکار انوالو ہوتے ہیں۔ جدید انٹیلی جنس میں وی لاگر، مترجم، ڈیجیٹل ایکٹوسٹس کو اکثر بغیر بتائے ڈیٹا چین کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ یہ لوگ خود کو کارکن سمجھتے ہیں، ایجنٹ نہیں۔ یہی پہلو فکشن کو حقیقت کے قریب بناتا ہے۔ سوشل میڈیا پیٹرن اینالیسس میں زبان، پوسٹنگ اوقات اور نیٹ ورک لنکس سے behavioral profiling ممکن ہے۔ اسرائیل نے اسی طرح کا کام لبنان میں حزب اللہ کے خلاف دکھایا۔ ملٹی کنٹری نیٹ ورکس بھی آج حقیقت ہے۔ ماڈرن سپائی ورلڈ میں ایک ملک میں بھرتی، دوسرے میں فنڈنگ، تیسرے میں ڈیجیٹل آپریشن عام ہے۔ اس کا مقصد اپنے اوپر لگے الزام دھندلانا اور براہِ راست ثبوت سے بچناہے۔ ماڈرن ففتھ جنریشن وار میں اسلحہ سے زیادہ اہمیت بیانیہ کی ہے۔ اسی لیے اب اسلحہ کے ساتھ ساتھ نیریٹو یعنی بیانیہ بھی سمگل ہوتا ہے۔ حقیقت میں بھاری ہتھیاروں سے زیادہ بیانیے، ویڈیوز، ٹرینڈز اسمگل ہوتے ہیں۔ یہ کم لاگت، زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ ایک وائرل ہیش ٹیگ، ایک جعلی گراس روٹ تحریک ہی اصل خطرہ ہے۔

انٹیلی جنس کوارڈینیشن اصل میں ہوتا ہی خاموش اور غیرفلمی ہے۔ اداروں کے درمیان خاموش معلوماتی تبادلہ ہوتا ہے اور اکثر دشمن کے نیٹ ورک کو اسی سے توڑا جاتا ہے۔ بعض اوقات مشترکہ کمانڈوز کے آپریشن ہوتے ہیں مگر ایسی کامیابیوں کو شاذونادر ہی پبلک کیا جاتا ہے۔ عوام بے خبر رہتی ہے، حتی کہ بیس تیس سال بعد کہیں کسی نے کوئی کتاب لکھ دی یا کچھ معلومات ڈی کلاسیفائیڈ ہوگئیں۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے بیانیہ سازی ہی ابھرتا ہوا حقیقی خطرہ ہے۔ آج اے آئی سے ٹرینڈ بن رہے ہیں، جذبات بھڑکائے جاتے ہیں۔ لوگوں کو گمراہ کیاجاتا ہے۔ تاہم ظاہر ہے اس کی کچھ محدودات ہیں۔ احتجاج کی سو فیصد پیشگوئی، مکمل سماجی کنٹرول ابھی ممکن نہیں۔ خطرہ مطلق کنٹرول نہیں بلکہ رفتار اور حجم ہے۔ یہ سٹوری تو پاکستان سے متعلق ہے مگر ترکی میں چند سال پہلے ایسا ہی ہوچکا ہے۔ وہاں تو ایک بڑی سازش رچائی گئی جس کے تحت ناکام فوجی بغاوت بھی ہوئی، ایک ترک دینی نیٹ ورک نے ہر شعبے میں بہت کام کر رکھا تھا، قریب تھا کہ یہ سازش ناکام ہوجاتی مگر قدرت نے اور پھر ترک عوام کے جذبے نے اسے شکست دی۔

پاکستان میں بھی ایسی کئی سازشیں ناکام ہو چکی ہیں۔ ہمارے ادارے نہایت مستعدی سے اس کام میں جتے ہوئے ہیں، البتہ اب ضرورت ہے کہ عوام، میڈیا اور اہل قلم بھی ان کا بھرپور ساتھ دیں، تب ہی جا کر کہیں یہ ففتھ جنریشن وار جیتی جا سکتی ہے۔ ایران آج کل اس ففتھ جنریشن وار کا نیا ہدف ہے۔ ہم پچھلے کئی دنوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح وہ مغرب جو غزہ میں ہزاروں فلسطینی بچوں، خواتین اور بزرگوں کی شہادت پر خاموش رہا، اچانک ہی اسے شدید تکلیف شروع ہوگئی۔ وہ صدر ٹرمپ جنہوں نے مسکراتے ہوئے غزہ میں ہزارہا فلسطینی شہید کرا لیے، اب انہیں مسئلہ ہے کہ مساجد اور گاڑیوں اور عمارتوں کو آگ لگانے والے دہشت گردوں پر ایرانی پولیس سختی نہ کرے۔ ففتھ جنریشن وار فیئر کے جتنے ہی ماڈل ہیں وہ سب بیک وقت ایران میں بروئے کار ہیں۔ اللہ پاک مغربی عالمی قوتوں اور ان کے آلہ کار اسرائیل کو ناکام بنائے اور ہر مسلمان ملک کو محفوظ رکھے، آمین۔ یہ وقت البتہ محتاط رہنے کا ہے، آنکھیں کھول کر جینے کا ہے۔